حفظِ قرآن کی برکات

ہرمسلمان کو قرآنِ مجید خود حفظ کرنے اور اپنی اولاد کو حفظ کرانے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے،


ہرمسلمان کو قرآنِ مجید خود حفظ کرنے اور اپنی اولاد کو حفظ کرانے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے،فوٹو : فائل

قرآن مجید اﷲ کا کلام ہے جو سراسر معجزہ ہے۔ اس قرآن کو حفظ اور یاد رکھنے کے بڑے فوائد ہیں۔ آخرت میں نجات کا ذریعہ، جنت میں بلند مرتبہ اور حافظ دنیا میں بھی عزت پاتا ہے اور صاحب الرائے سمجھا جاتا ہے۔ امامت میں حافظ ِ قرآن مقدم ہے۔ اس کے اعجاز کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ انسانی حافظے میں محفوظ ہوجاتا ہے۔

قرآنِ پاک بقیہ دوسری کتابوں سے بہت سے اوصاف میں مختلف ہے۔ کوئی دوسری کتاب خواہ وہ مذہبی ہو یا اخلاقی یا کسی بھی موضوع پر ہو اور حجم میں قرآن مجید سے کچھ کم ہی کیوں نہ ہو حرف بہ حرف کبھی حفظ نہیں ہوسکتی۔ خدا کا کلام ہونے کے اعتبار سے اس کا حفظ کرنا اعلیٰ درجے کی نیکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں مسلمان بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو یہ حفظ ہے۔

قرآن حفظ کرنا مشکل کام ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جو اس کو حفظ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کے لیے یہ آسان ہو جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے،

''ہم نے آسان کر دیا قرآن کو حفظ کرنے کے لیے پس ہے کوئی اس کے حفظ کا طالب کہ اس کی مدد کی جائے۔'' (القمر)

کچھ والدین اپنے بچوں کو قرآن حفظ کرانے کی ہمت نہیں کرتے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کام میں تین سال لگ جائیں گے اور بچہ اپنے سکول کے ساتھیوں سے پیچھے رہ جائے گا۔ بہ ظاہر یہ بات ٹھیک لگتی ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ درست نہیں، کیوں کہ حافظ کے وقت اور صلاحیت میں برکت پڑجاتی ہے اور مشاہدہ گواہ ہے کہ حافظ نے اپنی زندگی کے جو سال حفظ میں صرف کیے ہوئے ہیں، وہ اس کو محنتی بنا دیتے ہیں اور محنت کی یہ عادت دنیاوی زندگی کے امتحانات میں کام یابی کا باعث بنتی ہے۔

جو لوگ اپنی اولاد کو اسکول اور کالج کی تعلیم دے رہے ہیں ان کو اپنی اولاد کو دینی تعلیم دینے اور قرآن مجید حفظ کرانے کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہیے۔ ابھی بھی وقت ہے ورنہ کل قیامت کو حسرت و ندامت ہوگی۔ اور روز قیامت حافظ ِ قرآن اور اس کے والدین کو نور کا تاج پہنایا جا رہا ہوگا تو اس وقت ایسے لوگوں کو حسرت ہوگی کہ کاش ہم بھی قرآن پاک حفظ کرلیتے اور اپنی اولاد کو بھی حفظ کرا دیتے۔



حافظِ قرآن کا شمار اہلِ علم میں ہوتا ہے اس لیے کہ علم کی ابتدا ہی حفظِ قرآن اور اس کے سمجھنے اور سمجھانے سے ہوتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر، انجینیر، پروفیسر اور دوسرے اعلیٰ مناصب پر فائز افراد میں کئی حافظ ہیں۔ اُن کے حفظ میں صَرف کیے ہوئے سال ان کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوئے ہیں۔

