دہشتگردوں کو فنڈنگ اصل سپلائی لائن

دہشتگردوں کو غیرملکی فنڈز روکنے کے لیے حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ فنڈنگ اصل سپلائی لائن ہے


Editorial March 10, 2016
عوام میں یہ شعور بھی بیدارکیا جانا چاہیے کہ وہ ضرور اس ضمن میں تسلی کرلیں کہ ان کے عطیات کا درست استعمال ہورہا ہے یا نہیں فوٹو؛ پی آئی ڈی

وزیراعظم نوازشریف نے ایک بار پھر ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کو دہرایا ہے، وہ گزشتہ روز قومی سلامتی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف،وزیرداخلہ سمیت دیگر سینئر حکام شریک تھے۔ سوال سادہ سا ہے کہ وزیراعظم کو دہشتگردی کے خاتمے کی بات دہرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، جب کہ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے۔

اس بات کا پس منظر یہ ہے کہ ہم ایک دہائی سے دہشتگردی کے خلاف نبرد آزما ہیں، ریاست حالت جنگ میں ہے،داخلی سلامتی کے مسائل کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت حل کرنے کی سعی کی جا رہی ہے،دہشتگردی نے ایک عفریت کی صورت اختیار کرلی، اس کا ایک سر کچلا جاتا ہے تو دوسرا تیار ہوتا ہے حملہ کرنے کے لیے ، دوسرا کچلا جائے تو تیسرا ...الغرض یہ سلسلہ جاری ہے ۔اپنوں اورغیروں نے برسوں قبل جو بیج بوئے تھے، ہم اس کی زہریلی فصل آج کاٹ رہے ہیں ۔

اس فصل کی کٹائی کے دوران وطن عزیزکے عوام نے ساٹھ ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے ۔امریکی صدر بارک اوباما کچھ عرصہ قبل پاکستان میں مزید کئی برسوں تک دہشتگردی جاری رہنے کی پیش گوئی کرچکے ہیں ۔عالمی سازشیں اپنی جگہ جاری ہیں ، لیکن کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ وطن عزیز پر جان نچھاورکرنے والے پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے جذبہ شہادت میں کوئی کمی آئی ہے؟

پاکستانی عوام کے عزم میں کوئی کمی آئی ؟ جواب نفی میں ہے ، اہم خبر آئی ہے کہ پاک فوج نے پاک افغان سرحد کے قریب اہم چوٹیوں اور دروں کا کنٹرول سنبھال لیا جب کہ شوال کے علاقوں میں زمینی اور فضائی کارروائی کرکے اکیس دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ دہشتگردوں کا پیچھا ان کے بلوں تک کیا جا رہا ہے ۔ پاک فوج اپنا کام کر رہی ہے اب یہ پاکستانی عوام پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے ذرایع آمدن کو محدود کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ، یہ تنظیمیں مختلف سرگرمیوں کے لیے چندہ اکٹھا کرتی اور اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

سادہ لوح عوام صدقہ وعطیات دینا اپنا دینی فرض سمجھتے ہیں ، لیکن ان کا یہ پیسہ دہشتگردی کے لیے استعمال ہوجاتا ہے ، عوام میں یہ شعور بھی بیدارکیا جانا چاہیے کہ وہ ضرور اس ضمن میں تسلی کرلیں کہ ان کے عطیات کا درست استعمال ہورہا ہے یا نہیں۔جو ادارے حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کر رہے ہیں ان کو ہی صرف عطیات دیے جائیں ۔

دہشتگردوں کو غیرملکی فنڈز روکنے کے لیے حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ فنڈنگ اصل سپلائی لائن ہے جو اگر منقطع کردی جائے تو وہ 'ریاست' کے خلاف جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہیں گے، ویسے بھی ان کے ناپاک مقاصد کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ کیونکہ پوری قوم ان کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہو رہی ہے۔یہی ہمارا عزم ہے۔