میانماربرما میں نصف صدی بعد پہلے انتخابات

بہرحال برما ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ جمہوری قوتوں نے برسوں بعد ابتدائی کامیابی حاصل کر لی ہے


Editorial March 31, 2016
بہرحال برما ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ جمہوری قوتوں نے برسوں بعد ابتدائی کامیابی حاصل کر لی ہے، فوٹو؛ فائل

KARACHI: میانمار میں نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے ہیں جن میں ملک کی عالمی سطح پر شہرت یافتہ اور امن کا نوبل انعام جیتنے والی خاتون لیڈر آن سان سو چی کی سیاسی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے انتخابات میں فتح حاصل کرتے ہوئے ملک میں حکومت قائم کر لی ہے جب کہ ملک کے پہلے منتخب سویلین صدر ہیٹن کیاؤ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ این ایل ڈی کے رہنما اور آنگ سان سوچی کے قریبی ساتھی ہیٹن کیاؤ نے صدر تھین سین کی جگہ صدارت کا عہدہ سنبھالا ہے۔

میانمار کی فوجی جنتا نے ملک کا جو آئین تشکیل دیا تھا اس کی رو سے سوچی پر ملک کی سربراہ کا عہدہ سنبھالنے پر قدغن عائد کر دی گئی تھی۔ منتخب صدر ہٹین کیاؤ نے ملک کے اولین سویلین صدر کا عہدہ سنبھالتے ہوئے اپنے مختصر خطاب میں اپنی لیڈر آن سان سو چی کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ 2008ء کے چارٹر کو تبدیل کیا جانا ضروری ہے جس کے تحت فوج کو سیاست میں سب سے زیادہ طاقتور پوزیشن حاصل ہے، اس کے ساتھ ہی انھوں نے ملک میں قومی مفاہمت پر بھی زور دیا۔

واضح رہے میانمار میں جسکا پرانا نام برما ہے، فوج نے 1962ء میں ملک کے اقتدار پر بالجبر قبضہ کر لیا تھا۔ مادام سوچی کا کہنا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں فوج کا کردار ختم کرنا چاہتی ہیں مگر اس کے لیے بھی انھیں فوج کی ہی مدد درکار ہو گی۔ اگر چہ نئی حکومت میں سو چی کا کوئی رسمی کردار تو نہیں تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر کی باگیں سو چی کے ہاتھ میں ہی رہیں گی۔ ادھر عسکری ادارے پارلیمان میں 25 فیصد نشستوں اور چند اہم وزارتوں کے ساتھ نئی حکومت میں بھی اہم کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

بہرحال برما ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ جمہوری قوتوں نے برسوں بعد ابتدائی کامیابی حاصل کر لی ہے لیکن ابھی یہ جدوجہد مزید کئی برس جاری رہے گی۔ برما کی نئی حکومت کو بہت سے مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ یہ ملک برسوں سے عالمی تنہائی کا شکار ہے۔

جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اس کے تجارتی رشتے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ملک میں روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ نئی حکومت ان مسائل پر قابو پانے کے لیے کیا کرتی ہے اس کا پتہ آنے والے وقت میں چلے گا تاہم یہ بات طے ہے کہ برما آمریت سے نکل کر جمہوریت کی شاہراہ پر سفر کا آغاز کر چکا ہے۔