ہمارا یہ پاکستان
اگر قوم میں غیرت ہوتی اور قومی عزت و وقار کا احساس زندہ ہوتا تو یہ...
قائد اعظم تو اس دنیا سے اپنی لازوال عزت بنا کر رخصت ہو گئے لیکن ان کی خالی جگہ پر پاکستانی اشرافیہ کے جس بے عزت گروہ نے قبضہ کر لیا وہ بڑا ہی بے رحم اور قومی احساس سے قطعاً خالی لوگوں کا ٹولہ تھا جو قائد کی وفات کی تاک میں تھا اس نے قوم کو ایک آزاد قوم نہیں رہنے دیا بلکہ اپنا غلام بنا لیا اور پھر ضرورت کے مطابق اس کی خرید و فروخت کرتا رہا اور کر رہا ہے۔
پاکستانی قوم کا ایک تماشا ہم نے گزشتہ ہفتے دیکھا جب ایک مجرم سزا یافتہ اور سیاست سے قانوناً بے دخل شخص کا بیٹا اس کی نگرانی میں اور اس کے نام پر الیکشن لڑا اور کامیاب ہو گیا، اس پر انا ﷲ و انا الیہ راجعون ہی کہا جا سکتا ہے۔ قومی دیوالیہ پن اور بے حسی کی یہ ایک تاریخی مثال تھی۔اگر قوم میں غیرت ہوتی اور قومی عزت اور وقار کا احساس زندہ ہوتا تو یہ شخص الیکشن میں امیدوار ہی نہ بن سکتا اور اگر پھر بھی اسے الیکشن لڑنے کی اجازت مل جاتی تو اس کی ضمانت ہی ضبط نہ ہوتی، اس کے ووٹر اس کی شکل ہی بدل دیتے لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔
اس کی حکمران پارٹی نے اسے مبارک بادیں دیں اور قوم نے اس کی اخلاقی و سیاسی بے مائیگی کا ماتم کرنا تو کجا اس کا نوٹس بھی نہ لیا گویا ایک اور ضمنی الیکشن گزر گیا اور روایت کے مطابق حکمران پارٹی یہ الیکشن بھی جیت گئی، ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ ایسا ہی پھر ہو گیا، اب قومی الیکشن کی آمد آمد ہے یا اس کی آمد کا محض شور برپا ہے، ملتان کے اس ضمنی الیکشن کی سیاسی اخلاقیات سے جنرل الیکشن کو قیاس کر لیں یہی امیدوار ہوں گے اور یہی ووٹر ہوں گے یہی سیاسی پارٹیاں ہوںگی اور یہی سیاسی لیڈر ہوں گے۔ زید کی جگہ عمر اور عمر کی جگہ زید ہمارا نیا منتخب لیڈر ہو گا۔
صدارتی بنکر اور وزیراعظم کے ایوان میں ایسا ہی کوئی اور بیٹھا ہو گا اور یہ بھی کیا ضروری ہے کہ کوئی اور ہو گا یہی کیوں نہ ہوں گے۔ ان سب میں آخر فرق ہی کیا ہے۔ وہی گائو آمد اور خر رفت والا مضمون۔ مجھے آنے والے الیکشن سے کوئی امید نہیں ہے آپ دیکھیں گے کہ امریکا کی غلامی نئے حکمرانوں کا شعار ہو گی اور بھارت کی خوشنودی قومی پالیسی ہو گی۔ پاکستان کے خود مختار وجود کی نفی جیسی حالیہ حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اپنے چار پانچ برسوں میں کی ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
بھارت کے بنیا کے ٹرک ہماری منڈیوں میں 'ان لوڈ' ہوں گے اور دھوتی پوش بنیا وصولیاں کرے گا۔ بچپن میں میری جو شاپنگ رہ گئی تھی میں آج کے بنئے سے کر لوں گا۔ میں نے ایک بار بھارت جاتے ہوئے یہی بات ایک کالم میں لکھ دی تھی تو حیرت انگیز طور پر بھارت میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا، مانی شنکر آئر جو اب بھارت کے ایک سیاسی لیڈر ہیں بھارت کی وزارت اطلاعات میں غیرملکی میڈیا کے انچارج تھے۔ ہمارے آنجہانی دوست راجندر سیرین اپنی ضرورت کے تحت مجھے صلح کے لیے ان کے دفتر میں لے گئے۔
