ریاستی ادارے اور حکومت
ریاستی اداروں کو ہر صورت منتخب حکومت کی تابعداری کرنی ہوتی ہے ، سیاسی استحکام اور ترقی کا یہ ہی راستہ ہے۔
بریگیڈیئر (ر) سعید1990میں ڈیرہ غازی خان کے آرٹلری بریگیڈیئر میں تعینات تھے ، یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں تربیت یافتہ غیر ریاستی کردارکنٹرول لائن عبور کرکے بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں جہاد کا فریضہ انجام دے رہے تھے ۔
بھارت اور پاکستان نے اپنی فوجیں سرحدوں پر تعینات کردی تھیں یوں سرحدوں پر کشیدگی تھی کہ اچانک آرٹلری یونٹ کے بریگیڈیئر کو کراچی میں فوج کی خفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلی جنس کراچی کا انچارج مقرر کردیاگیا، بریگیڈیئر سعید نے اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر کراچی میں پیپلزپارٹی کے مخالف سیاستدانوں میںرقوم تقسیم کیں ۔ بریگیڈیئر سعید نے سپریم کورٹ میں اپنے حلفی بیان میں کہا کہ انھوں نے یہ فریضہ قومی مفاد میں انجام دیا۔انھوں نے اپنے حلف نامہ میں الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کی اس وقت کی شریک چیئر پرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیربھٹو کی حکومت کو سابق صدر غلام اسحاق نے آئین کے آرٹیکل 58(2)Bکے تحت برطرف کیا تھا کیونکہ وہ قومی مفادکے خلاف کام کررہی تھی ۔
اپنے حلف نامے میں انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کا ایک انٹرویو بی بی سی سے نشر ہوا تھا ۔بے نظیر بھٹو نے اس انٹر ویو میں بھارتی حکومت کی پنجاب میں سکھوں کی تحریک کوکچلنے کی کوششوں کی حمایت کی تھی اس طرح پھر کچھ عرصے بعد سابق وزیراعظم نے سندھ میں فوجی مشقوں پر بھی تنقید کی تھی ۔ بریگیڈیئر سعید نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ بھٹو حکومت نے الذوالفقارکے کارکنوں کو پی آئی اے ، ریلوے ، کے پی ٹی وغیرہ میں ملازمتیں دی تھیں ۔الذوالفقار کے کارکنوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی را نے تربیت دی تھی ۔
بریگیڈیئر صاحب کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کی حکومت سے علیحدہ ہوگئی تھی اور پیپلزپارٹی ، ایم کیو ایم، جئے سندھ اور جماعت اسلامی کے کارکن ایک دوسرے کو قتل کررہے تھے اور روزانہ 100کے قریب لوگ ہلاک ہورہے تھے ۔یوں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان فوج کے سربراہ اسلم بیگ اس نکتے پر متفق ہوئے کہ پیپلزپارٹی قومی مفادات کے خلاف کام کررہی ہے اس لیے آیندہ انتخابات میں دائیں بازو کی جماعتوں کی مدد کرکے پیپلزپارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنا چاہیے ۔ ایک سینئر ریٹائرڈ بیورو کریٹ روئیداد خان کا کہنا ہے کہ غلام اسحاق خان پیپلزپارٹی سمیت بائیں بازو کی جماعتوں کے مخالف تھے اور دائیں بازو کے حامی تھے اس لیے انھوں نے پیپلزپارٹی کی حکومت کو برطرف کیا۔ بریگیڈیئرسعید نے اپنے حلفی بیان میں جو کچھ کہا وہ اس ملک کی تباہی کا بنیادی سبب ہے ۔
یہ سلسلہ ملک کے پہلے گورنر جنرل غلام محمد کے دور سے شروع ہوا تھا، جب سے وزیراعظم لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تومشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے تحریک پاکستان کے کارکن خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل تھے انھیں مسلم لیگ نے لیاقت علی خان کا جانشین مقرر کیا اور سینئر بیروکریٹ غلام محمد گورنر جنرل بن گئے ۔خواجہ ناظم الدین کی موجودگی میں مشرقی پاکستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئین کاتحفظ کا خاصا امکان تھا ، یوں مشرقی پاکستان کی اکثریت کی بناء پر ان کی مرکز میں حکومت یقینی ہوجاتی تھی پھر حکومت کی ایماء پر پنجاب میں اینٹی قادیانی فسادات کرائے گئے۔
خواجہ ناظم الدین کی حکومت پر مشرقی پاکستان سے بھارت اناج کی اسمگلنگ کا الزام لگایا گیا، یوں ایک بیوروکریٹ غلام محمد نے تحریک پاکستان کے کارکن اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کے نمایندے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو برطرف کردیا ، اس طرح سول بیورو کریسی اور فوجی بیوروکریسی کی اقتدار پر بالادستی کی بنیاد پڑی ۔ بیوروکریٹ میجر جنرل(ر) اسکندر مرزا نے 1958میں قومی مفاد میں مارشل لاء نافذ کرکے 1956کا آئین منسوخ کیا اور فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا ۔ ایوب خان نے قومی مفاد کے نام پر 10سال کی حکومت کی ۔ جب1958میں فوج نے اقتدار سنبھالا اور جنرل ایوب خان نے 1962میںصدارتی آئین نافذ کیا اس آئین میں مشرقی پاکستان کی اکثریت کو ختم کردیا گیا اور تما م اختیارات کامنبع صد ربن گئے تو ملک بنانے والے اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان کے دانشوروں کو واضح طور پر محسوس ہوا کہ میں1962کے آئین کے تحت مشرقی پاکستان کے عوام کبھی اقتدار حاصل نہیں کرسکیں گے اور مشرقی پاکستان کا ہمیشہ استحصال ہوتا رہے گا۔
