پانامہ لیکس کا چیلنج
پانامہ لیکس کا آتش فشاں پھٹ چکا ہے، پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کو اس کے شعلوں کی تپش اور اس ارتعاش کا سامنا ہے
قوم اس اسکینڈل کا تسلی بخش جواب مانگتی ہے اور جلدی۔ فوٹو: فائل
پانامہ لیکس کا آتش فشاں پھٹ چکا ہے، پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کو اس کے شعلوں کی تپش اور اس ارتعاش کا سامنا ہے جو کسی خاص ملک یا قوم کو ٹارگٹ نہیں کرتا بلکہ اس کے عمومی انکشافات عالمی سطح پر ایک مشکوک مالیاتی، تجارتی اور اقتصادی نظام میں مضمر خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں طشت از بام کر چکے ہیں، جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے ان تمام ملکوں اور ان کے سربرآوردہ سیاسی شخصیات، سرمایہ داروں، شوبز سپر اسٹارز، تاجروں، ججوں اور ان 'ان ٹچ ایبلز' امیر و طاقتور لوگوں پر ایک قانونی فرم کا میڈیا کے توسط سے دھاوا بولا ہے، یہ دولت کی خاموشی سے بیرون ملک گمنام ورجن آئی لینڈز میں منتقلی اور اس سے پیوستہ مبینہ مالی بدعنوانیوں پر گرفت کا غیر معمولی واقعہ ہے۔
اسے میڈیا کی اس صدی کی سب سے بڑی تحقیقاتی خبر قرار دیا گیا ہے، بلاشبہ دنیا اس سے قبل اس سے ملتی جلتی دوسری لیکس اور تحقیقاتی پینڈورا باکسز سے ملحقہ ہولناک مضمرات کی ہوشربا داستانیں پڑھ چکی ہے، لیکن پانامہ لیکس کا معاملہ ذرا مختلف ہے جو ملکی سیاسی اور داخلی امور اور سیاسی صورتحال کے جس چیلنجنگ دوراہے پر سامنے آیا ہے اس میں حکمرانوں کا لرزہ براندام ہونا فطری ہے، کیونکہ کرپشن کا عالمی وائرس صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا، مگر اس بار پانامہ لیکس کی وجہ سے آف شور کمپنیوں کا طوفان جس زور و شور کے ساتھ اٹھا ہے وہ قابل دید ہے۔
اس کے عالمی آف شوٹس کا ذکر ابھی آئیگا تاہم پانامہ لیکس پر جمعہ کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں گرما گرم بحث ہوئی، پرویز رشید کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان نے بینچوں پر کھڑے ہو کر ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کیا جس سے ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ اپوزیشن ارکان نے پانامہ لیکس کو انتہائی اہم معاملہ قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنانے اور کرپشن فری پاکستان کے لیے کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا مطالبہ کر دیا۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے پانامہ لیکس کی شفاف تحقیقات نہ ہوئی تو وہ ڈی چوک میں نہیں رائیونڈ میں دھرنا دینگے، عمران نے پی ٹی وی پر اپنے قوم سے خطاب کا مطالبہ کیا اور ان کا اصرار ہے کہ وہ ہفتہ کو قوم سے خطاب کریں گے، ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کا حق صرف صدر اور وزیراعظم کو حاصل ہے، وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کے رائیونڈ میں احتجاج کی دھمکی پر شدید ردعمل ظاہر کیا جب کہ تلخ نوائی سے معاملات بگڑ سکتے ہیں، احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس ایک عالمی سازش ہے جس نے پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لیا، ن لیگ کو عوام کی دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہے، ایسا نہیں کہ اپوزیشن جو کہے اس کو مان لیا جائے، یوں اندیشہ ہے کہ پانامہ لیکس کہیں ملکی صورتحال کو جسے دہشتگردی اور دیگر انتظامی و معاشی معاملات اور سخت داخلی و عالمی محاذ پر اعصاب شکن آزمائشوں کا سامنا ہے کہیں جمہوری عمل کے لیے نقصان کا باعث نہ بن جائے اور موقع پرست و مفاد پرست عناصر پانامہ لیکس کی آڑ میں گھیراؤ جلاؤ اور پوائنٹ اسکورنگ کرتے ہوئے وہ قانونی راستہ فراموش کر جائیں جس کا پانامہ لیکس سے پیدا شدہ گھمبیر صورتحال کا منصفانہ و فوری حل تلاش کرنے کے لیے آئینی طریق کار اور شفاف تحقیقات سے مشروط ہونا از بس ضروری ہے تا کہ پانامہ لیکس کے سیاق و سباق میں کوئی سیاسی بلنڈر جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا سبب نہ بنے۔ لیکن افسوس ہے کہ پانامہ لیکس کے سلگتے ایشو پر معاملات کی چھان بین کے لیے حکومت کی طرف سے 'انتظار کرو اور دیکھو' کی پالیسی جاری ہے، تاحال جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نہیںکی جا سکی ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن آیندہ 48 گھنٹوں میں تشکیل دے دیا جائے گا، جب کہ عالمی سطح پر پانامہ پیپرز کے منظر عام پر آتے ہی اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو گئی، آئس لینڈ کے وزیراعظم مستعفی جب کہ نامزد وزیراعظم نے جمعہ کو اپنے عہدہ کا حلف بھی اٹھا لیا، ارجنٹائن کے صدر کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہے، کیمرون نے آف شور کمپنی میں شراکت کا اعتراف کر لیا، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے وضاحت کی ہے کہ آف شور ٹرسٹ میں اپنے حصص وزیراعظم بننے سے پہلے فروخت کر دیے تھے، روسی صدر پوتن نے الزامات رد کر دیے۔
الجزائر میں صدر کے خلاف میڈیا کی مہم پر فرانسیسی سفیر کی طلبی ہوئی، ہالینڈ و آسٹریا میں دو بینک حکام مستعفی ہوئے، جب کہ سوئس حکام نے یورپین فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر دفاتر پر چھاپے مارے اور فیفا کے صدر گیونی انفاٹینو سے تفتیش جاری ہے۔ اس لیے ارباب اختیار اور اپوزیشن جماعتیں پانامہ لیکس کا قانونی اور آئینی طریق کار کے مطابق دفاع کرنے کی سعی کریں۔
سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کا نام نہیں کارروائی کیسے کریں۔ لہٰذا ان دستاویزات میں آف شور کمپنیوں میں اپنی دولت چھپانے کے سنگین الزامات کا جواب دینے کے لیے جو جمہوری فورمز موجود ہیں انہیں سنجیدگی اور قومی انداز فکر کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے، پانامہ لیکس کے آفٹر شاکس سے نمٹنا ایک چیلنج ہے، ایک کروڑ سے زاید دستاویزات کی چھان بین ہوئی ہے، ایسی ہی چھان بین اور الزامات کے مسکت اور مدلل جواب کی حکمراں ٹیم سے توقع بلا جواز نہیں۔ قوم اس اسکینڈل کا تسلی بخش جواب مانگتی ہے اور جلدی۔