حکومت آئندہ انتخابات کی تاریخ کے بارے میں تجسس ختم کرے نواز شریف

فوج کیخلاف نہیں ہوں،کچھ جرنیلوں سے شکایات رہیں، فوج کی چھتری کے بغیر پہلی بار حکومت اپنی مدت پوری کررہی ہے،انٹرویو


News Agencies/Monitoring Desk November 10, 2012
ہم ایف آئی اے کی تفتیش پر تیار ہیں کیونکہ یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے،پاکستان اور بھار ت کے درمیان مذکرات ہی مسائل کا حل ہیں فوٹو: فائل

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ فوج کی چھتری کے بغیر پہلی بار حکومت اپنی مدت پوری کررہی ہے جو جمہوریت کیلیے خوش آئند ہے۔

فوج کیخلاف نہیں ہوں ،اس کا خیر خواہ رہاہوں،کچھ جرنیلوں سے شکایات رہیں، موجودہ حکومت کی کئی پالیسیوں سے اختلافات ہیں لیکن اس حکومت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ حکومت انتخابات کی تاریخ دے اورتجسس ختم کرے، بطور پاکستانی میرا فرض بنتا ہے کہ جنرل کیانی کے بیان کو خوش آئند قرار دوں،یونس حبیب کو ہمارے نام تو یاد ہیں جب پیپلز پارٹی کی باری آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ان کو پیسے لینے والوں کے نام یاد نہیں ہیں، مشرف کی طرف سے اربوں روپے سیاسی جماعتوں میں کو دیے گئے اس کا حساب ہونا چاہیے۔ رقم کی تقسیم یا ماضی میں کسی جنرل کی مہم جوئی کی ہے تو اس میں فوج کے ادارے کا قصور نہیں۔

ہم ایف آئی اے کی تفتیش پر اس لیے تیار ہیں کیونکہ یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ آئی بی کی جانب سے جو 27 کروڑ روپے نکلوائے گئے تھے جب اس کیس کی سماعت ہو گی تو اور بھی بہت سے چہرے بے نقاب ہوں گے۔ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت آئندہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیتی ہے تو یہ یہ جمہوریت اور ملک کے لیے بہت بہتر ہو گا اور ملک میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی،اصغر خان کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اس کی ایف آئی اے سے ضرور تحقیقات کرائے اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، دودھ یا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے، یہ منصوبہ جنرل نصیر اللہ بابر نے اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلیے یہ منصوب بنایا تھا اور رحمن ملک کو جرمنی میں اسد درانی کے پاس بھیجا تھا، جہاں انھوں نے اسد درانی سے بیان حلفی حاصل کیا، سب جانتے ہیں کہ رحمن ملک کے بارے میں سپریم کورٹ نے کیا سند دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونس حبیب نے ہمیں پیسے دینے کا دعویٰ کیا ہے1990 میں جب ہماری حکومت بنی تو ہم نے یونس حبیب کو نوکری سے نکال دیا، اگر وہ ہمارے محسن ہوتے تو کیا ہم ان کو نوکری سے نکالتے،، یونس حبیب نے پیپلز پارٹی کو1993میں الیکشن کیلیے27 کروڑ روپے دیے، اس کے بعد اس نے خیبر پختونخوا میں پیر صابر شاہ کی حکومت گرانے کیلیے گیارہ کروڑ روپے دیے،1989میں پنجاب میں میری حکومت گرانے کیلیے نوٹوں کی بوریاں بھر کر لائی گئیں، انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ماضی کی غلطیوں پر جو افسوس کا اظہار کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔

اگر آج آرمی چیف قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالا دستی کی بات کررہا ہے تواسے بھی سراہنا چاہیے، انھوں نے کہا کہ اگر ہم الیکشن میں ہار گئے تو اس کا اعتراف کریں گے اور جیتنے والے کو مبارکباد دیں گے۔ علاوہ ازیں ن لیگ کے صدر نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھار ت کے درمیان مذکرات ہی مسائل کا حل ہیں ان کے سابق دور حکومت میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی دوستی بس میں بیٹھ کر لاہور آئے امن کا سفر شروع ہو چکا تھا مگرڈکٹیٹر نے غیرآئینی اقدام کر کے سب کچھ ملیا میٹ کردیا ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے رائے ونڈ میں بھارتی پنجاب کے نائب وزیراعلیٰ سکھ بیرسنگھ بادل سے گفتگوکرتے ہوئے کیا،نواز شریف نے کہاکہ دونوں ممالک کو باہمی تنازعات بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں خطے کے پائیدارامن کیلیے پاکستان اور بھارت کے سیاستدانوں کو اپنا کردارادا کرنا ہو گا۔