جنوبی ایشیا کی تباہی کے ذمے دار
اس خطے میں مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی کے فروغ کی واحد اور سب سے...
پچھلے دنوں نئی دہلی میں ہندوستان اور پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کی ملاقات ہوئی جو عملاً 60 سالہ مذاکرات کی طرح نشستند،گفتند و برخاستند کے علاوہ کچھ نہ تھی۔اس ملاقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے ایک سابق وزیراعظم اندرکمار گجرال نے کہا ہے کہ ''پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بتدریج معمول پر آئیں گے، اس کا کوئی ڈرامائی انداز میں حل نہیں نکالا جاسکتا۔''
ممتاز صحافی کلدیپ نائر نے اس ناکام بات چیت کی پذیرائی یہ کہہ کر کی ہے کہ ''فریقین میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی، البتہ اتنا ہی بہت ہے کہ یہ ملاقات کسی تلخی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی پر ختم نہ ہوئی۔'' کلدیپ جی نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام کی یہ بے چینی بجا ہے کہ انھیں کسی بھی دیرینہ مسئلے کا کوئی مثبت اور حوصلہ افزا حل دِکھائی نہیں دیتا، تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ دونوں ملکوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اس سلسلے کی اگلی ملاقات اسلام آباد میں ہوگی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رجائیت اور پرامیدی انسان کا ایک بہتر وصف ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دونوں ملکوں کے عوام ان مسائل کے حل کے لیے چھ دہائیوں سے بے چین ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کے انتظار میں دو تین نسلیں گزرگئیں تو اس کی ذمے داری کس پر عاید ہوتی ہے۔ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور جمہوریت کی پہلی شرط عوام کی رائے کا احترام ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر بھارتی حکمرانوں کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ عوام کی خواہش اور بے چینی کو اپنے بے ہودہ ریاستی مفادات کی خاطر پیروں تلے کچلتے رہیں؟
کلدیپ جی نے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیا ہے کہ بھارت کے ایک سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے تو سیاچن سے فوجوں کے انخلا کا ایک خاکہ بھی تیار کرلیا تھا، لیکن عدم اعتماد کی فضا نے اس معاہدے کو رو بہ عمل نہیں ہونے دیا۔ کلدیپ جی کا کہنا ہے کہ من موہن سنگھ سرکریک کا حل چاہتے ہیں۔ کیانی سیاچن کو ''نومینز لینڈ'' بنانا چاہتے ہیں، لیکن بھارتی فوجی جنتا کو یہ ڈر ہے کہ جیسے ہی بھارتی فوج سیاچن کا علاقہ خالی کرے گی، پاکستانی فوج اس علاقے پر قبضہ کرلے گی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشرف کے دورۂ آگرہ سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں پاکستانی فوج نے اپنے روایتی موقف سے ہٹ کر بھارتی حکمرانوں کو جو ناقابلِ یقین پیشکشیں کیں، آخر ان کوششوں کو کس نے ناکام بنایا؟ آگرہ مذاکرات کے حوالے سے بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ان مذاکرات میں دونوں حکومتیں ایک معاہدے پر پہنچ گئی تھیں اور معاہدہ کا ڈرافٹ بھی تیار کرلیا گیا تھا لیکن بیورو کریسی کے ایک حصّے نے اس معاہدے کو سبوتاژ کردیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ بیورو کریسی پاکستان کی تھی؟
اگر نہیں بلکہ ہندوستان ہی کی تھی تو پھر کلدیپ جی جیسے ''غیر جانبدار'' قلم کار اور اہل دانش اس عوام دشمن بیورو کریسی کے خلاف کیا کردار ادا کرتے رہے؟ اگر بھارتی وزیراعظم سرکریک کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو ان کی راہ میں کون سی رکاوٹ کھڑی ہے؟ کلدیپ جی اس رکاوٹ کو ''عدم اعتماد'' کا نام دیتے ہیں تو عدم اعتماد کی ذمے داری کس پر عاید ہوتی ہے؟ پاکستان تو اس حوالے سے ایک انتہائی کمزور فریق ہے، وہ اس عدم اعتماد کا ذمے دار ہوہی نہیں سکتا۔ اگر پاکستان برابر کا فریق ہوتا تو کب کا مسئلہ کشمیر حل ہوچکا ہوتا۔
