خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی ایک اور واردات

مالاکنڈ سے سرکاری ملازمین کو پشاور لانے والی بس میں دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد شہید اور 54 زخمی ہوگئے۔


Editorial March 17, 2016
مالاکنڈ سے سرکاری ملازمین کو پشاور لانے والی بس میں دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد شہید اور 54 زخمی ہوگئے۔

خیبرپختونخوا میں مالاکنڈ سے سرکاری ملازمین کو پشاور لانے والی بس میں دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد شہید اور 54 زخمی ہوگئے۔ اخبارات میں شایع ہونے والی تفصیلات کے مطابق بس درگئی اڈا مالاکنڈ سے سرکاری ملازمین کو لے کر پشاور روانہ ہوئی' راستے میں مردان، تخت بھائی وغیرہ سے بھی لوگ بس میں سوار ہوئے، مسافروں کی مجموعی تعداد 40 سے 50 کے درمیان تھی اور ان میں سویلین بھی شامل تھے۔ جوں ہی بس سنہری مسجد روڈ پر پہنچی تو اس میں نصب بارودی مواد زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 17 افراد شہید اور 54 زخمی ہوگئے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں نئی نہیں ہیں' خیبرپختونخوا اور فاٹا میں وارداتیں زیادہ ہو رہی ہیں' اس کی وجہ بظاہر یہی نظر آ رہی ہے کہ خیبرپختونخوا کے بندوبستی علاقوں اور قبائلی علاقوں میں قانون کی عملدرآمد کمزور ہے' عوام میں حالات کی پوری آگاہی نہیں ہے۔ سرکاری عمال غفلت اور لاپرواہی کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں' یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں' ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لیے متحرک ہونا آسان ہے' گزشتہ روز مالاکنڈ سے پشاور آنے والی بس میں جو دھماکا ہوا ہے' اخباری اطلاع کے مطابق دھماکا خیز مواد ٹائم ڈیوائس کے ساتھ بس کے ٹول بکس میں نصب کیا گیا تھا'اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کام بس اور اڈے کے عملے کی مدد سے کیا گیا ہے اور یقیناً وہاں اس کے سہولت کار بھی ہوں گے۔

اس سے ایک نکتہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ بس روانہ ہونے سے پہلے اس کی مناسب چیکنگ نہیں کی گئی' اگر چیکنگ کر لی جاتی تو دھماکا خیز مواد کا پتہ چلایا جا سکتا تھا' راستے میں بیٹھنے والے مسافروں کی بھی چیکنگ نہیں ہوئی۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ بہرحال اصل حقائق تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گے لیکن ایک بات طے ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ فاٹا ایڈمنسٹریشن کی اور ہالنگ کی بھی ضرورت ہے' عجیب بات یہ ہے کہ انگریز کے دور میں ان علاقوں میں قانون کی مکمل عملداری قائم تھی ۔اس دور میں قبائلی علاقوں اور بندوبستی علاقوں میں جرائم اور دہشت گردی کا نام و نشان نہیں تھا۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد صورت حال میں تبدیلی آئی اور ان علاقوں میں قانون کی گرفت کمزور ہونے لگی۔خصوصاً ضیاء الحق کے دور میں صورت حال مزید تبدیل ہوئی' افغان وار کے دوران قبائلی علاقے مکمل طور پر قانون کی گرفت سے آزاد ہو گئے۔ سرکاری عمال بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے اورسب نے غیر قانونی سرگرمیوں کا نوٹس لینا چھوڑ دیا۔

برسوں سے غفلت لاپروائی کا نتیجہ سب کے سامنے ہے' خیبرپختونخوا کے شہروں کے ساتھ قبائلی علاقے جڑے ہوئے ہیں'یہاں آنے جانے والوں کی چیکنگ کا بھی خاطرخوا بندوبست نہیں ہے۔قبائلی علاقوں میں قانون کی عملدرآمدی کمزور ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں کے لیے یہاں چھپنا بہت آسان ہو گیا ہے' یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد خیبرپختونخوا میں گاہے بگاہے کامیابی سے وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز بس میں جو دھماکا ہوا' اس میں بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں' یہ یقیناً افسوسناک واقعہ ہے۔ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی خاصی بہتر ہے۔

خیبرپختونخوا میں عوامی نمایندوں نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا' عوام میں بھی بیداری پیدا ہو رہی ہے لیکن ابھی سلسلے میں بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی جیتنے کے لیے جہاں دہشت گردوں' ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ضرورت ہے' وہاں مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ موجودہ مائنڈ سیٹ کے تحت یہ جنگ جیتنا بہت مشکل کا کام ہے'مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تعلیمی نصاب میں تبدیلی ہے' یہ کام مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو کرنا ہے۔

اس پر کسی حد تک کام ہو رہا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی ذہنی تربیت کا اہتمام بھی بہت ضروری ہے' سرکاری عمال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر اول دستہ ہیں' اگر یہ ذہنی طور پر کنفیوژ ہوں گے تو وہ بھی اپنا کام ایمانداری سے نہیں کر سکیں گے۔

ملک بھر کی سول سوسائٹی' دانشوروں' ادیبوں اور دانشوروں کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے' اگر یہ طبقے واضح اور غیر مبہم نظریات کے ساتھ سامنے آئیں تو دہشت گردوں کے سرپرست اور سہولت کار معاشرے میں تنہا ہو جائیں گے اور اس کے بعد ان کے گرد قانون کا شکنجہ کسنا آسان ہو جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ پہلی بار دہشت گرد مایوسی کا شکار ہیں' بہت سے دہشت گرد مارے گئے ہیں' متعدد کو عدالتوں نے سزائے موت سنا دی ہے' یہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کی واردات بھی اس مایوسی کا ردعمل ہے' بہر حال سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردوں کے خلاف سخت مہم جاری رکھنی چاہیے تاکہ اس ناسور کا جڑ سے صفایا کیا جا سکے۔