بھارت 29 کھرب روپے کی لاگت سے پاکستانی سرحد کی نگرانی کیلیے حصاربنائے گا

2900 کلومیٹر طویل سرحد پر سی سی ٹی وی کیمرے، ریڈار، تھرمل امیج، نائٹ وژن اور زیرزمین نگرانی کے آلات لگائے جائینگے


APP April 12, 2016
جموں سے گجرات تک جہاں باڑ نہیں، کی نگرانی کیلیے لیزر بیریئر لگائے جائینگے، سرحد مکمل بند کردی جائیگی، منظوری دیدی گئی فوٹو : فائل

بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ 2900 کلومیٹر طویل سرحد پر نگرانی سخت کرنے کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مشتمل 5 درجاتی حصار قائم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے، منصوبے پر29 کھرب روپے خرچ ہونگے۔

بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمپری ہنسو انٹگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (سی آئی بی ایم ایس) کے تحت سرحدوں کی 24 گھنٹے نگرانی کے حوالے سے پنجاب اور جموں میں 5,5 کلومیٹر طویل سرحدی پٹی کے پائلٹ پراجیکٹس پر کام پہلے ہی شروع کردیا گیا ہے، اس انتہائی مہنگے منصوبے کے تحت بھارت اپنی 2900کلومیٹر طویل سرحد پر سی سی ٹی وی کیمرے، تھرمل امیج اور نائٹ وژن آلات، میدان جنگ کی نگرانی کرنیوالے ریڈار، زیرزمین نقل وحرکت کا پتہ لگانے والے آلات اور لیزر بیریئر نصب کیے جائیں گے۔

کسی بھی ایک آلے کی طرف سے کام چھوڑ دینے کی صورت میں دوسرا آلہ اس کی جگہ کام شروع کردیگا اور کنٹرول روم کو اطلاع کریگا، جموں سے گجرات تک 130 ایسے سرحدی علاقے جہاں باڑموجود نہیں ، کی نگرانی کیلئے لیزر بیریئر لگائے جائیں گے، رپورٹ کے مطابق اس منصوبے سے2900 کلومیٹر طویل سرحد پوری طرح بند کردی جائے گی۔ منصوبے پر فی کلومیٹر ایک کروڑ روپے کے حساب سے 29 کھرب روپے خرچ ہونگے۔