عوامی نمایندگی کا حق
ہمارے ملک میں موت کے وقت جذباتی صورتحال ہوتی ہے
RAWALPINDI:
کشور زہرا نے سوشل ورک کے مضمون میں کراچی یونیورسٹی سے سند حاصل کی اور اپنی زندگی سماجی شعبے کے لیے وقف کردی۔ وہ ادیب الحسن رضوی کی ٹیم میں شامل ہوگئیں۔ انھوںنے تعلیمی دور میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی قربت حاصل کی، پھر متحدہ قومی موومنٹ میں شامل ہوئیں۔
ایم کیو ایم کی قیادت نے دو دفعہ قومی اسمبلی کے رکنیت کے لیے نامزد کیا۔کشور زہرا اس سے پہلے بلدیہ کراچی کی منتخب کونسلر بھی رہیں۔کشور نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی سرگرمیوں سے بھی مکمل انصاف کیا۔ انھوں نے قومی اسمبلی میں خواتین کے امور، تعلیم اورصحت کے مسائل پر ترجیحی طور پر آواز اٹھائی۔کشور زہرا نے2014 میں ہیومن آرگن اینڈ ٹشو بل میں ترامیم کی تجاویز قومی اسمبلی میں پیش کیں۔گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیکریٹریٹ میں ان ترامیم کو منظورکرلیا۔ ان ترامیم پر عملدرآمد کے ذریعے انسانی اعضاء کی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوگی ، نادرا کے شناختی کارڈ میں بلڈ گروپ کا اندراج ہوگا اور ڈرائیونگ لائسنس میں ایک خانہ اعضا عطیہ کرنے کے بارے میں بھی ہوگا۔
ان ترامیم کے ذریعے انسانی اعضاء دینے والے شخص کو زکوٰۃ خیرات اورکسی بھی مد میں ادائیگی جرم سمجھی جائے گی۔کشور زہرا ان ترامیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ بہت سے افراد اپنے اعضاء عطیہ کرنے پر اتفاق کرتے ہیں عموماً وہ کسی غیر سرکاری تنظیم کا فارم اپنے اعضاء مثلا آنکھیں ،گردے وغیرہ عطیہ کرنے کا بھرتے ہیں۔ بعض افراد زبانی طور پر اپنی رضا مندی ظاہرکرتے ہیں، مگر اچانک موت واقع ہونے کی صورت میں یہ فارم دستیاب نہیں ہوتے یا متوفی کے زبانی اعلان کا اس وقت کوئی شخص ذکر نہیں کرتا یا اس وقت موجود لوگوں کو اس وصیت کا علم ہی نہیں ہوتا۔
ہمارے ملک میں موت کے وقت جذباتی صورتحال ہوتی ہے اور لواحقین عطیہ دینے کی اہمیت کو محسوس نہیں کرتے، یوں قریبی عزیزکی موت پر صدمے اور سوگوار ماحول کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ لوگ عموماً اپنے عزیزکے اعضاء کی وصیت کو بعض دوسری وجوہات کی بنا پر بھول جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں مرنے کے بعد اعضاء کا عطیہ دینے کی شرح بہت کم ہے۔ اس صورت حال کی بنا پر بہت سے مریض مناسب وقت پر اعضاء کا عطیہ نہ ملنے کی صورت میں جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ اب شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس میں اعضاء عطیہ کرنے کے اندراج ہونے سے متعلقہ اسپتال کے عملے کو فوری آپریشن میں آسانی ہوجائے گی۔
ممتاز سرجن ڈاکٹر مرلی کا کہنا ہے کہ کسی فردکے انتقال کے بعد جتنی جلدی اعضاء مثلا، گردے کو نکال کر مریض کے جسم میں لگادیا جائے تو اس آپریشن کی کامیابی زیادہ یقینی ہوجاتی ہے ۔جب سے پاکستان اور بھارت نے اعضاء کی پیوندکاری کا سلسلہ شروع ہوا ہے، ان انسانی اعضاء کی تجارت شروع ہوگئی ۔
ایک زمانے میں بھارت کے شہر ممبئی مدراس اور دہلی انسانی اعضاء کی تجارت کے بڑے مرکز بن گئے تھے۔ ان شہروں میں اسپتال مریضوں سے پیکیج ڈیل کرتے تھے اور مریض سے خطیر رقم وصول کرتے تھے اورکسی غریب شخص سے چند ہزار روپے کے عیوض اس کے اعضاء یا خاص طور پر گردہ خرید لیا جاتا تھا عمومی طور پر غریب لوگ کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں، یوں ان کی زندگی بھی خطرے میں پڑجاتی ہے۔
