بال ٹھاکرے سے اُدھے ٹھاکرے تک
بی جے پی کی حکومت آنکھ بند کر کے ہندوتوا کے جس راستے پر چل پڑی ہے وہ راستہ اب ہندو فاشزم کی طرف جا رہا ہے
بی جے پی کی حکومت آنکھ بند کر کے ہندوتوا کے جس راستے پر چل پڑی ہے وہ راستہ اب ہندو فاشزم کی طرف جا رہا ہے۔ بھارت میں پاکستان کے فنکاروں کے ساتھ متعصبانہ سلوک کے بعد خود بھارتی اداکاروں کے ساتھ مذہبی تعصب کے جو مظاہرے کیے گئے اس کے خلاف بلاامتیاز مذہب و ملت بھارت کے ادیبوں شاعروں فنکاروں اور دانشوروں نے احتجاج کیا اور وہ تمام حکومتی ایوارڈ واپس کر دیے جو ان کی اعلیٰ کارکردگی پر انھیں ساہتیہ اکیڈمی کی طرف سے دیے گئے تھے۔ ابھی یہ تنازعہ چل ہی رہا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت کے خلاف ہندو انتہاپسند تنظیموں نے ایک طوفان کھڑا کر دیا۔
ورلڈ کپ کے حوالے سے جو میچ دھرم شالہ میں ہونے والا تھا اسے منسوخ کر کے اس کی جگہ کولکتہ میں میچ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کولکتہ کی وزیراعلیٰ نے پاکستانی ٹیم کی سیکیورٹی کی ذمے داری قبول کی۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم جب کولکتہ پہنچی تو عوام نے اس کا والہانہ استقبال کیا، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی عوام پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت سے خوش ہیں۔ صرف مذہبی جنونیوں کا ایک مضبوط حلقہ ہے جو مختلف حوالوں سے پاکستان کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کر کے دونوں ملکوں کے درمیان فاصلوں کو بڑھانا اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان نفرتوں میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق شیوسینا کے مذہبی اندھوں نے پاک بھارت میچ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی۔ شیوسینا کے ایک پاگل رہنما اُدھے ٹھاکرے نے کہا ہے کہ ''بم اور کرکٹ'' ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ موصوف نے فرمایا ہے کہ ہم پاکستانی ٹیم پر بال کے بجائے بم پھینکیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاستی حکومت پاکستانی ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کر رہی ہے اور ریاستی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا بہ نفس نفیس استقبال بھی کیا لیکن مذہبی انتہاپسندی خواہ اس کا تعلق کسی مذہب سے ہو، ایک ایسا پاگل پن ہے جس میں انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ اس پاگل پن میں کوئی بھی ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے جس سے پاکستان کے کرکٹرز کو نقصان پہنچے۔ یہ حرکت پاکستان میں کچھ شرپسند سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کر چکے ہیں اور پاکستان ساری دنیا میں بدنام ہو چکا ہے۔
بھارت آبادی کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی مانا جاتا ہے۔ بھارتی اہل فکر بار بار یہ بات یاد دلا رہے ہیں کہ بھارت کی ایکتا کا واحد وسیلہ سیکولرزم ہے اگر بھارت میں سیکولرزم کو نقصان پہنچا تو بھارت کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ لیکن بھارت کی انتہاپسند مذہبی جماعتیں بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے درپے ہیں، جس کا مقصد بھارت کی ایکتا کو ختم کر کے اسے ٹکڑوں میں بانٹنے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
بھارت کی اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ بھارتی عوام نے پچھلے الیکشن میں بی جے پی کو اقتدار میں لا کر اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لی ہے۔ بی جے پی بابری مسجد کے انہدام میں پیش پیش رہی ہے۔ بی جے پی نظریاتی حوالے سے بھارت کو ہندو ریاست بنانے کی وکیل ہے، ان حقائق کے باوجود بھارتی عوام نے بی جے پی کو کیوں ووٹ دیا۔ اس سوال کا جواب آر ایس ایس، ہندو مہاسبھا اور شیو سینا جیسی مذہبی انتہا پسند جماعتیں دے رہی ہیں۔
