سیاسی انجینئرنگ
ایم کیو ایم نے اپنے 32 سال مکمل کرلیے۔ ایم کیو ایم، جس کا آغازکراچی کے ایک بحران سے شروع ہوا تھا
QUETTA:
ایم کیو ایم نے اپنے 32 سال مکمل کرلیے۔ ایم کیو ایم، جس کا آغازکراچی کے ایک بحران سے شروع ہوا تھا، آج بھی وہ بحران موجود ہے۔ ایم کیو ایم نے اپنے یوم تاسیس میں جناح گراؤنڈ میں بہت بڑا جلسہ کیا۔ رینجرز کے چھاپوں، ناکوں، بہت سے کارکنوں کے لاپتہ ہونے اورکچھ کے منحرف ہونے کے باوجود اس جلسے سے ایم کیو ایم نے اپنی مقبولیت ظاہر کی ہے۔
ایم کیو ایم اردو بولنے والے طلبا کی تنظیم آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) کی توسیعی شکل ہے۔ اے پی ایم ایس او کے قائدین الطاف حسین اور عظیم طارق 80 کی دہائی میں کراچی یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کی طلبا تنظیم اسلامی جمعیت طلبا میں شامل تھے، بعد ازاں الطاف حسین نے مہاجروں کے حقوق کے لیے طلبا کی تنظیم اے پی ایم ایس او قائم کی۔ اس وقت الطاف حسین کے مطالبات میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، نئے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں کا قیام اور مہاجروں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔
اس زمانے میں الطاف حسین جی ایم سید کے نظریے سے متاثر تھے، انھوں نے ترقی پسند طلبا کے ساتھ مل کر جمعیت کے خلاف متحدہ محاذ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ الطاف حسین اور بنگلہ دیش سے آئے ہوئے بہاری رہنما آفاق خان شاہد کو بہاریوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے پر فوجی عدالت نے ایک سال قیدکی سزا دی۔ الطاف حسین جیل سے رہا ہونے کے بعد امریکا چلے گئے اور پھر 1984 میں ایم کیو ایم قائم کی۔ ایم کیو ایم کی تنظیم ایک بند پارٹی کے طور پر رکھی گئی۔ اس تنظیم میں یونٹ اور سیکٹر کا ایک کردار سب سے اہم رہا، منتخب نمایندے اس سیکٹر کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ایم کیو ایم نے اپنے قیام کے بعد کراچی و حیدر آباد میں ہونے والے تمام بلدیاتی و قومی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔
ایم کیو ایم سب سے پہلے پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت میں وفاق اور سندھ حکومت کا حصہ بنی۔ مگر اس دور میں شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور لسانی فسادات کا سلسلہ جاری رہا۔ ایم کیو ایم کی قیادت پیپلز پارٹی پر ان کے وزرا کو اختیارات نہ دینے اور پیپلز پارٹی ایم کیو ایم پر حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود عسکری ونگ کو استعمال کرنے کے الزامات لگاتی رہی۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوئی اور پاکستان قومی اتحاد کا حصہ بن گئی۔
1989 میں حیدرآباد میں پولیس نے پکا قلعہ پر چڑھائی کی مگر جب پولیس پکا قلعہ میں داخل ہونے والی تھی، فوجی دستے پکا قلعہ پہنچ گئے اور پولیس کا آپریشن بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا۔ نواز شریف کے پہلے دور میں جنرل آصف نواز جنجوعہ نے اندرون سندھ ڈاکوؤں اور کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا۔ اس آپریشن سے پہلے الطاف حسین اس وقت کے وزیراعلیٰ جام صادق کے مشورے پر برطانیہ چلے گئے، جہاں سے وہ آج تک کامیابی سے ایم کیو ایم کی کمان کررہے ہیں۔ اس آپریشن کے نتیجے میں آفاق احمد کی قیادت میں ایم کیو ایم حقیقی قائم ہوئی۔
ایم کیو ایم کے خلاف تیسرا آپریشن پیپلز پارٹی کے وزیرداخلہ میجر ریٹائرڈ نصیر اﷲ بابر کی نگرانی میں ہوا۔ اس آپریشن سے پہلے بوری بند لاشیں ملتی تھیں اور پولیس کی گاڑیوں پر حملے ہوتے تھے۔ اس آپریشن میں ایم کیو ایم کے بہت سے کارکن ماورائے عدالت قتل ہوئے۔
جب پییپلز پارٹی کے رہنما اور اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بینظیر حکومت کو برطرف کیا تو بینظیر حکومت پر کرپشن کے علاوہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل کے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں حکیم سعید اور کے ای ایس سی کے ایم ڈی ملک شاہد حامد سمیت بہت سے سیاسی رہنماؤں، پولیس افسروں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد ایم کیو ایم پھر عتاب کا نشانہ بنی۔ جنرل پرویز مشرف کا دور حکومت اس اعتبار سے منفرد ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف کوئی آپریشن نہیں ہوا۔ ایم کیو ایم کے بہت سے کارکن جیلوں سے رہا ہوگئے۔
