دہشت گردی کے نئے واقعے سے پہلے

دہشت گردی اور خودکش حملوں کا سلسلہ نائن الیون کی دہشتگردی کے بعد شروع ہوا تھا


Dr Tauseef Ahmed Khan April 01, 2016
[email protected]

KARACHI: ملک ہمیشہ غیریقینی صورتحال کا شکار رہا ہے، کوئی خودکش حملہ آور گلشن اقبال جیسے دوسرے پارکوں، تعلیمی اداروں، عبادت گاہوں کو نشانہ بناتا رہے گا، چند ہزار افراد ریڈ زون پر قبضہ کر لیں گے، کراچی کے ایم اے جناح روڈ کو چند سو لوگ بند کر کے پورے شہر کا ٹریفک معطل کر دیں گے۔ کیا انتہاپسند عناصر کراچی اور اسلام آباد پریس کلب پر مزید حملے کریں گے؟ اتوار 27 مارچ سے اس ہفتے کے اختتام پر یہ سوالات ہر باشعور شہری کے ذہن میں گونج رہے ہیں۔

دہشت گردی اور خودکش حملوں کا سلسلہ نائن الیون کی دہشتگردی کے بعد شروع ہوا تھا، پہلے مری، پشاور اور کوئٹہ میں مذہبی عبادت گاہوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، پھر اسلام آباد میں فائیو اسٹار ہوٹل، ڈیوٹی کمپلیکس، جی ایچ کیو کے دفاتر، ریس کورس، پریس گراؤنڈ کی مسجد، لاہور ملتان میں خفیہ عسکری اور سول خفیہ ایجنسی کے دفاتر پر حملے ہوئے تھے، پھر یہ سلسلہ کراچی تک پھیل گیا۔ کراچی میں دس محرم کے جلوس اور امام بارگاہوں پر حملوں، پولیس، رینجرز، بری بحری فوج کے افسروں، مذہبی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ اس سلسلے کو مزید بھیانک کر گئی۔

دہشت گردوں نے صرف مذہبی جلوسوں، عبادت گاہوں اور فوجی تنصیبات کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ ان روشن خیال ترقی پسند وکلا، اساتذہ، خواتین کو بھی محض اس لیے شہید کیا یا تو وہ مذہبی عصبیت کے نام پر ہونے والے جبر کے خلاف شعور پیدا کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے یا ان افراد کی دادرسی کر رہے تھے جو مذہبی انتہاپسندوں کے انتقام کا نشانہ بنے۔ گزشتہ 16 سال کی تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی پندرہ سال میں ریاستی اداروں نے دہشت گردی کے معاملات کی گہرائی کو محسوس نہیں کیا تھا۔

پاکستان میں دہشت گردی پر تحقیقات کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے بعض گروہوں کواندرونی قوتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ حکومتوں نے غیر ریاستی کرداروں کی سرگرمیوں پر کبھی قدغن لگانے کی کوشش کو پسند نہیں کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس پالیسی کا افغانستان اور بھارت سے متعلق پالیسی سے گہرا تعلق تھا۔ سابق صدر مشرف نے گزشتہ سال ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹریو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے افغانستان میں طالبان کی اس بنا پر سرپرستی کی کہ افغانستان میں بھارت کے عزائم کو ناکام بنایا جائے۔

پرویز مشرف کی اس پالیسی کے نتیجے میں طالبان کو پہلے بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے متصل قبائلی علاقوں میں اپنی کمیں گاہیں قائم کرنے کا موقع ملا، ملا فضل اﷲ کی قیادت میں ان انتہاپسندوں نے سوات پر قبضہ کر لیا۔ ان عناصر کو شمالی وزیرستان میں محفوظ اڈے قائم کرنے کا موقع ملا۔ شمالی وزیرستان میں پناہ لینے والے گروہوں نے کراچی تک اغوا برائے تاوان کے کاروبار کو پھیلایا، اس طرح ان عناصر کی مالیاتی سپلائی لائن مضبوط ہو گئی۔ اس وقت پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو ان عناصر کی خلاف کارروائی کا اختیار نہیں تھا۔ ان میں سے بعض گروہوں کو کنٹرول لائن عبور کر کے بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں جہادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جاتا تھا۔

یہ لوگ واپسی میں ملک میں مذہبی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ جب نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد پاکستان نے امریکا اور نیٹو کی افواج سے تعاون کیا تو امریکا اور اس کے اتحاد کے سامنے سب سے اہم سوال یہ تھا کہ پاکستان میں انتہاپسندی کی بنیادوں کا خاتمہ کیسے کیا جائے۔ اس عالمی دباؤ کی بنا پر پرویز مشرف کی حکومت نے تعلیمی اداروں کے نصاب سے رجعت پسندی پر مبنی مواد کے خاتمے، مدرسوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، غیر مسلمان شہریوں کے یکساں حقوق کو یقینی بنانے کے لیے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں سے مذہب کے خانے کے اندراج کو حذف کرنے کے اقدامات تجویز کیے۔

یہ وہ وقت تھا جب پرویز مشرف ملک پر تاحیات حکومت کرنے کے منصوبے پر سوچ بچار کر رہے تھے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے انھیں مسلم لیگ ق کی حمایت کی ضرورت تھی۔یوں فیصلہ کن مقتدرہ کے ایک حصے کی ایما پر مسلم لیگ ق نے اپنے محبوب صدر کی اصلاحات کے خلاف مہم شروع کر دی۔ اس مہم کی بنا پر نوازشریف کو انتہاپسندی کے خاتمے کے ایجنڈے سے دستبردار ہونا پڑا۔ اس طرح انتہاپسندوں کے عزائم مزید بلند ہو گئے اور یہی وقت تھا جب انتہاپسند مذہبی گروہوں کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیل گیا۔

