امریکیوں کی اجتماعی دانش
’’اگر غلامی ظلم نہیں ہے تو دنیا میں کوئی بھی فعل ظلم نہیں ہے۔‘‘
ایک ایسا امریکا جس میں ان گنت سیاہ فام نسلوں نے غلامی اور ذلت کی زندگی گزاری، جہاں ان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک ہوا، جہاں غلامی کو ختم کرنے کے سوال پر امریکی قوم دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی، ایک خون ریز خانہ جنگی سے گزری۔ اسی دوران سفید فام ابراہم لِنکن نے کہا:
''میں نے عزمِ صمیم کر لیا ہے کہ اس ملک کی سر زمین غلاموں کے مالکوں کے لیے اس قدر گرم کر دوں گا کہ وہ اس پر قدم نہ رکھ سکیں گے۔''
ضمیر کی روشنی نے لنکن کو نا امیدی کی اندھیری رات میں راستہ دکھایا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر میں سچائی اور انصاف کی وکالت کرتے ہوئے مر جائوں تو اپنے آپ کو خوش نصیب تصور کروں گا۔ اس کا یہ جملہ تاریخ میں محفوظ ہے کہ:
''اگر غلامی ظلم نہیں ہے تو دنیا میں کوئی بھی فعل ظلم نہیں ہے۔''
یہ جملہ ادا کرنے کے بعد اس نے یکم جنوری 1863 کو ساڑھے تین لاکھ سیاہ فام غلاموں کی آزادی کے پروانے پر دستخط کر دیے۔ یہ ایک ایسا حکم نامہ تھا جس نے لاکھوں سفید فاموں کو مشتعل کر دیا۔ گھوڑوں کے سُم خون میں ڈوب گئے لیکن آخری فتح لنکن اور اس کے حسین خواب کی ہوئی کہ دنیا کے تمام انسان برابر ہیں اور کسی کو رنگ و نسل کی بناء پر دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں۔
اپنے اس عظیم خواب کی قیمت لنکن نے اپنی جان دے کر ادا کی لیکن اس کے بعد بھی امریکا نسل پرستی کی لعنت میں گرفتار رہا۔ ایک لمبی اور جان لیوا لڑائی ایک صدی سے زیادہ عرصے تک جاری رہی اور ان گنت سیاہ فام اور سفید فام لوگوں نے مساوات کو خواب سے حقیقت بنانے میں زندگی صرف کر دی۔ غلامی کے خاتمے کے حکم نامے پر لنکن نے 1863میں دستخط کیے تھے۔ اس کے 145 برس بعد یہ ممکن ہو سکا کہ ایک سیاہ فام امریکی صدارتی انتخاب لڑے اور اس میں کامیاب ہو کر وائٹ ہائوس پہنچ سکے۔
باراک اوباما 2008میں جب صدر منتخب ہوئے تو دنیا کی اکثریت حیران رہ گئی اور اب امریکیوں نے انھیں ایک بار پھر اپنا صدر منتخب کیا ہے۔ یہ واقعات جہاں صدر اوباما کی کرشماتی شخصیت، ان کے خاندان اور ان کے دوستوں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہیں، وہیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ آخر یہ ممکن کیسے ہو سکا۔
اس نکتے کو سمجھنے میں باراک اوباما کی خود نوشت بہت مدد دیتی ہے۔ ان کی یہ خود نوشت جولائی 1995 میں پہلی مرتبہ شایع ہوئی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اوباما نے اپنا سیاسی سفر شروع نہیں کیا تھا۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ وہ 1990 میں ہارورڈ لاری ویو کے پہلے افریقی، امریکی صدر کے طور پر منتخب ہو گئے تھے اور امریکی تاریخ میں یہ ایک واقعہ تھا۔
یہ کتاب انھوں نے 33 برس کی عمر میں لکھی جس میں انھوں نے اپنی نسل اور اپنی وراثت کی تلاش کو قلم بند کیا ہے۔ اس میں اپنے مسلمان باپ کے خاندان کی جستجو ہے۔ یہ مسلمان رشتہ داروں کے نام سے پُر ہے۔ وہ ایک مسلمان باپ اور مسیحی ماں کے بیٹے ہیں۔ اُن کے والدین کی شادی ایک ایسی امریکی ریاست میں ہوئی جہاں سیاہ فام اور سفید فام افراد کے درمیان شادی ناجائز اور غیر قانونی تھی۔ ان کے باپ نے بہت جلد اپنی ذمے داریوں سے سبکدوشی حاصل کی اور اپنے سفید فام نانا اور نانی کی شفقت میں پرورش پاتے رہے۔ ان کی ماں نے دوبارہ شادی کی تو وہ ایک انڈونیشی مسلمان تھا۔ اوباما نے اپنے سوتیلے باپ اور ماں کے ساتھ کچھ وقت جکارتہ میں گزارا۔
اس خود نوشت کا سب سے اہم نکتہ اوباما کی سچائی اور کسی لاگ لپٹ کے بغیر ہر بات لکھ دینا ہے۔ وہ اپنی مسلمان وراثت پر باریک سا پردہ بھی نہیں ڈالتے انھیں یہ لکھتے ہوئے بھی کوئی الجھن محسوس نہیں ہوتی کہ وہ شراب اور منشیات کے اسیر بھی ہوئے تھے۔
