یونان سے پناہ گزینوں کی بے دخلی

یونانی حکام کےمطابق دوکشتیوں میں 124 پناہ گزینوں کوسوارکرکےسمندرمیں دھکیل دیاگیا ہےجن میں غالب اکثریت پاکستانیوں کی ہے


Editorial April 10, 2016
پاکستان کو اس حوالے سے سوچنا چاہیے کہ ان کے باشندے غیرقانونی طریقے سے کیسے بیرون ملک جاتے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

یونان نے یورپی یونین کے ساتھ ہونے والے متنازعہ سمجھوتے کے مطابق 200 سے زیادہ پناہ گزینوں کی دوسری کھیپ کو واپس ترکی کی طرف بھیج دیا ہے جن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ پناہ گزینوں کا حالیہ مسئلہ شام کے بحران کی وجہ سے پیدا ہوا ہے لیکن لگتا ہے کہ انسانی اسمگلروں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانیوں کو بھی سیاسی پناہ حاصل کرنے والوں کی صورت میں یونان بھجوا دیا ہو گا تاہم اب ادھر سے پناہ گزینوں کی بے دخلی شروع ہو گئی ہے۔

یونانی حکام کے مطابق دو کشتیوں میں 124 پناہ گزینوں کو سوار کر کے سمندر میں دھکیل دیا گیا ہے جن میں غالب اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔ واضح رہے سیکڑوں افراد کشتیوں کے ذریعے یورپ جانے کی آرزو میں سمندر کی بپھری موجوں کا لقمہ بن چکے ہیں۔ یونان سے سمندری راستے سے بے دخل کیے جانے کے موقع پر بعض فعال کارکنوں نے بے دخلی کی مزاحمت کی کوشش بھی کی اور ''یورپی یونین شرم کرو'' کے نعرے بھی بلند کیے۔ کئی گھنٹوں کے بعد پناہ گزینوں کی کشتیاں ترکی کے ساحل پر پہنچ گئیں جہاں ترک کوسٹ گارڈز نے انھیں سنبھال لیا۔

یونانی حکومت کے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں 111 پاکستانی اور 4 عراقیوں کے علاوہ بنگلہ دیش، مراکش اور مصر کے شہری بھی شامل تھے جو فلسطینی ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ ترک حکام نے بتایا ہے کہ ایک پاکستانی کو ترکی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اسے واپس یونان بھجوا دیا گیا ہے اور اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ علاوہ ازیں خشکی کے راستے بھی بہت سے پناہ گزینوں کو ترکی بھیجا جا رہا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ یونان سے واپسی یورپی یونین اور ترکی کے مابین ایک سمجھوتے کے نتیجے میں ہو رہی ہے۔

ترکی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمام بے قاعدہ پناہ گزینوں کو واپس قبول کر لے گا جب کہ یورپ نے ان شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا اعلان کیا ہے جو ترکی کے کیمپوں میں رہ رہے تھے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ بے قاعدہ پناہ گزینوں کو ان کے آبائی ملکوں کو ڈی پورٹ کر دے گا۔ یونان سے ایک اور کارروائی کے دوران 97 افراد کو واپس بھیج دیا گیا جن میں زیادہ تعداد پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کی ہے۔ پاکستان کو اس حوالے سے سوچنا چاہیے کہ ان کے باشندے غیرقانونی طریقے سے کیسے بیرون ملک جاتے ہیں۔ یقینا یہ کام انسانی اسمگلروں کا نیٹ ورک کرتا ہے۔ ایسے نیٹ ورک کو توڑنا انتہائی ضروری ہے۔