2002ء کے انتخابات منعقد ہوئے تو پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو تقویت دینے کے لیے اپنی لبرل پالیسیوں کو خیرباد کہہ دیا۔ یہی وہ وقت تھا کہ طالبان نے کراچی کے مضافاتی علاقوں اور جنوبی پنجاب میں اپنے نئے اڈے قائم کیے تھے۔ ملک بھر میں فرقہ وارانہ بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں۔ ان انتخابات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے قیام کا موقع دیا گیا۔ ایم ایم اے کی حکومت نے کے پی کے میں انتہاپسندی کے فروغ میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اسی زمانے میں مختلف نوعیت کے رفاہی ٹرسٹ وجود میں آ گئے تھے، اس طرح انتہاپسندوں کو افرادی طاقت اور مالیاتی امور کی فراہمی میں درپیش رکاوٹیں بھی دور ہو گئی تھیں۔

یہ وہی وقت تھا جب انتہاپسند عناصر نے دو دفعہ پرویز مشرف کی جان لینے کی کوشش کی تھی مگر پرویز مشرف انتہاپسندی کی جڑوں کو کاٹنے کے لیے کوئی دائمی اقدام نہیں کر پائے۔ شمالی وزیرستان میں متحرک طالبان کے ایک گروہ نے ستمبر 2007ء میں کراچی میں محترمہ بینظیر بھٹو کے جلوس کو براہ راست نشانہ بنایا تھا، اس حملے میں بینظیر کی تو جان بچ گئی تھی مگر بہت سے کارکن شہید ہو گئے تھے۔ سندھ کی پولیس اور خفیہ ایجنسیاں اس حملے کے پس پردہ عناصر کا پتہ نہیں لگا پائیں۔ بینظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا۔

پرویز مشرف حکومت کے سیکیورٹی کے مشیر نے اس وقت یہ انکشاف کیا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا منصوبہ شمالی وزیرستان میں بنایا گیا، اور خودکش حملہ آور کو وہیں تربیت دی گئی۔ مگر حکومت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بارے میں پھر بھی نہیں سوچا۔ جب زرداری حکومت قائم ہوئی، سوات پر ملا فضل اﷲ کا قبضہ تھا۔ اسی زمانے میں ایک دن مولانا فضل الرحمن نے انکشاف کیا کہ طالبان اسلام آباد پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ حکومت اور مقتدرہ ادارے سوات پر آپریشن میں مجبور ہوئے، مگر ملا فضل اﷲ کو افغانستان میں جانے کا محفوظ راستہ مل گیا۔

اسی زمانے میں ممتاز محقق ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اپنے آبائی علاقے جنوبی پنجاب میں انتہاپسندوں کے محفوظ ٹھکانے کی نشاندہی کی تھی، مگر پنجاب حکومت نے اسی سے انکار کیا۔ ذرایع ابلاغ میں مسلسل یہ خبریں شایع ہوئیں کہ 2013ء کے انتخاب میں کامیابی کے لیے مسلم لیگ ن نے جھنگ اور جنوبی پنجاب میں انتہاپسند عناصر سے اتحاد کیا تھا۔

گزشتہ سال آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ریاستی ادارے ایک لائن پر متفق ہوئے۔ شمالی وزیرستان میں پہلی دفعہ بھرپور آپریشن ہوا اور اس آپریشن کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے مگر جنوبی پنجاب پر پھر بھی توجہ نہیں دی گئی۔ گزشتہ اتوار کو گلشن اقبال پارک پر حملے کے بعد جنوبی پنجاب میں فوج کے آپریشن کی نوید سنائی دی گئی، مگر پنجاب میں رینجرز کو وہ اختیارات نہیں دیے گئے جو اس کو کراچی میں دیے گئے۔ اسلام آباد اور کراچی میں دھرنا دینے والوں کے ساتھ اچھا سلوک اور کراچی میں حالات کار کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرنے والے کالج اساتذہ پر تشدد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب بھی انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل تیار نہیں ہوا۔

ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ پورے ملک سے اسلحہ کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ ایک مشکل ترین کام ہے۔ بااثر قبائلی سردار، جاگیردار اور چاروں صوبوں میں کام کرنے والی مافیاز اس کاروبار سے اربوں روپے کماتی ہیں، مگر حکومت اور تمام ایجنسیاں اسلحے کے خاتمے پر متفق ہو جائیں تو چاہے دس سال لگ جائیں، ملک میں امن ہو سکتا ہے۔ انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اہم ترین معاملہ لوگوں کی ذہنوں کی تبدیلی سے منسلک ہے۔ ذہنوں کی تبدیلی کے لیے صدر ممنون حسین سے لے کر عام آدمی تک کونسلنگ کی ضرورت ہے۔

اس کونسلنگ کے لیے تعلیمی اداروں کے نصاب سیکولر بنیاد پر تبدیل کرنے، مدرسوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، ہر قسم کے تشدد کو انسان دشمن قرار دینے کے لیے پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ، میڈیا، یونیورسٹیوں، مساجد، غرض ہر ادارے کو ایک موقف اختیار کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ غیر ریاستی کرداروں کی مکمل طور پر سرکوبی ضروری ہے۔ دوسری صورت میں ملک میں کہیں اور دہشت گردی کا واقعہ ہو گا، نواز شریف پھر اسی طرح کی تقریر کریں گے اور عام آدمی اسی صورت حال میں زندگی گزارے گا۔