ملک میں زائدقیمتوں کے باعث2ماہ میں ریکارڈایل پی جی درآمد

پاکستان میں درآمدی ایل پی جی کا اسٹینڈرڈ 30 فیصد پروپین اور 70 فیصد بیوٹین کے مرکب پر مشتمل ہے،ذرائع


Business Reporter March 06, 2016
پاکستان میں درآمدی ایل پی جی کا اسٹینڈرڈ 30 فیصد پروپین اور 70 فیصد بیوٹین کے مرکب پر مشتمل ہے،ذرائع فوٹو: فائل

ISLAMABAD: ملک میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس سے زائد پیداواری قیمتوں کے سبب جنوری اور فروری 2016 کے دوران مجموعی طور پر60 ہزار ٹن ایل پی جی درآمد کی گئی جو ریکارڈ ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ معیارکی جانچ پڑتال نہ ہونے سے غیرمعیاری ایل پی جی کی درآمد بڑھ رہی ہے، مخصوص درآمدکنندگان زائد بدبوداراورکم حرارتی استعداد کی حامل غیرمعیاری ایل پی جی انتہائی سستی منگوا کر مہنگے داموں فروخت سے ناجائز منافع خوری کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں درآمدی ایل پی جی کا اسٹینڈرڈ 30 فیصد پروپین اور 70 فیصد بیوٹین کے مرکب پر مشتمل ہے، چونکہ پروپین کی عالمی قیمت بیوٹین سے انتہائی زائد ہے اس لیے انتہائی کم پروپین ملی ایل پی جی درآمد کی جا رہی ہے جس کا خمیاہ عام صارف برداشت کررہا ہے جسے روزمرہ استعمال کے لیے دگنی ایل پی جی استعمال کرنی پڑرہی ہے۔

ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین محمد علی حیدر نے ''ایکسپریس'' سے گفتگو میں زور دیا کہ اوگرا غیرمعیاری ایل پی جی کی درآمد روکنے کے لیے تمام کنسائمنٹس کی کسٹم کلیئرنس فوری طور پر تھرڈ پارٹی لیب ٹیسٹ رپورٹ سے مشروط کر دے۔ انھوں نے بتایا کہ خام وریفائن پٹرولیم مصنوعات کی عالمی ومقامی قیمتوںکے تناظر میں رواں ماہ مقامی پروڈیوسرز نے ایل پی جی کی قیمت 4500 روپے فی ٹن کم کی جو خوش آئند ہے کیونکہ اس سے ایل پی 60 تا65 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔

انھوں نے کہاکہ مارچ میں ایل پی جی کی عالمی قیمت 305 ڈالر سے گھٹ کر290 ڈالر علاوہ ٹیکسز رہ گئی، عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پاکستان میں خوردہ قیمت مقرر کی جائے تودرآمدی ایل پی جی 45 روپے کلو ہونی چاہیے، پاکستان میں ایل پی جی کا سب سے زیادہ استعمال دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں کیا جارہا ہے جہاں قدرتی گیس میسر نہیں، ان صارفین کو مقامی پروڈیوسرز اور مخصوص درآمدکنندگان بری طرح لوٹ رہے ہیں۔

مقبول خبریں