قائد کا پاکستان
سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا اس وقت بیڑا اٹھایا جب زمین مسلمانوں پر تنگ تھی۔
ایم کیو ایم نے قائد اعظم کا پاکستان کے حق میں عوام سے رائے مانگی تو مذہبی انتہا پسندوں اور طالبان نے ایم کیو ایم کو عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی دیدی۔ طالبان کے ترجمان نے قوم پرست اور مذہبی تنظیموں سے کہا کہ وہ کراچی کے عوام کو ایم کیو ایم سے نجات دلانے کے لیے تعاون کریں یوں عالمی نشریاتی اداروں کو مستقبل میں کراچی کی صورتحال کے بارے میں مزید خدشات پیدا ہوگئے۔
ایم کیو ایم نے قائد اعظم کے ارشادات کے حوالے سے ایک اصولی موقف اختیار کیا، اب تمام جمہوری قوتوں اور دوسروں کے عقائد کا احترام کرنیو الی مذہبی تنظیموں پر ذمے داری عائد ہوگئی کہ وہ مذہبی انتہا پسندی کے اس رجحان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ پاکستان کی تاریخ سرسید احمد خان، علامہ اقبال اور محمد علی جناح کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا اس وقت بیڑا اٹھایا جب زمین مسلمانوں پر تنگ تھی اور انگریز مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے۔ سرسید نے مسلمانوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔
انھوں نے 1863میں یوپی کے شہر غازی پور میں ایک سائنٹیفک سوسائٹی بنائی تا کہ مغربی علوم کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ غازی پور میں ہی انھوں نے ایک اسکول قائم کیا جس میں انگریزی تعلیم دی جاتی تھی۔ علی گڑھ میں ایم اے او کالج قائم کیا، سرسید مغربی طرز فکر کے حامی تھے انھوں نے اپنا نصب العین کتابوں سے تیار نہیں کیا بلکہ اس کے پیچھے ان کا 30 سال کا وسیع تجربہ اور ہندوستان کے معروضی حالات کا گہرا مطالعہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان توہم پرستی کو اصلی اسلام سمجھ کر مولویوں کے پیچھے بھاگیں گے تو وہ بدستور ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ ممتاز مورخ سید سبط حسن نے اپنی کتاب نوید فکرمیں تحریر کیا ہے کہ سرسید کی سوچ سیکولر تھی، وہ دینی امور کو دنیاوی امور سے الگ کر کے دیکھتے تھے۔
سر سید کے مضامین رسالہ تہذیب الاخلاق میں شایع ہونے لگے تو رجعت پسند حلقوں میں کہرام مچ گیا اور سرسید کو کافر اور دجال قرار دیاجانے لگا۔ سرسید کے بعد علامہ اقبال نے ان کی فکر کو آگے بڑھایا، علامہ اقبال نے 1930میں الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں اپنے خطبے کواس جملے پر ختم کیا کہ ہندوئوں کو ڈرنا نہیں چاہیے جس کا مطلب یہ ہے کہ خودمختار ریاستوں کے قیام سے مذہبی ریاستوں کے قیام کے امکانات پیدا ہونگے، قائد اعظم کی ساری زندگی جدید طرز زندگی پر عمل کرنے پر گزری۔ ان کی زندگی پر پارسی رہنما دادا بھائی نوروجی کا گہرا اثر تھا، محمد علی جناح قوم پرست رہنما تلک اورگوکھلے سے متاثر تھے۔ اور ان کی سب سے زیادہ عزت کرتے تھے، گوکھلے ان کے مربی اور آدرش تھے، گھوکھلے کے ساتھ جناح نے کانگریس کو طاقتور جماعت بنانے اور آئینی اصلاحات کے لیے لگاتار کوشش کی۔ وہ گوکھلے کے سیکولر نظریے سے متاثر تھے۔
جب ایک برطانوی جج جسٹس ڈاور نے قوم پرست رہنما تلک کو 6 سال قید کی سزا سنائی جس پر برطانیہ نے جسٹس ڈاور کو سر کا خطاب دیا۔ ممبئی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس ڈاور کے اعزاز میں ڈنر دینے کا فیصلہ کیا اور بار کے اراکین نے اس ڈنر میں شرکت کے لیے سرکلر کے ذریعے منظوری طلب کی تو قائد اعظم نے جسٹس ڈاورکے خلاف سخت تحریری نوٹ جاری کیا اس طرح جناح صاحب نے ممبئی رول لیگ کے رہنمائوں کے ساتھ مل کرانگریز وائسرائے کے خلاف تحریک چلا دی، جناح کی شخصیت اتنی مشہور ہوئی ان کی خدمات کے اعتراف میں کانگریس کمپائونڈ میں جناح میموریل ہال تعمیر کیا، جناح صاحب کو فرقہ پرستی سے نفرت تھی اور وہ فرقہ پرست سیاست سے نفرت کرتے تھے۔