ان کی کتاب کے سر ورق پر ان کی مسلمان دادی حبیبہ اوکومو اوباما کی تصویر ہے۔ اس سچائی کو جاننے کے باوجود جب ڈیموکریٹک پارٹی نے انھیں صدارتی عہدے کے لیے نامزد کیا تو دنیا حیران رہ گئی تھی اور برطانیہ میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا امریکا ایک سیاہ فام مسلمان صدر کے لیے تیار ہے؟ نائن الیون کا سانحہ گزر چکا تھا، القاعدہ کا نام امریکا میں ایک ڈرائونی یاد تھا۔ اوباما کی خود نوشت ہر امریکی بک اسٹور پر موجود تھی اور سفید فام امریکیوں کو اپنے ممکنہ صدر کے خاندانی پس منظر کا بخوبی علم ہو چکا تھا۔ وہ اوباما کے یہ جملے بھی پڑھ چکے تھے کہ:
''قانون کا مطالعہ کبھی کبھار مایوسی کا سبب بھی بنتا ہے۔ سخت قوانین اور لچکدار طریقۂ کار کو مبہم حقائق پر لاگو کرنا پڑتا ہے۔ یہ عظیم الشان اکائونٹنگ کے مانند ہے جس کا مقصد با رسوخ لوگوں کے مالیاتی معاملات منظم کرنا ہے۔ تاہم، قانون صرف یہ نہیں ہے۔ قانون ہمارا حافظہ بھی ہے۔ قانون طویل مکالموں کا ریکارڈ بھی رکھتا ہے جن میں کوئی قوم اپنے ضمیر کے ساتھ دلیل بازی کرتی ہے۔
ہم ان حقائق کو صادق بالذات تسلیم کرتے ہیں۔ ان الفاظ میں مجھے ڈگلس اور ڈیلانی کی روح بولتی معلوم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جیفرسن اور لنکن کی روح بھی۔ مجھے اس میں مارٹن اور میلکم کی جدوجہد نظر آتی ہے اور آزادی کی طرف گامزن ان لوگوں کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے جنہوں نے ان الفاظ کو زندگی بخشی۔ مجھے ان میں خاردار تاروں میں جکڑے ہوئے جاپانی خاندانوں کی آوازیں آتی ہیں، مجھے لوئر ایسٹ سائیڈ کے کارخانوں میں کام کرتے نوجوان روسی یہودیوں کی آوازیں آتی ہیں، اُن کسانوں کی سسکیاں یاد آتی ہیں جو ٹرکوں میں اپنی بکھری ہوئی زندگی لاد رہے تھے۔ مجھے گارڈنز کے لوگوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور سرحد پار کھڑے لوگوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں... بھوکے اور پریشان حال لوگ جو ریو گراندے پر سراپا احتجاج تھے۔ مجھے یہ تمام آوازیں خود سے سوال کرتی محسوس ہوتی ہیں، یہ تمام آوازیں وہی سوال پوچھتی ہیں جنہوں نے میری زندگی کو متشکل کیا۔
مجھے سیکڑوں ایسے مقدمے نظر آتے ہیں جن میں ضمیر فوری طریقۂ کار یا لالچ پر قربان ہو گیا۔ اس کے باوجود مجھے گفتگو سے حوصلہ ملتا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ جب تک سوالات پوچھے جاتے رہیں گے تب تک ہمیں باندھے رکھنے والے بندھن ہی غالب آئیں گے۔
کبھی کبھی ایمان... جو معصومیت سے بہت مختلف ہے... کو قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ شکاگو واپسی پر مجھے سارے سائوتھ سائیڈ علاقے میں انحطاط کا عمل اور بھی تیز ہوتا نظر آیا۔ مکانات کی حالت خراب تھی، بچے بدتمیز اور بے قابو ہو رہے تھے، بہت سے متوسط گھرانے مضافات چھوڑ کر جا رہے تھے، جیلوں میں نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی، میرے بھائیوں کا مستقبل تاریک تھا۔ میں شاذو نادر ہی لوگوں کو اس بارے میں سوال کرتے سنتا ہوں کہ آخر ہم نے ایسا کیا کیا کہ ان بچوں کے دل اس قدر سخت ہوگئے، یا ہم ان کا اخلاقی انداز درست کرنے کے لیے مل جل کر کیا کر سکتے ہیں۔ اس کے بجائے میں دیکھتا ہوں ہم وہی کر رہے ہیں جو ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں ... ہم یوں ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے وہ بچے ہمارے نہیں۔ ''
اوباما کی یہ خود نوشت ان کی صدارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی تھی۔ وہ ان کے ماضی اور حال کی عکاسی کرتی تھی۔ اپنی نسل اور وراثت کے بارے میں اتنی تفصیل تو شاید ان کے دشمن بھی بیان نہیں کر سکتے تھے۔ اسی خود نوشت میں ایک جگہ اوباما نے لکھا ہے کہ میرے خاندانی تانے بانے کے مختلف دھاگے مل کر غلامی کی پُر جوش مخالفت کرتے تھے۔ یہ جملہ اور ایسے بہت سے جملے سفید فام امریکیوں کو یہ بتا رہے تھے کہ انھیں کٹر بنیاد پرستوں اور رجعت پسند سفید فاموں سے گہری شکایات ہیں۔ یہ ذاتی نہیں اجتماعی شکوے تھے۔ یہ حقائق امریکیوں کے سامنے تھے اور انھیں اندازہ تھا کہ اگر انھوں نے اپنا ووٹ اوباما کو دیا تو ایک ایسا شخص پہلی مرتبہ امریکی صدر بنے گا جو اپنی قوم کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر کڑھتا رہا ہے۔ وہ ایک مسلمان باپ کا بیٹا ہے اور اپنے اس حسب نسب کو چھپانے کی رتی بھر کوشش نہیں کرتا۔
یہ فیصلہ امریکیوں کی اجتماعی دانش کا ایک شاندار مظہر تھا۔
(جاری ہے)