سندھ کی سیاست کا بھونچال
پاکستان کا کوئی بھی شخص اپنی ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنا سکتا ہے
HYDERABAD:
کراچی کے سابق مقبول میئر اور متحدہ کے سابق کارکن مصطفیٰ کمال نے اپنے ایک دوست انیس قائم خانی کے ساتھ ڈھائی گھنٹے کی پریس کانفرنس میں متحدہ کی قیادت پر سنگین ترین الزامات لگائے اور اپنی نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔ بقول کمال، کمال کی بات یہ ہے کہ اس پارٹی کا کوئی نام نہیں اور اس کا جھنڈا پاکستان کا قومی پرچم ہوگا۔
اس موقف سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات نے غیر معمولی جلدبازی میں پریس کانفرنس کی، لیکن اس پریس کانفرنس میں صحافیوں اور کیمرہ مینوں کا غیر معمولی ہجوم دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس پریس کانفرنس کی کس قدر اہمیت ہے اور اس میں کتنی معنی خیزی ہے۔ مصطفیٰ کمال کی گفتگو کا مرکزی نکتہ الطاف حسین پر لگائے جانے والے وہ الزامات تھے جن کے بارے میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ان الزامات میں کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں الطاف حسین پر اس قسم کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
پاکستان کا کوئی بھی شخص اپنی ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس حوالے سے اگر مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھی انیس قائم خانی نے ایک نئی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے تو یہ کوئی نئی بات ہے، نہ حیرت کی بات ہے۔
مصطفیٰ کمال کے بارے میں ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی میئر کی حیثیت سے ان کی کارکردگی کی تعریف کی جاتی ہے، اس پس منظر میں کسی اور کے مقابلے میں مصطفیٰ کمال کی عوامی پذیرائی کے زیادہ امکانات ہونا ایک فطری بات ہے، لیکن جن شدید شخصی الزامات کی بھرمار کے ساتھ یہ پریس کانفرنس کی گئی اس سے یہ تاثر پیدا ہونا ایک فطری بات ہے کہ اس کانفرنس کا واحد ٹارگٹ الطاف حسین کی ذات تھی۔
اگر کوئی لیڈر کسی سیاسی شخصیت کو اپنا ہدف بناتا ہے تو نہ یہ کوئی حیرت انگیز بات ہے نہ اس میں کوئی انفرادیت تلاش کی جاسکتی ہے، لیکن جس پس منظر میں مصطفیٰ کمال نے فرد واحد کو ٹارگٹ کیا ہے اس کی وجہ سے بعض حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوگیا ہے کہ جو طاقتیں مائنس الطاف ایم کیو ایم کی عرصے سے کوششیں کر رہی ہیں مصطفیٰ کمال کے الزامات ان ہی کوششوں کا ایک زیادہ موثر حصہ ہیں۔
متحدہ نے ملکی سطح پر سیاست کرنے کی کوشش کی لیکن بوجوہ وہ اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوسکی۔ جس کے بعد اسے پھر اردو بولنے والوں کی سیاست کی طرف واپس آنا پڑا۔ اس سیاست کا تعلق سندھ کے شہری علاقوں تک محدود ہے۔ مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی سیاست کو اردو اسپیکنگ تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ چونکہ سندھ کے شہری علاقوں میں صرف اردو اسپیکنگ ہی نہیں رہتے بلکہ دوسری زبانیں بولنے والے، دوسری قومیتوں سے تعلق رکھنے والے بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں لہٰذا شہری سیاست کا مقصد شہروں میں رہنے والے تمام لوگوں کے مسائل حل کرنا ہی ہوگا، جو ایک مثبت بات ہے۔
اس حوالے سے سندھ کے قوم پرست دوستوں کی سیاست پر ایک نظر ڈالنا بھی ضروری ہے۔ 1947 میں جب تقسیم کے بعد نیا ملک پاکستان بنا تو اس تقسیم نے نہ صرف انسانوں کو تقسیم کردیا بلکہ انسانوں کے درمیان نفرتوں کی ایک ناقابل عبور خلیج بھی حائل کردی، اسی پس منظر میں کروڑوں انسان ہندوستان سے پاکستان منتقل ہوئے، چونکہ کراچی اس زمانے میں ملک کا دارالحکومت بھی تھا اور ایک ترقی یافتہ شہر اور بندرگاہ تھا، جہاں روزگار کے نسبتاً زیادہ مواقع تھے لہٰذا مہاجرین کا رخ اس شہر کی طرف ہونا ایک فطری بات تھی۔
