’’وکی لیکس‘‘ وکی بھائی کوہی لے ڈوبے

’ٹیم ہاری تو میراکیا قصور، ٹیسٹ میں ہم جیت رہے ہیں لہٰذا میری کوچنگ تو ٹھیک ہے۔


Saleem Khaliq April 06, 2016
ٹیم ہاری تو میراکیا قصور، ٹیسٹ میں ہم جیت رہے ہیں لہٰذا میری کوچنگ تو ٹھیک ہے۔ فوٹو؛ فائل

''ٹیم ہاری تو میراکیا قصور، ٹیسٹ میں ہم جیت رہے ہیں لہٰذا میری کوچنگ تو ٹھیک ہے، استعفیٰ دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا''

یہ اور اس قسم کی ہی باتیں وقار یونس گذشتہ چند روز سے کر رہے تھے، انھوں نے قوم سے معافی تو مانگی مگر شکستوں کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہ ہوئے، یہ عجیب بات تھی، ایشیا کپ کے بعد ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی گرین شرٹس کو شرمناک شکستیں ہوئیں، شائقین اور میڈیا کی جانب سے شور مچتا رہا کوئی عہدہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہوا، پھر اچانک وقار یونس کی خفیہ رپورٹ لیک ہو گئی۔

اس میں انھوں نے شاہد آفریدی کے خلاف انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے، عمر اکمل اور احمد شہزادکو لتاڑا جب کہ معین خان اور نجم سیٹھی کو بھی نہ بخشا، اس سے قبل میڈیا چیئرمین بورڈ شہریارخان ، نجم سیٹھی و دیگر بورڈ آفیشلز کی خبر لے رہا تھا اچانک اس کی توجہ کا مرکز شاہد آفریدی بن گئے، ان کے سارے کارنامے بھلا دیے گئے۔

ایسا لگا کہ آفریدی نے ہی ہر میچ میں 10بار بیٹنگ کی اور تمام 20 اوورز کیے،مجھے بھی اس رپورٹ کے کچھ مندرجات کا پتا چلا لیکن اخبار سے تعلق ہے لہذا خبر تو اگلے دن ہی آنا تھی اس وقت تک ٹی وی چینلز پر شور مچ چکا تھا، اگلے چند روز تک میڈیا پر وقار یونس اور آفریدی چھائے رہے،کوچ نے رپورٹ لیک ہونے پر سخت غصے کا اظہار کیا کیونکہ اس سے ان کی اپنی پوزیشن کمزور ہو گئی، جن لوگوں کی زبان ''وکی بھائی وکی بھائی'' کہتے نہیں تھکتی تھی وہ بھی ناراض ہوگئے۔

اس دوران حکومت سے بورڈ کے بڑوں کو کام جاری رکھنے کا گرین سگنل مل چکا تھا، مگر اب ان بھولے شائقین کا کیا کریں ، میڈیا بھی شور مچاتا رہے گا، ایسے میں قربانی کے بکروں کی تلاش شروع ہوئی، سلیکشن کمیٹی کوتو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ آپ کو اب جانا ہوگا،بس یہ کارڈ شو کرنے کیلیے مناسب وقت کا انتظار تھا، وقار یونس نے اپنی پوری کوشش کی کہ کسی طرح پوزیشن بچ جائے، اسلام آباد تک ہوآئے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، آپ لوگ سوچتے ہوں گے۔

ان کے پاس اربوں روپے،آسٹریلیا کی شہریت اور سڈنی میں گھر تک موجود ہے پھر بھلا کیوں 15لاکھ روپے مہینے کی ملازمت بچانے کیلیے اتنی تگ و دو کر رہے تھے، اس کی کئی وجوہات ہیں ایک انسان کی نفسیات، آپ کے پاس خوب دولت ہوپھر بھی ایسی کوئی ملازمت مل جائے تو دوڑے چلے جاتے ہیں، میڈیا پر بھرپور کوریج کے ساتھ وقار یونس کو تنخواہ،الاؤنسز،گاڑی، پیٹرول، موبائل فون، سال میں چار آسٹریلیا کے بزنس کلاس ہوائی ٹکٹ و دیگر سہولیات حاصل تھیں۔

یہ سب کچھ چھوڑنا آسان نہیں تھا، دوسری بات یہ کہ برطرفی کی صورت میں آگے ملازمت حاصل کرنے میں دشواری ہوتی،آسٹریلیا تو مشکوک ماضی کے سبب لفٹ نہیں کرواتا، پھر تو زمبابوے بھی نہیں پوچھتا،وقار یونس کی انا تو ویسے ہی مشہور ہے اسے بھی ٹھیس پہنچتی، وہ جب ہر جگہ سے ہمت ہار گئے تو بورڈ کی جانب سے اعلان ہونے سے قبل ازخود عہدہ چھوڑ دیا، اس سے انھیں 45 لاکھ روپے کا نقصان تو ہوا کیونکہ اگر پی سی بی نکالتا تو تین ماہ کی تنخواہ ادا کرنا پڑتی مگر وقار کا وقار بچ گیا۔

