پاکستان71کے واقعات پر معافی مانگے حنا ربانی

معافی سمیت دیرینہ مسائل کے حل تک تعلقات بہترنہیں ہوسکتے، دیپومونی،ماضی کودفن کرکے آگے بڑھنے کاوقت ہے،حناربانی


News Agencies November 10, 2012
معافی سمیت دیرینہ مسائل کے حل تک تعلقات بہترنہیں ہوسکتے، دیپومونی،ماضی کودفن کرکے آگے بڑھنے کاوقت ہے،حناربانی فوٹو: رائٹرز/ فائل

وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے صدر آصف علی زرداری کی خصوصی ایلچی کی حیثیت سے جمعہ کو ڈھاکہ کا دورہ کیا۔

جس کے دوران انھوں نے بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے ملاقات کی اور انھیں اسلام آباد میں22 نومبر کو ہونے والے ڈی ایٹ سربراہ اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ پہنچایا، دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کیساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات مشترکہ مذہب، تاریخ اور روایات پر مبنی ہیں اور دونوں ملک اقوام متحدہ میں اہم معاملات پر ایک دوسرے کیساتھ اپنے موقف کا تبادلہ کرتے ہیں جبکہ دونوں ملک او آئی سی اور سارک میں بھی ایک دوسرے کیساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہیں ۔

وزیر خارجہ نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجود خیرسگالی کو بھرپور اقتصادی، تجاری، تعلیمی اور ثقافتی روابط میں بدلنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس سے قبل انھوں نے بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ڈاکٹر دیپو مونی ، قائد حزب اختلاف اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء سے بھی ملاقات کی۔ ثناء نیوز کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر خارجہ دیپو مونی نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان 1971 میں ہونیوالے بنگالیوں کے قتل عام پر باضابطہ معافی مانگے ۔

معافی سمیت دیرینہ مسائل کے حل تک پاک بنگلہ دیش تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے جبکہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان کئی مواقعوں پر1971کے واقعات پر افسوس کا اظہارکرچکا ہے یہ ماضی کودفن کرکے آگے بڑھنے کا وقت ہے، آئی این پی کے مطابق بنگلہ دیش کے سیکریٹری خارجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ دونوں وزرائے خارجہ کی یہ باضابطہ ملاقات نہیں تھی لیکن اس میں1971کے واقعات پر معافی مانگنے سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔انھوںنے کہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے بنگلہ دیش کے مطالبے کو غور سے سنا اورفوری طور پر تسلیم کرنے یا انکار کی بات نہیں کی۔