کرہ ارض پر دین دھرم کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، مذاہب کی جڑیں ہزاروں برسوں کی تاریخ میں گڑی ہوئی ہیں، لیکن دنیا کے انسان دوست حکمرانوں نے اپنے دور میں ہمیشہ مذہبی یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ شہنشاہ اکبر اس حوالے سے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے دور میں جو مذہبی یکجہتی تھی تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ اب مذہبی یکجہتی کے لیے آئی ٹی کا انقلاب ساری دنیا میں ایک نئے کلچر انسانیت کا درس دے رہا ہے۔
گلوبلائزیشن کو اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے ملٹی نیشنل کی حکمرانی کے لیے استعمال کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس انقلاب نے انسانوں کے درمیان روایتی فاصلوں کو ختم کر کے ساری دنیا کے عوام کو انسانیت کی لڑی میں پرونے کی بھی کامیاب کوششیں کی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست پوری کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا بھر کے عوام کی توجہ سرمایہ دارانہ استحصال کی طرف سے ہٹ جائے۔ اس کوشش کا ایک حصہ دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی ہے۔ کیا بھارت کی انتہاپسند مذہبی جماعتیں سرمایہ داروں کی سازش میں اپنی انتہاپسندی کے ساتھ شامل نہیں ہو رہی ہیں؟ یہ سلسلہ بال ٹھاکرے سے اُدھے ٹھاکرے تک تسلسل سے جاری ہے۔
مذہبی انتہاپسندی جہل کی پیداوار ہے اور بھارت میں شرح تعلیم پاکستان سے زیادہ ہے۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ بھارت کے عوام کی بھاری اکثریت مذہبی انتہاپسندی کے خلاف ہے لیکن ہر ملک میں اعتدال پسند اکثریت انتہاپسند اقلیت کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے لیکن جہاں ملک و قوم کے بہتر یا بدتر مستقبل کا سوال پیدا ہوتا ہے تو پھر اعتدال پسند اکثریت کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ ملک و ملت کے دشمنوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔ بھارت کے مذہبی انتہاپسند اب انتہاپسندی کی سرحدیں عبور کر کے مذہبی فاشزم کی سرحدوں میں داخل ہو رہے ہیں، اب انھیں محض دو تین سو شاعر ادیب دانشور فنکار نہیں روک سکتے اب انھیں روکنے کے لیے اعتدال پسند اکثریت کو متحرک ہونا پڑے گا۔
ہم نے بارہا ان ہی کالموں میں اس تحقیقی حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ عقائد و نظریات کا تعلق ہر دور کے علم اور معلومات کے مطابق ہوتا ہے۔ دنیا کا انسان ہزاروں برسوں تک اپنے علم اور معلومات کے مطابق عقائد و نظریات کی تخلیق کرتا رہا، اب پچھلی صدی سے علم اور معلومات میں اس قدر انقلابی اور ناقابل یقین تبدیلیاں آئی ہیں کہ اب انسان اپنی زندگی کو ان انقلابی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ نہ کر سکا تو وہ جدید دور کے غاروں کی زندگی ہی میں محصور ہو کر رہ جائے گا۔ بھارت کے عوام علم اور شعور ہی نہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالوں سے بھی جنوبی ایشیا کے عوام سے آگے ہیں، اب انھیں گھپاؤں میں رہنے والے مذہبی انتہاپسندوں کا راستہ روکنے کے لیے آگے بڑھنا ہو گا۔
بھارت کی مودی سرکار ہر دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا کر خوش ہوتی ہے، کیا مودی سرکار کو معلوم نہیں کہ اب تک 50 ہزار پاکستانی مذہبی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اکیسویں صدی کی مذہبی انتہاپسندی مسلمانوں کے حوالے ہی سے پہچانی جا رہی ہے، لیکن دنیا کو اس حقیقت کا علم بھی ہونا چاہیے کہ اس مسلم دہشت گردی کا شکار سب سے زیادہ مسلمان ہی ہو رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے کی خبر کے مطابق مسلم ملک ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک کار بم دھماکے میں 34 مسلمان مارے گئے اور 125 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ سب مسلمان ہیں، کیا شیوسینا کا صدر اُدھے ٹھاکرے ان حقائق سے بے خبر ہے؟