اسلام آباد، لاہور اورکراچی کے بعض اسپتالوں میں بھی اسی طرح کا کاروبار جاری ہے۔ ایس آئی یو ٹی میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ قریبی رشتے داروں (Blood Relation) کے اعضاء کی پیوند کاری کا تجربہ بہت زیادہ کامیاب ہوا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ قریبی عزیزوں کے جسم کے ٹشوز اور مریض کے جسم کے ٹشوز ایک ہی ساخت کے ہوتے ہیں مگر دوسرے لوگوں کے جسم کے ٹشوز اسی بناء پر بہت کم مل پاتے ہیں ۔
صحت کے موضوع پر حقائق جمع کرنے والے کچھ صحافیوں نے اپنی تحقیق کے بعد اپنی رپورٹوں میں لکھا کہ سماجی خدمت انجام دینے والی بعض تنظیموں کے عہدیدار لاوارث افراد کے گردے فروخت کرنے کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ انگریزی کے ایک معروف اخبار نے ایک ایسے شخص کی داستان شایع ہوئی جس کو نامعلوم افراد نے اغوا کرکے بے ہوش کیا پھر اس شخص کوہوش آیا تو پتہ چلا کہ نامعلوم ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے اس کا گردہ چرا لیا۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیا میں وسطی پنجاب کے گاؤں کا ذکر ہوا تھا۔ اس گاؤں کے تمام مردوں نے غربت کی بناء پر اپنے گردے فروخت کردیے تھے، یہ لاغر افراد اب مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے اور سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔
پاکستان میں گردوں کے علاج کا سب سے بڑا ادارہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی ہے جس کو ڈاکٹر و سرجن ادیب الحسن رضوی نے 1970میں قائم کیا۔ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے 50کی دہائی میں کراچی میں تعلیم کو عام اور سستا کرنے کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔یہ تحریک بائیں بازوکی طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے 8جنوری 1953کو چلائی تھی۔ ادیب الحسن رضوی ان رہنماؤں میں شامل تھے جنھیں اس تحریک کو منظم کرنے کے جرم میں کئی ماہ کراچی سینٹرل جیل مقید رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر رضوی کے ذہن میں ہمیشہ غریبوں کے حالات کار کی بہتری اور صحت کو ریاست کی ذمے داری بنانے کا معاملہ ہمیشہ اہم رہا۔
یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سول اسپتال کے دس بستروں کے چھوٹے سے وارڈ سے اپنی کوششیں شروع کیں اور 1991میں یہ سندھ انسٹی ٹیوٹ یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ کی شکل اختیارکرگیا۔ یہ ادارہ سرکاری شعبے میں عوام کے عطیات سے چلنے والا سب سے کامیاب ادارہ ہے۔صرف کراچی کے اس انسٹی ٹیوٹ میں پندرہ سو بستردستیاب ہیں ۔
ایس آئی یو ٹی میں 2003 میں پہلا لیور ٹرانسپلانٹ ہوا تھا ۔ 2004 میں بچوں کے لیے کڈنی سینٹر کا ایک الگ یونٹ قائم ہوا۔پاکستان میں گردے کی منتقلی کا پہلا آپریشن ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے کیا تھا۔ ایس آئی یو ٹی میں ہر ہفتے دس سے بارہ کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوتے ہیں۔ اس ادارے میں غریبوں کا تمام علاج مفت ہوتا ہے ۔ڈاکٹر ادیب اور ان کی ٹیم میں صرف آپریشن ہی نہیں کیے بلکہ گردے کے عطیے دینے کے بارے میں ایک بہت موثر مہم چلائی۔گزشتہ صدی کے آخری عشرے تک بہت سے علماء گردے کی پیوند کاری کو اسلام کے خلاف سمجھتے تھے مگر ڈاکٹر ادیب اور ان کی ٹیم کی کوششوں سے تمام مکاتب فکر کے علماء اس بات پر متفق ہوئے کہ انسانی اعضاء کی پیوند کاری اسلام کے اصولوں کے مطابق ہے۔
ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے بہت عرصے پہلے یہ محسوس کرلیا تھا کہ جب اعضاء کی پیوند کاری کے بارے میں کوئی جامع قانون نہیں ہوگا ،اس مقدس کام کو غیر قانونی تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا رہے گا۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کشور زہرا اور دوسرے لوگوں کی کوششوں سے بیوروکریسی قانون کے مسودے کو تیارکرنے پر آمادہ ہوئی۔
اراکین پارلیمنٹ کی آگاہی کے لیے ایڈوکیسی مہم چلائی گئی اس مہم کے نتیجے میں ہیومن آرگنز اینڈ ٹشو بل منظور ہوا۔ مگر جب قانون نافذ ہوا تو اس کی بعض خامیاں سامنے آئیں پھر کشور زہرا نے 2014 میں اس قانون میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ اس ترمیمی بل کے نفاذ کے بعد اعضاء کے عطیہ دینے میں بہت سے رکاوٹیں دور ہوجائیں گی اور اس بات کا امکان ہے کہ اعضاء کی خریدوفروخت کا معاملہ بھی بہت حد تک کم ہوجائے گا مگر کشور زہرا اور ان کے ساتھیوں کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔
پاکستان میں صحت کا شعبہ ابتری کا شکار ہے وفاقی حکومت جی ڈی پی کا صرف 0.42 فی صد رقم خرچ کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی پاسداری کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم انسانی حقوق کمیشن HRCP کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بائیس خطرناک امراض کی فہرست میں پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔ ملک میں صحت کی ستر سے اسی فیصد تک سہولتیں نجی شعبہ فراہم کرتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں بیڈ، ادویات اور آلات کی کمی پروفیسرز اور سینئر ڈاکٹروں کا مریضوں کے علاج کے لیے دستیاب نہ ہونا عام سی بات ہے ۔ دوسری جانب ڈاکٹروں کی تنخواہیں بہت کم ہیں ، کراچی کے ایک بڑے اسپتال میں ٹرینی ڈاکٹروں کو مہینوں تک تنخواہ ادا نہیں کی جاتی۔
کینیڈا میں مقیم شہری عبدالقدوس خان کو اس بات پر حیرت ہے کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں کنسلٹنٹ ہر مریض سے وہی فیس وصول کرتے ہیں جو پہلے معائنے پر لی جاتی ہے، یہ فیس کراچی میں کم سے کم 800 اور زیادہ سے زیادہ 2000 ہزار روپے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریض سے دوبارہ فیس لینا غیر اخلاقی اور ڈاکٹروں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح دوا سازکمپنیاں زیادہ استعمال ہونے والی دواؤں کو بازار سے غائب کردیتی ہیں اور بیوروکریسی کی مدد سے ان کی قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں۔ عام آدمی کے لیے ڈاکٹرزکی فیس ادویات کی خریداری اور لیبارٹری ٹیسٹ ناقابل برداشت ہوگئے ہیں۔ بھارت میں چند سال قبل قانون نافذ ہوا تھا کہ ڈاکٹر اپنا نسخہ بڑے حرفوں Capital letters میں لکھیں گے تاکہ ہر شخص انھیں پڑھ سکے۔
کشور زہرا نے حقیقی عوامی نمایندگی کا حق ادا کیا ہے، ان سے عوام یہ امید رکھتے ہیں کہ ان مسائل کے حل کے لیے وہ منتخب ایوان میں آواز اٹھائیں گی اور وہ وقت جلد آئے گا، جب ریاست ہر شہری کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمے داری کو پورا کرے گی۔