سندھ آنے والے مہاجرین کا مقامی سندھی دوستوں نے پرخلوص استقبال کیا اور ان کی ہر ممکنہ مدد کی۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ ایم کیو ایم پہلے طلبا کے پلیٹ فارم پر پھر سندھ کے حوالے سے وجود میں آئی، ابتدا میں ایم کیو ایم کو اردو اسپیکنگ کمیونٹی میں جو مقبولیت حاصل ہوئی اس سے مقامی سندھیوں میں بدگمانیاں پیدا ہوئیں اور سندھی قوم پرست اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ اردو اسپیکنگ مقامی سندھیوں کے حریف بن رہے ہیں، وقت کے ساتھ یہ بدگمانیاں بڑھتی گئیں۔
حتیٰ کہ ایوب خان کے دور سے کراچی کی آبادی کے تناسب میں معنوی فرق آتا گیا لیکن سندھی قوم پرستوں کی بدگمانیاں برقرار رہیں۔ یہ تھوڑی سی تفصیل اس لیے پیش کی گئی کہ اب سندھ کی سیاست میں مصطفیٰ کمال کی ڈرامائی انٹری کے بعد سندھی قوم پرستوں کی سیاست اور فکر میں کوئی تبدیلی آئے گی؟
یہ سوال اس لیے ضروری ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں آبادی کا تناسب بالکل بدل گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کراچی جرائم کا ایک ایسا اڈہ بن گیا ہے جہاں دوسرے علاقوں سے جرائم پیشہ لوگوں کے گروہ اتنی بڑی تعداد میں آرہے ہیں کہ جرائم میں ان کا تناسب 70 فیصد ہوگیا ہے۔ اور اردو اسپیکنگ کمیونٹی نسبتاً زیادہ مسائل کا شکار ہوگئی ہے۔
سندھ کی حکومت کی پالیسی کی وجہ کراچی شہر لاوارثوں کا شہر بن کر رہ گیا ہے۔ متحدہ کے خلاف آپریشن کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے اس کے باوجود حالیہ بلدیاتی انتخابات میں متحدہ نے سندھ کے شہری علاقوں میں کلین سوئپ کیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ان انتخابات میں ماضی کی طرح دھاندلیاں بھی نہیں ہوئیں اور اردو اسپیکنگ کے علاوہ دوسری زبانیں بولنے والوں نے بھی ان انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ یہ ایسے حقائق ہیں جن کو نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی جماعتوں سے اختلافات، سیاسی رہنماؤں پر الزامات، بورژوا سیاست کا حسن ہے، اس پس منظر میں متحدہ پر الزامات حیرت کی بات نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں عوام نے متحدہ کو مینڈیٹ دیا ہے اور سندھ سمیت پورے ملک میں بلدیاتی اداروں کو انتظامی اور مالیاتی اختیارات سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
متحدہ ان اختیارات کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ کیا مصطفیٰ کمال کی انٹری سے بلدیاتی اداروں کے حقوق پر مثبت اثر پڑے گا یا منفی؟ پورا شہر گندگی کے ڈھیر میں بدل گیا ہے، کراچی کے عوام پانی کی شدید قلت کے شکار ہیں، حکومتوں اور احتسابی اداروں کے درمیان کرپشن کے حوالے سے جنگ جاری ہے، ملک بھر کے عوام بلدیاتی اختیارات اور ملک سے کھربوں روپوں کی اشرافیائی کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال کی دبنگ انٹری سے عوام کی ان خواہشات پر مثبت اثر پڑیں گے یا منفی، اشرافیہ کے گرد جو گھیرا تنگ ہو رہا تھا کیا یہ مزید تنگ ہوگا یا ڈھیلا ہوکر اشرافیہ کی طاقت میں اضافے کا سبب بنے گا؟ متحدہ کی قیادت اگر غلطیاں کرتی رہی ہے تو اسے اس کی سزا ملنی چاہیے لیکن متحدہ کی قیادت کی سزا ملک کی لٹیری عوام دشمن اشرافیہ کی جزا بنتی ہے تو اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوگی؟ اس کا جواب بہرحال مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھیوں کو دینا ہوگا۔