’’پاک ایران ترکی چائنہ کلچرل فیسٹیول عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا

بہاربیگم، اعجازدرانی، سیدنور، چوہدری اعجازکامران، فیاض خان، جونی ملک اورقیصرثناء اللہ کی فیسٹیول میں شرکت


Qaiser Iftikhar November 10, 2012
لاہور: پاک ایران چائینہ ترکی کلچرل فیسٹیول میں اداکار اعجاز درانی،بہار بیگم،سید نور،چوہدری اعجاز کامران،جونی ملک،قیصر ثنااللہ علی رضاء رضوی،مرزیہ رفیع،مہر درست،نصرت عرب،جوادمحسن ،فوزیہ اور منیر احمد اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ فوٹو : فائل

لاہورمیں جاری چارملکی کلچرل فیسٹیول مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی توجہ کا مرکزبنا ہوا ہے۔

گلوبل کلچراینڈ ہیری ٹیج فائونڈیشن کے زیراہتمام الحمراء آرٹ گیلری میں جاری میلے میں ایران، چائنہ، ترکی اورپاکستان کی ثقافت کواجاگرکرتے ہوئے ملبوسات، برتن، گلدان، ہینڈ بیگ، کتب، فلموں سمیت دیگراشیاء کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے جب کہ چاروں ممالک کے کلچر پربنائی گئیںشاہکارفلمیں بھی نمائش کے لیے پیش کی جارہی ہیں۔ آرٹ گیلری میں نمائش کے لیے چاروں ممالک کے اسٹالزلگائے گئے ہیں اوریہ نمائش 11نومبرتک جاری رہے گی۔ تفصیلات کے مطابق ' پاک، ایران، ترکی، چائنہ کلچرل فیسٹیول ' میں پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف شخصیات جن میں اداکارہ بہاربیگم، اعجازدرانی، سیدنور، چوہدری اعجازکامران، فیاض خان، جونی ملک اورقیصرثناء اللہ شامل تھے۔ اس موقع پرفلمی وفد نے الحمراء آرٹ گیلری میں اسٹالزپررکھی گئی اشیاء دیکھیں اورہنرمندوں کے کام کوخوب سراہا۔ ''ایکسپریس''سے گفتگوکرتے ہوئے فلمی وفد کا کہنا تھا کہ یہ بہت عمدہ کاوش ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

یہاں پرآنے کے بعد ہمیں ایران، ترکی اورچائنہ کی ثقافتوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ اسٹالز پر رکھے گئے ملبوسات، ڈیکوریشن پیس، تانبے کے برتن، پینٹنگز، تصاویر اورکھانے پینے کی اشیاء اپنے اپنے ملک کے خوبصورت کلچرکی عکاسی کررہی ہیں۔ ایک طرف یہاں فلمیں رکھی گئی ہیں تودوسری جانب بہترین مصنفین کی کتب بھی نمائش کا حصہ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ہی چھت کے نیچے چارعظیم ملکوں کی ثقافت کی ایک اگرمختصر سی مگربہت ہی عمدہ جھلک دیکھنی ہوتواس نمائش کو نہ دیکھنے والے یہ سنہری موقع ضایع کردینگے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اگراسی طرح کے فیسٹیولز کا انعقاد ہوتارہے توجہاں پاکستان کے اپنے پڑوسی اوردوست ملکوں سے تعلقات مستحکم ہونگے وہیں لوگوںکو بھی ایک اچھی اورمعیاری تفریح سے مستفید ہوسکیں گے۔ جب کہ نوجوان نسل کو ایسے فیسٹیولز میں ضرورشرکت کرنی چاہیے اس کے ذریعے ان کو خاصی معلومات مل سکے گی۔ دوسری جانب خانہ فرہنگ ایران سے تعلق رکھنے والے فیسٹیول کے آرگنائزر علی رضارضوی ، مرزیہ رفیع، مہردست، نصرت عرب، جوادمحسنیاں، فوزیہ اور منیر احمد نے کہا کہ چارملکی کلچرل فیسٹیول کے انعقاد کا بھرپوررسپانس سامنے آیا ہے۔

لوگوں کی بڑی تعداد الحمراء آرٹ گیلری کا دورہ کررہی ہیں اور یہاں رکھی گئیں اشیاء دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ اس نمائش کے ذریعے جہاں لوگوںکوچاروں ممالک کے کلچر بارے جاننے کا موقع مل رہا ہے وہیں ایران، ترکی، چائنہ اورپاکستان میں ہونے والی ترقی کے مناظرتصویروں کے ذریعے پیش کیے گئے ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ فیسٹیول میںجہاں ہم ثقافت کو اجاگرکرسکیں وہیں چاروں ملکوں سے تعلق رکھنے والے ہنرمندوں کے تیارکردہ مختلف نمونے بھی لوگوںکو دکھائے جائیں۔ دو روز کے دوران لوگوںکی بڑی تعداد الحمراء آرٹ گیلری میں آئی ہے اورہماری اس کاوش کوبہت سراہاہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ آیندہ بھی اس طرح کے کلچرل فیسٹیولز کا انعقاد ہوتارہے۔ جس سے دوست ممالک کے تعلقات مزید مستحکم اورمضبوط ہوسکیں۔