اب وہ شان سے کہہ سکیں گے کہ میں نے استعفیٰ دیا تھا، حالانکہ کوئی ان سے پوچھے بھائی جب ایسا ہی کرنا تھا تو 10دن انتظار کیوں کیا پہلے ہی یہ قدم اٹھا لیتے، اب وہ اپنے نئے ملک آسٹریلیا چلے جائیں گے،کمنٹری کا کام بھی مل جائے گا، پھر جب بھولی عوام یہ شکست بھول جائے گی تو پھر ''ملک کی خدمت'' کیلیے دوڑے چلے آئیں گے، مگر ٹیم کا جو انھوں نے بیڑا غرق کیا اس کا کون جواب دے گا، ان سے پوچھا جائے کہ 19ماہ میں کس بولر کو ورلڈکلاس بنایا،کتنے بیٹسمینوں کا کھیل بہتر ہوا، اپنے ساتھ جو گرانٹ فلاور اور مشتاق احمد جیسے لوگ رکھے انھوں نے بہتری کیلیے کیاکام کیا؟

ٹیم کی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں ساتویں،آٹھویں پوزیشن کا کون حساب دے گا؟اب وہ معصوم عوام کو بے وقوف بنانے کیلیے کہہ رہے ہیں کہ میں نے اپنے لاکھوں روپے چھوڑ دیے وہ ڈومیسٹک کرکٹ پر لگائے جائیں حالانکہ حقیقت کیا ہے وہ میں آپ کو بتا چکا، اگر انھیں ڈومیسٹک کرکٹ کی اتنی فکر ہوتی تو میچ دیکھنے جاتے، وہ تو ہر سیریز ہارنے کے بعد آسٹریلیا چلے جاتے تھے۔

ان کا زور بس کیمپس لگانے پر ہوتا جو ہر بار ممکن نہ تھا، درحقیقت اگر ان کی رپورٹ لیک نہ ہوتی تو اتنے دباؤ میں نہ آتے، انھوں نے اس میں جن لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ان کے ساتھ دوبارہ کام کرنا آسان نہ تھا، پھر اپنے بارے میں ایک لفظ تک نہ لکھا کہ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی تھی، عبدالرزاق اور شعیب اختر جیسے کئی کرکٹرز کا کیریئر وقار یونس نے تباہ کیا، پھر سرفراز احمد کو باہر کرنے کیلیے کوئی کسر نہ چھوڑی، وہ تو رضوان کچھ نہ کر پائے ورنہ سرفراز اب تک قصہ پارینہ بن چکے ہوتے،اب تو خیر سے وہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بھی بن چکے، یہ اور بات ہے کہ ایسا بورڈ نے خود پر موجود دباؤ کم کرنے کیلیے کیاکیونکہ اگلا ٹی ٹوئنٹی تو اب7ستمبر کو انگلینڈ سے ہونا ہے، اتنی جلدی کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔

ورلڈکپ 2015، بنگلہ دیش میں پہلی بار کلین سوئپ شکست، ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی یہ سب وقار یونس کے کیریئر کی بدترین ہائی لائٹس ہیں، انھوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ سینئرز کو بھگاؤ بچوں کو آگے لاؤ تاکہ رعب میں رہیں لیکن اس میں کامیابی نہ ملی،افسوس اس بات کا ہے کہ کوچنگ میں ناکامیوں نے بطور بولر ان کی کامیابیوں کو دھندلا دیا ، چلیں جو بھی ہے وقار یونس نے استعفیٰ تو دیا، شاہد آفریدی کی گوکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک کیلیے تقرری ہوئی تھی مگر انھوں نے بھی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

سلیکشن کمیٹی بھی برطرف ہو گئی، اب بورڈ کے '' بڑوں'' کو کس بات کا انتظار ہے، وہ بھی آگے بڑھیں، جب تک بورڈ میں تبدیلیاں نہیں ہوں گی کپتان، کوچ اور چیف سلیکٹر بدلنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا،اسی طرح شکست میں کھلاڑی بھی برابر کے شریک ہیں، ان سے بھی بازپرس ہونی چاہیے، اب اگر کسی کو ٹیم سے نکالیں تو احمد شہزاد کی طرح ایک سیریز ہارنے کے بعد واپس نہ لائیں، مکمل ایک ڈومیسٹک سیزن میں پرفارم کرے تو دوبارہ موقع دیں۔

ابھی شائقین کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم اصلاحات کی باتیں ہو رہی ہیں، اس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، سابقہ بورڈ بھی ایسا ہی کہتا تھا،کرکٹ میں اب انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور اس کیلیے حکومت کو کوئی بڑا قدم ہی اٹھانا ہوگا۔