بھٹکے ہوئے بلوچوں کو واپس آنے کی ترغیب

بلوچستان میں ناراض لوگوں کے گلے شکوے دور کیے جانے چاہئیں ویسے بھی یہ ملک سب کا ہے


Editorial March 28, 2016
پاکستان کے ازلی دشمن مشرقی پڑوسی نے افغانستان میں بلوچستان اور کے پی کے کی سرحد کے قریب پندرہ سے زائد قونصل خانے کھول رکھے ہیں فوٹو: فائل

ISLAMABAD: صوبہ بلوچستان جو آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا مگر رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا اور وسیع و عریض صوبہ ہے شروع ہی سے ملک کے حکمرانوں کی بے اعتنائیوں اور عدم توجہ کا شکار ہے جس کی بنا پر یہ ملک دشمن قوتوں کی آماج گاہ بنا رہا۔ سن ستر کے آغاز میں جب مشرقی پاکستان حکمرانوں کی بے انصافیوں اور دشمنوں کی کھلی مداخلت کے باعث بنگلہ دیش میں تبدیل ہو گیا اور مغربی بازو کا اقتدار ذوالفقار علی بھٹو نے سنبھال لیا تو انھوں نے اپنی اولین تقریر میں بلوچستان کے مسائل حل کرنے کا اعلان کیا ۔

جس سے حالات کی بہتری کی کچھ امید بندھی مگر بدقسمتی سے بلوچستان کی پہلی منتخب حکومت کو بوجوہ توڑ دیا گیا جس سے صورتحال پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئی اور بلوچ نوجوان سکیوٹی فورسز کے آپریشن کے پیش نظر اپنے بچاؤ کے لیے پہاڑوں پر چڑھ گئے اور یوں ملک دشمن عناصر کو بلوچستان میں کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔

پاکستان کے ازلی دشمن مشرقی پڑوسی نے افغانستان میں بلوچستان اور کے پی کے کی سرحد کے قریب پندرہ سے زائد قونصل خانے کھول رکھے ہیں جن میں ''را'' کے ایجنٹ سفارتی عملے کے بھیس میں تعینات ہیں جو متذکرہ دونوں صوبوں میں تخریب کاریاں اور دہشت گردی کی وارداتیں کرواتے ہیں اور وہی کھیل کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں جو وہ مشرقی پاکستان میں کامیابی کے ساتھ کھیل چکے ہیں لہذا ہمارے ارباب بست و کشاد پر لازم ہے کہ وہ اپنی چوکسی میں رتی بھر بھی کمی واقع نہ ہونے دیں۔

کمانڈر سدرن کمان لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے گزشتہ روز بلوچ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیروں کے پاس جا کر بیٹھنے والے بھٹکے ہوئے لوگ واپس اپنوں میں آ جائیں تا کہ ہم سب مل کر صوبے کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنائیں، یوم پاکستان کے حوالے سے کوئٹہ میں اسپورٹس فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ لہٰذا پاک فوج اپنے وسائل کے مطابق کھلاڑیوں اور فنکاروں کی داد رسی کو یقینی بنا ئے گی کیونکہ فنکار ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور فنکار ہی زندہ معاشرے کی پہچان ہیں،پاکستان کے بغیر بلوچستان اور بلوچستان کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے۔

جنرل عامر ریاض نے کہا ہمارے جو دوست اور بھائی تھوڑے بہت صحیح راستے سے بھٹک کر غیروں کے پاس جا کر بیٹھ گئے وہ واپس آ جائیں ہم پیار کی بات کرینگے کیونکہ یہ ملک اور صوبہ ان کا ہے اور ہمارا ہے۔ یہ درست طرز عمل ہے، بلوچستان میں ناراض لوگوں کے گلے شکوے دور کیے جانے چاہئیں ویسے بھی یہ ملک سب کا ہے اور تمام قومیتوں کو ترقی کے برابر مواقع ملنے چاہئیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک قائم کرنا انتہائی ضروری ہے تا کہ بلوچستان کے مزدوروں، طلباء اور ورکنگ کلاس کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک سفر کرنا آسان ہو جائے اور وہ یہ فاصلہ بھی کم وقت میں طے کر لیں، اس طریقے سے بلوچستان میں قدیم نظام میں تبدیلی کی رفتار تیز ہو گی اور بلوچستان میں ترقی کا عمل بھی تیز ہو گا۔