انتہا پسندی اور نصاب تعلیم

جنوبی وزیرستان میں آئی ڈی پیز واپس جا چکے ہیں اور فاٹا کی سب سے بڑی اس ایجنسی میں معاملات زندگی بحال ہو گئی ہے


Editorial April 06, 2016
پاکستان میں اس وقت جو نصاب تعلیم رائج ہے اس میں بھی انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی زیر صدارت گزشتہ روزوزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں قومی اور داخلی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق سیاسی و عسکری قیادت نے وزیرستان آپریشن کے باعث عارضی طور پر بے گھر افراد کی واپسی کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے آپریشن ضرب عضب پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھرواضح کیاکہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میںرا کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی پیشرفت پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ادھر سعودی مجلس شوریٰ کے چیئرمین ڈاکٹرعبداللہ محمدالشیخ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط اورمستحکم ہورہی ہے اور پارلیمنٹ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ جمہوری اورفعال ہے، آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گرد فرارہو رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کو توانائی بحران، امن وامان کے مسائل اور معاشی تنزلی ورثے میں ملی ہے لیکن ڈھائی سال پہلے کی نسبت ملک آج بہتر پوزیشن میں ہے۔

پاکستان میں آئی ڈی پیز کا مسئلہ بھی دہشت گردی سے جڑا ہوا ہے۔ قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن ہوئے اس کے نتیجے میں آئی ڈی پیز کا مسئلہ پیش آیا۔ اب قبائلی علاقوں میں صورت حال خاصی بہتر ہو چکی ہے، جنوبی وزیرستان میں آئی ڈی پیز واپس جا چکے ہیں اور فاٹا کی سب سے بڑی اس ایجنسی میں معاملات زندگی بحال ہو گئی ہے۔اسی طرح شمالی وزیرستان میں بھی دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اب یہاں آئی ڈی پیز کی آباد کاری شروع ہو رہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کا عمل جلد از جلد شروع ہونا چاہیے۔ ویسے بھی اب وقت آ گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی رفتار کو مزید تیز بنایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ یہاں ضروری آئینی تبدیلیاں بھی لائی جانی چاہئیں۔ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا کے بندوبستی علاقوں کا درجہ دیا جانا چاہیے یا پھر کم از کم اسے پاٹا میں تبدیل کر دیا جائے یعنی ان قبائلی کو صوبائی حکومت کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔فاٹا کو الگ صوبے کا بھی درجہ دیا جا سکتا ہے،بہر حال یہ سب کچھ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔

جہاں تک دہشت گردی سے نمٹنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں بھی ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔حال ہی میں سانحہ گلشن اقبال لاہور رونما ہو چکا ہے۔اس سانحے کے بعد پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے مطابق آپریشن کا آغاز ہو چکا ہے ، بلاشبہ دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی کارروائیاں انتہائی ضروری ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور علمی محاذ پر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کا تقریباً 70فیصد حصہ انتہائی پسماندگی کا شکار ہے۔ خیبرپختونخوا ،بلوچستان ، کراچی کو چھوڑ کر دیہی سندھ اور جنوبی پنجاب میں آج بھی قبائلیت اور جاگیرداریت کا راج ہے۔

اس سماجی سیٹ اپ کو تبدیل کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ سیٹ اپ اس وقت ٹوٹے گا جب وفاق یہاں انفراسٹرکچر تعمیر کرے گا۔ کسی سماج کو تبدیل کرنے کے لیے سب سے پہلا کام مرکزی اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر ہوتی ہے ،اس کے ساتھ ساتھ ریلوے کے نظام کو فعال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ریل اور سڑک سے لیبر کی حرکت پذیری میں تیزی آتی ہے، جب یہ تیزی آتی ہے تو تعلیم کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ تعلیم اور انفراسٹرکچر دو ایسی چیزیں ہیں جوپرانے نظام کو تبدیل کر کے نئے سماجی نظام کی داغ بیل ڈالتی ہیں۔

پاکستان میں اس وقت جو نصاب تعلیم رائج ہے، اس میں بھی انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اسکولوں میں جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے بلکہ ملک میں رائج دوہرا نظام تعلیم ختم کر کے یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جانا چاہیے۔ جب سرکاری اور نجی شعبے میں ایک ایسا نصاب پڑھایا جائے گا تو اس سے سماجی اونچ نیچ میں کمی آئے گی۔ انتہا پسندوں کو کمزور کرنے کے لیے نصاب تعلیم جدید بنانا انتہائی ضروری ہے۔

بندوق کے ذریعے دہشت گردوں کو مارا تو جا سکتا ہے لیکن انتہا پسندی پر مبنی مائنڈ سیٹ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مائنڈ سیٹ اسی وقت تبدیل ہو گا جب نصاب تعلیم جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ارباب اختیار کر حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اصل ایشوز کی طرف آنا چاہیے۔