پٹرول کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی

قیمتوں میں کمی سے ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 170 جب کہ کمرشل سلنڈر 780 روپے سستا ہو گیا


Editorial March 07, 2016
بار بار قیمتوں میں رد و بدل سے ناجائز منافع کمانے والوں کو اشیاء ضروریہ کی من مانی قیمتیں مقرر کی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے فوٹو: فائل

پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کے بعد صارفین کے لیے ایل پی جی (لیکویڈ پٹرولیم گیس) کی قیمت میں 15 روپے فی کلوگرام کمی کی صورت میں ایک اور خوش خبری صارفین کو دی گئی ہے جس کے بعد مایع گیس کی خوردہ قیمت دس سال پرانی سطح پر واپس آ گئی ہے۔ قیمتوں میں کمی سے ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 170 جب کہ کمرشل سلنڈر 780 روپے سستا ہو گیا جو کہ یقیناً خاصی نمایاں کمی ہے جس سے صارفین کو بہت ریلیف میسر آئے گا۔

بتایا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ایل پی جی کی بہت زیادہ قیمت گرنے کی وجہ سے مقامی پیداواری اداروں اور ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی قیمت کم کر دی ہے۔ مائع گیس کی قیمتوں میں اتنی نمایاں کمی کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کمی کا اثر دیگر اشیائے ضرورت پر بھی پڑنا چاہیے اور ہمارے ذمے دار سرکاری اداروں کو اس کا خیال کرنا چاہیے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں15 سال بعد قیمتیں ریگولیٹ ہوئی ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات اور گیس وغیرہ کی قیمتوں میں بار بار رد و بدل کے بجائے کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ قیمتوں کا تعین سالانہ بجٹ کے موقع پر ایک ہی بار کیا جائے تا کہ تمام اشیائے ضرورت کی قیمتیں سال بھر مستحکم رہیں۔ اگر عالمی سطح پر قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومت خود خسارہ برداشت کرے اور کمی کی صورت میں اضافی رقم سرکاری خزانے میں جمع رکھے تاکہ اسے بوقت ضرورت استعمال میں لایا جا سکے۔ یہ اس وجہ سے بھی لازم ہے کہ بار بار قیمتوں میں رد و بدل سے ناجائز منافع کمانے والوں کو اشیاء ضروریہ کی من مانی قیمتیں مقرر کی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے جب کہ ہمارے ملک میں قیمتوں کے استحکام کا کوئی موثر نظام نہیں ہے۔