انھوں نے 1906میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار نہیں کی، محمد علی جناح 1925 میں پوسٹل یونین کے صدر بنے جس کے ممبران کی تعداد 7 ہزار تھی وہ 1936 میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے انھوں نے رولٹ بل کی مخالفت کی اور امپیریل مجلس قانون ساز سے استعفیٰ دے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں متحدہ ہندوستان کا بے تاج بادشاہ قرار دیا گیا۔ محمد علی جناح پارسی لڑکی رتی کی محبت میں گرفتار ہوئے۔ انھیں رتی سے شادی کے لیے عدالت کے فیصلے کے تحت ایک سال انتظار کرنا پڑا۔ وہ اس عرصے میں رتی سے نہیں ملے پھر ہندوستان کی امیر ترین لڑکی صرف ایک ساڑھی پہنے ہوئے جناح کے ہاتھ میں ہاتھ دیے اپنے باپ کے محل سے نکلی اور شادی کر لی۔
رتی جناح پردہ نہیں کرتی تھیں۔ جناح صاحب کے شانہ بشانہ سیاسی جلسہ جلوسوں میں حصہ لیتی تھیں۔ جب رتی کا انتقال ہوا تو جناح کی چھوٹی بہن فاطمہ ان کے ساتھ متحرک ہو گئیں جب انگریز حکومت نے کم سن بچیوں کی شادی کے موقعے پر پابندی کا قانون نافذ کیا تو ہندو مذہبی رہنمائوں کے ساتھ مسلمان مولوی نے اس قانون کی مخالفت کی، جناح وہ مسلمان رہنما تھے جنہوں نے اس قانون کی بھرپور حمایت کی۔ محمد علی جناح نے خلافت تحریک کی مخالفت کی تھی وہ اس تحریک کو منفی مذہبی جنون قرار دیتے تھے جس سے ہندوستان کا کوئی بھلا ہونے والا نہیں تھا۔ اس سے ہندوستانی سماج یقینی طور پر تقسیم ہوتا تھا، انھوں نے 1918 میں دہلی میں منعقدہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ خلافت تحریک میں شریک نہ ہوں وہ گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون اور روحانیت کو سیاست سے ملانے کے مخالف تھے اس بناء پر انھوں نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کر لی۔
قائد اعظم نے جب مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی تو ان کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے لیے ایک جدید ریاست قائم کرنا تھا۔ قائد اعظم کیونکہ مذہبی تعصب پر یقین نہیں رکھتے تھے اس نے پاکستان کی پہلی کابینہ میں ایک قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ اور وزیر قانون ایک ہندو رکن اسمبلی کو بنایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ محمد علی جناح عوام کے سامنے دودفعہ روئے۔ ایک اس وقت جب رتی کو ممبئی کے قبرستان کی قبر میں اتارا جا رہا تھا دوسری بارآزادی کے وقت وہ کراچی میں فساد کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اچانک رو پڑے۔ گورنر جنرل محمد علی جناح نے 1947 میں 11 اگست کو آئین ساز اسمبلی کے سامنے اپنا تاریخی خطبہ پڑھا تو انھوں نے کہا ''آپ اپنے مندروں میں، مسجدوں یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات، نسل سے ہو ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں اور آپ سب ایک آزاد ریاست میں برابر کے حقوق رکھنے والے شہری ہیں۔''
پاکستان کی تاریخ کے خطرناک موڑ سے گزر رہا ہے ایک طرف مذہبی انتہا پسند قوتیں ہیں دوسری طرف وہ قوتیں ہیں جو سرسید، اقبال اور جناح صاحب کے نظریات کے مطابق اس ملک کی تشکیل نوکرنا چاہتی ہیں، ایم کیو ایم نے اس ضمن میں تاریخی کردار ادا کر کے باقی سیاسی جماعتوں کے لیے مشعل روشن کی ہے، جمہوری قوتوں اور ان مذہبی قوتوں کو جو مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایم کیو ایم کے ریفرنڈم کی حمایت کرنا چاہیے۔