جو حافظ صرف حفظ پر انحصار کرکے بیٹھ جائے اور دنیاوی ترقی کے لیے قدم نہ اٹھائے یہ اس کی اپنی کوتاہی ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی نگاہ بلند رکھتا ہے تو وہ اپنا مقصد پالیتا ہے ۔ ایسے خاندان بھی ہیں جن کی معاشی حالت اچھی نہیں مگر وہ اپنے بچوں کو حفظ پر لگا دیتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ان کی دست گیری کرتا ہے اور وہ حافظ بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اونچے عہدوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ پس حفظ کو دنیاوی تعلیم اور عزت میں رکاوٹ سمجھنا غلطی ہے۔

حضرت عبداﷲ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''جس شخص نے قرآن کریم پڑھ لیا (یعنی حفظ کرلیا) تو اس نے (علوم) نبوت کو اپنی دونوں پسلیوں کے درمیان (دل میں) لے لیا۔ مگر اس کی طرف وحی نہیں کی جاتی۔ حافظِ قرآن کے لیے زیبا نہیں کہ وہ سختی کرنے والوں کے ساتھ اور جاہلوں کے ساتھ جہالت والا برتاؤ کرے۔ جب کہ اس کے پیٹ (دل) میں اﷲ تعالیٰ کا کلام (محفوظ) ہے۔'' (رواہ الحاکم)

ایک اور حدیث نبوی ﷺ ہے، ''جس نے قرآن پڑھا، پھر اس کو حفظ کیا اور اس کے حلال کو حلال جانا اور حرام کو حرام، حق تعالیٰ شانہٗ اس کو جنت میں داخل فرمادیں گے اور اس کے گھرانے میں سے ایسے دس آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول فرمائیں گے۔ جن کے لیے جہنم واجب ہوچکی ہو۔''

(رواہ احمد و ترمذی)

الغرض حفظِ قرآن ذہین بچے کی ذہانت میں مزید اضافہ کرتا ہے اور دنیا اور آخرت میں عزت دینے والے کام اُس کے لیے آسان ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ذہین بچوں کے والدین ان کی ذہانت میں اضافے کے لیے حفظ قرآن سے دہرا اجر کما سکتے ہیں۔

سلف صالحین میں حفظ قرآن مجید اور اس کی تعلیم کے خاص ذوق کا نتیجہ تھا کہ ابووائل شقیق بن سلمہؒ نے دو ماہ میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا اور امام بخاریؒ دس سال کی عمر میں حفظِ قرآن سے فارغ ہوگئے تھے۔ ابن حجر محدثؒ نے نو برس کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تھا۔ امام ابوحنیفہؒ کے مایہ ناز شاگرد امام محمد ؒنے سات دن میں قرآن کریم یاد کیا۔ (بلوغ الامانی سیرۃ الامام محمد بن الحسن الشیبانی)

حافظ ِقرآن کا دل ایمان و یقین کی دولت سے معمور ہوتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ پورا قرآن حفظ کرے کیوں کہ یہ بڑے شرف و منزلت کی بات ہے اور جو پورا حفظ نہ کرسکے تو زیادہ سے زیادہ حفظ کرنے کی کوشش کرے۔ کیوں کہ جتنا حفظ ہوگا اور اخلاص کے ساتھ ہوگا، اتنا ہی دل آباد ہوگا۔

نیز اپنی اولاد کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیے اور ان کو اس نعمت عظیمہ سے بہرور کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی سعادت دارین سے سرفراز ہوجائیں۔ ہرمسلمان کو قرآنِ مجید خود حفظ کرنے اور اپنی اولاد کو حفظ کرانے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے، لیکن اخلاص و للہیت ہر وقت پیش نظر رہے تاکہ اﷲ تعالیٰ کے یہاں مقبول عمل ہوجائے۔ اﷲ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعا مانگنی چاہیے ''اے اﷲ! مجھ پر قرآن عظیم کی برکت سے رحم فرما اور قرآن کو میرے لیے پیشوا، روشنی، ہدایت اور رحمت بنا۔''