جنرل یحییٰ خان نے 1970میں انتخابات کرائے ، عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی ۔ قومی مفاد کے نام پر بنگالیوں کی نسل کشی کی گئی، اس جنگ کا اختتام دسمبر 1971میں بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں نکالا اور بنگلہ دیش ترقی کی طرف گامزن ہوا ،یہ ثابت ہوا کہ عوامی لیگ کے 6نکات پاکستان کے مفاد میں تھے ۔ ایوب خان اور یحییٰ خان نے اپنے ادارے کے مفاد کے لیے عوامی لیگ کو کچلا جس کا نتیجہ پاکستان ٹوٹنے کی صورت میں برآمد ہوا ۔ ملک میں 1970کے انتخابات میں بلوچستان اور سابق صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار کامیاب ہوئے ، اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ کی اکثریت کو تسلیم کرتے ہوئے بلوچستان میں نیپ کے رہنما میر غوث بخش بزنجو اورسرحد میں ارباب سکندر کوگورنر مقرر کیا ، سرحد میں مفتی محمود اور بلوچستان میں سردار عطااللہ مینگل نے حکومتیں قائم کیں ۔
مرکزی حکومت نے 9ماہ بعد میر بزنجو اورارباب سکندر کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا اور بلوچستان کی حکومت کو ملک دشمن سرگرمیوں کے الزام میں برطرف کردیا ۔ نیپ کے قائدین خان عبد الولی خان ، میر بزنجو، عطااللہ مینگل ، سردار خیر بخش مری، معراج محمد خان سمیت بہت سے سیاسی کارکن کو حیدرآباد سازش کیس میں ملوث کیا، 1977میں وزیر اعظم بھٹو نے پی این کے رہنمائوں سے مذاکرات کیے تو جنرل ضیا الحق نے حیدرآباد سازش کیس ختم کرنے اور بلوچستان سے فوج کی واپسی کو قومی مفاد کے خلاف قرار دیا۔ وفاقی حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس پیش کیا ، سپریم کورٹ نے نیب کو ملک دشمن جماعت قرار دے کر پابندی لگادی ۔ صرف ایک ماہ بعد جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا ۔
جنرل ضیا الحق نے حیدر آباد میں نظر بند رہنما خان عبدالولی خان سے ملاقات اور حیدرآباد سازش کیس کے خاتمے کا اعلان کیا ۔ پاکستان بننے کے بعد سے قومی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنما خان عبد الغفار خان ، جی ایم سید وغیرہ کو غدار اور بھارتی ایجنٹ قرار دیا جاتا رہا ان رہنمائوں کو مسلسل قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی ۔ جی ایم سید نے اس صورتحال سے مایوس ہوکر سندھو دیش کا نعرہ لگایا،جب جنرل ضیا الحق کے خلاف 1983میں سندھ میں تحریک بحالی جمہوریت کی تحریک نے شدت اختیار کی ۔ جی ایم سید نے اس تحریک کی مخالفت کی وہ اس وقت جناح اسپتال کراچی میں نظر بند تھے ۔ جنرل ضیا الحق نے کراچی کے اسپتال میں جی ایم سید کی عیادت کی اور انھیں محب وطن رہنما قرار دیا یوں جنرل ضیا الحق نے قومی مفاد میں مقدس فریضہ انجام دیا ۔
جب بے نظیر بھٹو نے1988میں اقتدار سنبھالا تو انھوں نے بھارت سے مفاہمت کی پالیسی اختیار کی ، بے نظیر بھٹو کی دعوت پر راجیو گاندھی پاکستان آئے اور کشمیر کے مسئلے پر بات چیت آگے بڑھی ۔ اسٹبلشمنٹ نے بے نظیر بھٹو کے خلاف ایک مہم شروع کی ، وزیر داخلہ اعتزاز احسن پر بھارت کے سکھ دہشت گردوں کی فہرست دینے کا الزام لگایا ۔کہتے ہیں اس صورتحال میں اسامہ بن لادن نے بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے رقم فراہم کی جب کہ حقیقت یہ تھی کہ بھارتی پنجاب میں سکھوں کے خلاف آپریشن آئی ایس آئی کررہی تھی ۔ میاں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انھوں نے بھارت سے دوستی کی پالیسی کو برقرار رکھااور پنجاب کے دونوں حصوں میں زمینی رابطے سے تجارت شروع ہوئی۔
میاں نواز شریف کے دوسرے دورمیں وزیراعظم واجپائی لاہور آئے،جنرل پرویز مشرف نے انھیں سلامی دینے سے انکار کیا جب جنرل پرویز مشرف نے 1999میں اقتدار سنبھالا تو بھارت سے دوستی کے نئے سفر کا آغاز کیا انھوں نے پاکستان کے کشمیر کے بارے میں روایتی موقف سے انحراف کرتے ہوئے مسئلے کے چھ حل پیش کیے ۔ بھارتی وزیر اعظم بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد سخت ناراض تھے ، جنرل مشرف سارک سربراہ اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم سے ملنے کے لیے خود آگے بڑھ گئے اس منظر کو ٹی وی اسکرین پر لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔ یوں تاریخ سے ثابت ہوا کہ قومی مفاد کی اسٹبلشمنٹ نے ہردور میں اپنے مفاد کے مطابق تعریف کی ہے جس کی بناء پر سیاسی بحران پیدا ہوئے ۔ریاستی اداروں کو ہر صورت میں منتخب حکومت کی تابعداری کرنی ہوتی ہے ، سیاسی استحکام اور ترقی کا یہ ہی راستہ ہے۔