پاکستان میں کلدیپ سے بہت بڑے اور حقیقی غیر جانبدار اہلِ قلم، اہلِ دانش موجود ہیں لیکن یہ سب اس لیے بے بس ہیں کہ اس سارے مسئلے میں انھیں پاکستان کی کوئی حکومت ذمے دار نظر نہیں آتی۔ یہ اہلِ قلم، اہلِ دانش، پوری ایمان داری اور قلم و دانش کی حرمت کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تمام متنازع مسائل کے حل کے لیے بے چین ہیں کہ انھیں جنوبی ایشیا کے عوام کے بہتر مستقبل کی شدید خواہش ہے۔ پاکستان کے اہلِ قلم، اہلِ دانش یہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے میں مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی کے فروغ کی واحد اور سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔
جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، یہ خطہ نہ صرف دہشت گردی کی زد میں رہے گا بلکہ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی فروغ پاتی رہے گی۔ یہی نہیں بلکہ اس خطے میں سیکولر ازم کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا رہے گا۔ یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ بھارت جیسے کھلے معاشرے میں ایک بھی ایسا اہل قلم، اہلِ دانش نظر نہیں آتا جو اپنے حکمران طبقے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہے کہ ''اے حکمرانو! کیا تم اتنی سی سیدھی بات نہیں سمجھتے ہو کہ جنوبی ایشیا کی تباہی کے ذمے دار تم ہو۔''
ایک فارسی کہاوت کے مطابق ''خوئے بدرا بہانے بسیار'' بھارتی حکمران طبقہ ہمیشہ حقائق سے چشم پوشی کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ تراشتا رہتا ہے۔ پچھلے پانچ چھ سال سے اسے ممبئی حملے کا بہانہ ہاتھ آگیا ہے۔ یہ عاقبت نااندیش طبقہ ممبئی حملوں کے ملزموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ شرطِ اوّل کے طور پر پیش کررہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ممبئی حملوں میں اس خطے کی انتہا پسند طاقتیں ملوث ہوں گی۔ یہ بھی درست ہے کہ پاکستان میں بعض علاقے ان انتہا پسندوں کے ٹھکانے بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ ماضی میں ہماری بعض طاقتیں انتہا پسندوں کی سرپرستی کرتی رہی ہیں، جیسا کہ امریکا کرتا رہا ہے لیکن اب امریکا اور پاکستان دونوں ان ہی طاقتوں کے خلاف برسرپیکار ہیں جن کی وہ سرپرستی کرتی رہی ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ خود پاکستان کا ہر روز 26/11 اور ہر شہر ممبئی بنا ہوا ہے۔ کیا بھارت کا حکمران ٹولہ ان حقائق سے نابلد ہے؟
ہم بارودی گاڑیوں، خودکش حملوں کے زیرِ سایہ رہتے ہوئے بھی بارودی گاڑیوں اور خودکش حملوں کی مخالفت اور مذمت اس لیے کررہے ہیں کہ ہمیں اندازہ ہے کہ اگر اس آگ پر قابو نہ پایا گیا تو یہ آگ پوری انسانی تہذیب کو جلا کر راکھ کردے گی۔ اور ہم بار بار ہندوستانی اور امریکی قیادت کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر تم نے دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے اسباب کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی تو آنے والے وقت میں تمہارا ہر دن 9/11 اور 26/11 اور تمہارا ہر شہر نیویارک اور ممبئی بن جائے گا۔
بھارتی حکمران اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایشیا کی دوسری سپرپاور ہیں، ان کے پاس لاکھوں افراد پر مشتمل فوج، ایٹمی ہتھیار اگنی اور پرتھوی میزائل ہیں تو ہم ان کی توجہ افغانستان میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا اور نیٹو کے حشر کی طرف دِلانا چاہتے ہیں۔ آنکھیں کھولو مستقبل میں جھانکو اور مستقبل کے ہولناک نقشے کو سامنے رکھ کر حال کو درست کرو۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ رنگ، نسل، مذہب و ملت کے تعصبات نے قوموں کی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی ہیں، لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دنیا کا کوئی شخص اپنی مرضی اور پسند سے کسی ملک، کسی مذہب میں پیدا نہیں ہوتا۔ اگر من موہن کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتے تو وہ کیا کرتے؟ جب تک انسان ان پیدایشی مجبوریوں اور جبر کو نہیں سمجھے گا وہ غیر جانبداری سے فیصلے نہیں کرسکے گا۔ کاش ہندوستان کے اہل دانش اپنے حکمرانوں کو یہ بات سمجھا سکتے؟