گورنر سندھ عشرت العباد اور الطاف حسین سمیت متعدد رہنماؤں پر اغوا اور تشدد کا مقدمہ ختم ہوا۔ بینظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے درمیان قومی مصالحتی فارمولے NRO پر اتفاق رائے کا فائدہ ایم کیو ایم کے بہت سے کارکنوں کو ہوا ۔ پرویز مشرف کے دور میں نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کے تحت تاریخ میں پہلی دفعہ سب سے بااختیار ناظم مصطفیٰ کمال نے کراچی شہر کی ہیئت کی تبدیلی کے لیے بنیادی کام کیا۔ اس دور میں کراچی میں بڑی سڑکیں، اوورہیڈ برج، انڈر پاسز کا جال بچھایا گیا۔
کراچی کا شمار دنیا کے جدید شہروں میں ہونے لگا۔ مگر اس دور میں بھی کراچی میں امن قائم نہ ہوا۔ 90 کی دہائی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے بہت سے پولیس افسر نامعلوم صورتحال میں موت سے ہمکنار ہوئے۔ کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں خاصی ہلاکتیں ہوئیں، ایم کیو ایم کے مشیر داخلہ نے ان ہلاکتوں کی ذمے داری شمالی وزیرستان سے آنے والے طالبان پر عائد کی۔
ایم کیو ایم 2008 میں پیپلز پارٹی حکومت کی حلیف بنی، 2013 تک یہ سلسلہ ٹوٹتا اور جڑتا رہا۔ اس دوران کراچی میں لسانی فرقہ وارانہ سیاسی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ ایم کیوایم کے رکن صوبائی اسمبلی کے قتل کے بعد ایک ہی رات میں کئی درجن افراد قتل کیے گئے۔ ایم کیو ایم نے اس قتل کا الزام اے این پی پر عائد کیا مگر بعد میں پولیس نے طالبان سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا۔ 2013 میں میاں نواز شریف کی حکومت قائم ہوئی تو ڈاکٹر عشرت العباد کو گورنر کے عہدے پر برقرار رکھا گیا لیکن کراچی کے حالات بہتر نہیں ہوئے۔
کراچی میں مختلف نوعیت کی ٹارگٹ کلنگ معمول بن گئی، بعض دفعہ تو ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد 10 سے زیادہ ہوجاتی۔ نواز شریف کراچی آئے، کراچی آپریشن کی تنظیم نو ہوئی، وزیراعلیٰ اس آپریشن کے نگراں قرار پائے۔ رینجرز کو خصوصی اختیارات ملے اور کراچی میں آپریشن کا نیا دور شروع ہوا۔ اس آپریشن کے دوران کراچی کے مضافاتی علاقوں سے طالبان کی کئی کمین گاہیں ختم کی گئیں، بہت سے انتہاپسند ہلاک ہوئے۔ گزشتہ سال نائن زیرو پر چھاپہ مارا گیا اور بہت سے ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا۔
پولیس کے ایک افسر اور رینجرز کے اہلکاروں نے ایم کیو ایم پر ''را'' سے مدد لینے کے الزامات لگانے شروع کردیے، مگر اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب اور پھر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔ اب مصطفیٰ کمال کی قیادت میں منحرفین کا نیا گروپ قائم ہوچکا ہے۔ مصطفی کمال صدارتی نظام کے حامی اور 18 ویں ترمیم کے مخالف ہیں۔
پیپلز پارٹی کی سندھ میں 2008 سے قائم ہونے والی حکومت بری طرز حکومت کا شکار ہے۔ کراچی شہر کوڑے دان میں تبدیل ہوچکا ہے، شہر میں بجلی و پانی کا بحران بڑھ رہا ہے، کراچی اور حیدرآباد میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے محدود ہیں۔ حکومت سندھ نے یوں تو پورے صوبے میں یونیورسٹیاں قائم کی ہیں مگر حیدرآباد میں وہ یونیورسٹی قائم کرنے کو تیار نہیں، اس صورتحال میں کراچی اور حیدرآباد کی اکثریتی آبادی کے لیے ایم کیو ایم ہی امید کی کرن ہے۔
ایم کیو ایم نے اپنے پالیسی بیان میں یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ 90 کی دہائی میں ہونے والے آپریشن کی بنا پر چند سو لوگ بھارت گئے تھے، جنھیں ایم کیو ایم سے نکال دیا گیا۔ الطاف حسین اپنی تقاریر میں متعدد بار فوج سے معذرت کرچکے ہیں، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقتدرہ کراچی میں سیاسی انجینئرنگ کا نیا تجربہ کررہی ہے۔ اس سیاسی انجینئرنگ کے تحت ایم کیو ایم کے عہدیداروں کی تبدیلی پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے، شاید بلدیہ کے اہم عہدے کے لیے نامزدگی میں تبدیلی بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔
سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے ایم کیو ایم کی بنیادی پالیسی کو تبدیل کرنے کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں، مگر سیاسی تاریخ کے تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی انجینئرنگ کسی طور پر مسئلے کا حل نہیں۔ اب خود ایم کیو ایم کی قیادت کی بصیرت کا امتحان ہے۔ یہی وقت ہے کہ ایم کیو ایم کو جدید سیاسی جماعت میں تبدیل کیا جائے اور ایم کیو ایم ہر قسم کے عسکری رجحانات سے عملی طور پر قطع تعلقی اختیار کرے۔
ایم کیو ایم ایک سیکولر لبرل رجحان رکھنے والے لوگوں کی نمایندہ تنظیم ہے، ایم کیو ایم علیحدہ صوبے کا نعرہ لگاکر صرف مقتدرہ کے مقاصد پورے کرسکتی ہے۔ ایم کیو ایم کو ماضی کی طرح سندھ کے اتحاد اور ترقی پر توجہ دینی چاہیے، اگر پیپلز پارٹی نے اپنی پالیسی تبدیل نہ کی تو پورا صوبہ نئے تضادات کا شکار ہوگا، جس کا نقصان وفاق کو ہوگا۔