میرا وہاں جانا ہی صلح تھا حیران کن حد تک بھارت کے تمام اخباروں میں میرے خلاف جو اداریے چھپے تھے، انھوں نے اس پر 'سوری' کہا اور یہ پیش کش کی کہ میں بھارت میں جہاں بھی جانا چاہوں ان کا مہمان بن کر جا سکتا ہوں۔ میں صدر ضیاء کے ساتھ گیا تھا، پہلے تو صدر صاحب نے بذریعہ جنرل مجیب مجھے شاباش دی، پھر کہا کہ میں اپنی پسند کے مطابق پروگرام جاری رکھوں اور کسی بات کی فکر نہ کروں لیکن میری جیب میں اخراجات بھی تھے اور راجندر سیرین میرے رہنما تھے جو بھارت کے ایک خاص صحافی تھے۔
تو عرض یہ کر رہا تھا کہ میں نے بچپن کی شاپنگ کی بات کی تو پوری بھارتی حکومت غضبناک ہو گئی، اب میں بھارت کی نئی مصنوعات اور نئے تاجروں کا منتظر ہوں جو ہمارے حکمران براستہ واہگہ عام کر رہے ہیں اور نئے راستے بھی کھولنے کے لیے بے تاب ہیں تو مختصراً عرض یہ ہے کہ نئے الیکشن میں وہی ہو گا جو پہلے ہوتا آیا ہے، باپ کی جگہ بیٹا اور بھائی کی جگہ دوسرا بھائی ہمارا حکمران ہو گا اور ہم نکڑ میں بیٹھے دہی کھا رہے ہوں گے۔ جب سردار صاحب چھٹی پر آئے اور اپنی اولاد کی گنتی اور آمد کے اسباب کا ذکر کرنے لگے تو ان کی بیوی بتاتی رہی کہ یہ ہماری کون سی ملاقات کی نشانی ہے پھر جب انھوں نے یہ پوچھا کہ وہ بچہ کون ہے جو دہی کھا رہا ہے تو سردارنی نے کہا کہ بے چارا آپ کو کیا کہتا ہے چپکے سے دور بیٹھا دہی ہی تو کھا رہا ہے۔
میں آنے والے پاکستان کا نقشہ بالکل واضح دیکھ رہا ہوں، اس کی ایک واضح جھلک انھی دنوں ایک بھارتی فلمی اداکار کی موت پر دیکھی گئی جب بدھ کو دوپہر کو پاکستانی میڈیا کو اس سانحہ عظیم کی خبر ملی تو پورے الیکٹرانک میڈیا میں صف ماتم بچھ گئی، اس کے بعد بمشکل کوئی بہت اہم خبر مختصراً نشر کی گئی تمام پروگرام اس اداکار کے بارے میں جاری رہا، اس کے بارے میں جو معلومات مل سکیں وہ نشر کی گئیں، اس دن میں رات دیر تک ٹی وی دیکھتا رہا کہ ہمارا میڈیا کب تک ماتم منائے گا اور کب اس کی غیرت جاگے گی لیکن میں پھر سو گیا اور دوسری صبح جمعرات کو ٹی وی پر پھر یہی منظر دیکھا۔ اب جب اس کی آخری رسوم ہو گئی ہیں تو اس کی کوریج میں کچھ فرق آیا ہے لیکن یہ سلسلہ پھر بھی جاری ہے۔ میں یہ دیکھتا رہا کہ ہم کس قدر بے حس اور بے غیرت ہو گئے ہیں کہ ایک بھارتی ہندو اداکار کی وفات کی چند سطروں کی خبر کو چند دنوں تک پھیلا دیا ہے اور پھیلاتے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے کسی سیاسی لیڈر نے اپنے میڈیا کی اس قومی بے حمیتی کی مذمت نہیں کی، کسی اخبار نے شاید ہی اس بات پر حیرت کی ہو کہ ہمارے پورے میڈیا کو یکایک یہ کیا ہو گیا۔ معلوم نہیں ہم نے کون سا نقاب اوڑھ رکھا تھا جو اس اداکار کی موت کی خبر سن کر اڑ گیا۔ یہ سیاسی لیڈر اور یہ میڈیا جس الیکشن کا ذکر کر رہے ہیں، ان کی شکل و صورت آپ اپنے ایک ضمنی الیکشن اور میڈیا پر ایک بھارتی اداکار کی موت کی غیر معمولی اور بے مثال کوریج میں دیکھ لیں۔ ہم شاید ایک آزاد اور باغیرت قوم بن کر زندہ نہیں رہنا چاہتے۔ اﷲ تبارک تعالیٰ اس میں ہماری کوئی مدد نہیں کرے گا، اس کا یہی فیصلہ ہے۔