طور خم بارڈر پر آزادانہ آمدورفت کی بندش

افغانستان کی حکومت کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیےکہ افغانیوں کی اس آزادانہ آمد ورفت کا بعض عناصر نے غلط فائدہ اٹھایا ہے


Editorial April 14, 2016
موثر اور انتہائی سخت قانون سازی کرکے بارڈر پر آزادانہ نقل وحمل کا ختم ہونا ناگزیر ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

ISLAMABAD: پاکستان اورافغانستان کے طورخم بارڈر پردستاویزات کے بغیر پاکستان میں داخل ہونے پر پابندی پر عمل درآمد شروع ہوا تو جم غفیرکے باعث ایک بیمارخاتون اور بچی کے جاں بحق اور 10 افراد کے بے ہوش ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ، جب کہ سپلائی بھی معطل رہی جس کی وجہ سے درجنوں ٹریلر اورکنٹینرز بھی رک گئے۔ یہ خبرگوکہ انتہائی افسوس ناک ہے، لیکن ہمیں اس کا پس منظر بھی جاننے کی سعی کرنا ہوگئی، برسوں سے طورخم بارڈر پرآمدورفت کا عمل آزادانہ جاری رہا ، جس میں ہزاروں لوگ روزانہ کی بنیاد پر سرحد عبورکرتے رہے ہیں۔

جس نے بہت سی پیچیدگیوں کو جنم دیا، دنیا میں کہیں بھی اس طرح آزادانہ طور پر سرحدی نقل وحمل کی مثال نہیں ملتی، جیسی کہ پاک افغان بارڈر پر برسہا برس رہی ہے، افغانی آتے رہے، جعلی دستاویزات بناتے رہے، پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنا لیے، منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہوگئے، ایک وقت آیا کہ پاکستانی گرین کارڈ دیکھ کر پاکستانیوں کو ائیر پورٹ پر روک لیا جاتا۔پاکستان میں اسلحے کی فراوانی، ہیروئین جیسے نشے کے ہاتھوں نسلوں کی بربادی بھی اسی آزادانہ نقل وحمل کا شاخسانہ ہے ۔ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے نہ صرف ثابت ہوا ہے بلکہ بعض علاقے پاکستان سے فرار ہوکر جانے والے دہشتگردوں کے لیے سیف ہیون کا درجہ رکھتے ہیں ۔

آزادانہ آمدورفت میں نرمی کا فائدہ اٹھا کر دہشتگرد باآسانی بھیس بدل کر پاکستان میں نہ صرف داخل ہوتے ہیں، بلکہ خون کی ہولی کھیل کر واپس بھی چلے جاتے ہیں، ایسے میں سیکیورٹی کے انتظامات بہتر بنانے کی غرض سے حکومت افغانستان کے ذمے داروں کو اور افغان عوام کو میڈیا اور دوسرے ذرایع سے بتایا گیا تھا کہ افغانستان کے لوگ اگر پاکستان آنا چاہتے ہیں تو سفری دستاویزات کے بغیر نہ آئیں اور پاسپورٹ ویزا کے بغیر پاکستان میں داخل نہ ہوں لیکن پھر بھی افغانی باشندے پاکستان بغیر پاسپورٹ آرہے تھے تو انھیں روکا گیا ، جس کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ۔ افغانستان کی حکومت کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اٖفغانیوں کی اس آزادانہ آمد و رفت کا بعض عناصر نے غلط فائدہ اٹھایا ہے، کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا، ایران میں جانے اور آنے کے لیے پرمٹ یا راہداری کافی سمجھی جاتی ہے، جب کہ دہشت گردی کے عفریت کے بعد اس آزادانہ آمدورفت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

پاکستان کے افغانستان پر احسانات کم نہیں ہیں ۔ ان احسانات کا بدلہ اس انداز میں نہیں ملنا چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان پر دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال ہو ۔سفری دستاویزات کی پابندی کروانے کا پاکستانی فیصلہ انتہائی صائب ،بروقت اور مناسب ہے، افغانستان کی حکومت کو اپنے شہریوں سے اس پرعمل درآمد کروانا چاہیے ۔مزید برآں صوبہ خیبرپختون خواہ اور بلوچستان میں موجود افغان مہاجرین کی جلدازجلد افغانستان منتقلی کے انتظامات کیے جائیں تاکہ وہاں کے باسیوں کے اقلیت میں بدل جانے اور دیگر تحفظات کاخاتمہ بھی ہو اوران صوبوں میں امن بھی قائم ہوسکے۔موثر اور انتہائی سخت قانون سازی کرکے بارڈر پر آزادانہ نقل وحمل کا ختم ہونا ناگزیر ہے۔