پانچ سالہ آٹو پالیسی کی منظوری

عملی اقدامات کے نتیجہ میں ملکی صنعتی ترقی کی بنیاد کو مزید مضبوط کرنے میں آٹو پالیسی معاون ثابت ہو گی


Editorial March 20, 2016
ملکی ٹرانسپورٹ میں بڑی بسوں کی اشد ضرورت ہے۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

KARACHI: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی 2016-21ء کی منظوری دیدی، اس کے علاوہ تیار شُدہ آئرن و اسٹیل کی مصنوعات کی درآمد پر 30 جون 2016ء تک کے لیے 15 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی، ایلمونیم الائے کی درآمد پر دس فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنیکی منظوری دی گئی ہے۔ اجلاس وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا جس میں پانچ نکاتی ایجنڈے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ملکی آٹو پالیسی بطور خاص پیش نظر رکھی گئی، اگرچہ پالیسی کی منظوری قدرے تاخیر سے ہوئی ہے تاہم کونسل نے بعض اہم فیصلے کیے ہیں اور آٹو انڈسٹری کو درپیش مسائل کے خاتمہ اور ملک میں نئی گاڑیوں کی تیاری کے لیے ایک جدید و وسیع بنیاد مہیا کرنے کی تکنیکی پیش رفت کی ہے۔

اجلاس میں پی آئی اے کے لیے حکومتی ضمانت کی حد 146 ارب روپے سے بڑھا کر 151 ارب روپے، گندم اور آٹا برآمد کرنے کے لیے مقررہ تاریخ میں 15 جون 2016ء تک کی منظوری سمیت ایلمونیم الائے کی درآمدپردس فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی،نان فائلرز کے لیے بینکنگ ٹرانزیکشن پر عائد 0.4 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی تاریخ میں 31 مارچ تک توسیع نمایاں اقدامات ہیں۔

پالیسی کا بنیادی مقصد اگر گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کی تعداد بڑھانا، آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری کو پر کشش بنا کر اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیکر گاڑیوں کے معیار کر مزید بہتر بنانا ہے تو اسے خوش آیند کہا جائے گا جس کے لیے پالیسی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے پائیدار استحکام کو یقینی بنانے کے لیے انڈسٹریل گروتھ اور ٹیرف میں توازن برقرار رکھا گیا ہے۔

ملکی ٹرانسپورٹ میں بڑی بسوں کی اشد ضرورت ہے، آٹو پالیسی پر عملدرآمد کے لیے آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے اشتراک سے سیلز میں غیر معمولی اضافہ کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں، ٹرانسپورٹ سے ملحقہ روزگار اسکیموں کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے، جب کہ عملی اقدامات کے نتیجہ میں ملکی صنعتی ترقی کی بنیاد کو مزید مضبوط کرنے میں آٹو پالیسی معاون ثابت ہو گی۔

مقبول خبریں