فریب کی دنیا

نوجوان اپنی تشہیر اور تعریف کے لیے جعل سازی کا سہارا لینے لگے


March 14, 2016
نوجوان اپنی تشہیر اور تعریف کے لیے جعل سازی کا سہارا لینے لگے ۔ فوٹو : فائل

سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے جہاں لوگ خود اپنی مرضی کے مطابق جس طرح کا چاہیں بنا کر پیش کر سکتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی سائٹس پر یوزرز اپنے آپ کو نہایت پُرکشش روپ میں سامنے لانے کے قابل ہیں۔ اور یہ سب ممکن ہوا ہے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی مدد سے تصاویر میں کیے جانے والے ردوبدل اور جوڑتوڑ کے ذریعے۔

اس عمل میں اسمارٹ فونز بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جن کی بہ دولت یہ دور سیلفیز کا دور بن گیا ہے۔ سیلفی لوگوں کے لیے خود کو اپنے دوستوں، خاندان اور اجنبیوں کے سامنے پیش کرنے کا ایک طریقہ بن کے سامنے آئی ہے۔

ایک سروے کے مطابق انسانی چہروں کی تصاویر دیگر چیزوں کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر 38 فی صد زیادہ لائیکس حاصل کرتی ہیں۔ تصاویر کے حوالے سے ٹولز بنانے والے یہ جان چکے ہیں کہ شیئر کی جانے والی تصاویر کس طرح ایک کام یاب اور منافع بخش صنعت میں بدل سکتی ہیں۔ اس وجہ سے ہر سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم اس عمل کو فروغ دیتا ہے کہ لوگ اپنی تصاویر شیئر کریں اور انھیں ملنے والے لائیکس کے ذریعے ان کی پسندیدگی جانچیں۔

آج کل خوب صورت یا پُرکشش نظر آنے کے حوالے سے سوشل میڈیا تیزی سے فیصلہ کُن مقام بنتا جارہا ہے، جہاں یوزر کی کسی تصویر کو ملنے والے لائیکس کی تعداد اس کی خوب صورتی اور دل کشی کے ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ روبہ رو ایک دوسرے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے، لیکن اب سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر ملنے والے لائیکس اور کمنٹس ہمیں اپنے بارے میں دوسروں کی رائے سے آگاہ کرتے ہیں، اور ہم میں اپنے بارے میں زیادہ سے زیادہ مثبت اور خوش کُن ردعمل حاصل کرنے کی خواہش بڑھتی جارہی ہے۔

خاص طور پر ان لوگوں کی مثبت رائے حاصل کرنے کی خواہش جن سے ہم حقیقی زندگی میں کبھی نہیں ملے۔اب ہو یہ رہا ہے کہ خاص طور پر نوجوان یوزرز میں تعریف سننے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے اور اس کے لیے وہ فلٹرز وغیرہ کے ذریعے اپنی تصاویر میں مطلوبہ ردوبدل کرکے اپنے خدوخال کو پُرکشش بناکر پیش کرتے ہیں۔ یوں فریب کاری کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ یہ سلسلہ سیلف پروموشن تک محدود رہتا تو ٹھیک تھا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی تشہیر کے لیے جعل سازی کا سہارا لینے لگے ہیں۔

فیس بک استعمال کرنے والے یوزرز یعنی فیس بکرز، انسٹاگرام سے ناتا جوڑے صارفین یعنی انسٹاگرامرز اور ٹوئٹر سے منسلک افراد فلٹر کی مدد سے بنائے گئے اپنے خوش نما اور دل کش امیج اپنے اپنے سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم پر لاتے ہیں جو دنیا بھر میں پھیل جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پوچھنا ٹھیک ہوگا کہ کیا ہم ایک نقلی دنیا میں رہ رہے ہیں؟

اس سلسلے میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق نوجوانوں کہنا ہے کہ سوشل میڈیا انھیں بااختیار بنا رہا ہے۔ جن نوجوانوں سے یہ سروے کیا گیا ان میں سے 65 فی صد کا کہنا تھا کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر آنے والی ان کی سیلفیز ان کا اعتماد بڑھاتی ہیں، جب کہ 40فی صد نوجوانوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ان کا بہترین چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تاہم یہ بہترین چہرہ اکثر اصلی نہیں مصنوعی ہوتا ہے۔

یہ صورت حال ہمیں دعوت فکر دیتی ہے۔ خاص طور پر ماہرین سماجیات اور ماہرین نفسیات کو اس حوالے سے غور کرنا ہوگا کہ ہمارے نوجوان حقیقت اور سچ سے دور اور جھوٹ اور فریب سے قریب ہوتے جارہے ہیں تو معاشرے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