گرمی کی شدید لہر حفاظتی اقدامات کیے جائیں

یہ بات خوش آیند ہے گزشتہ سال کے واقعات کے بعد حکومت اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے۔


Editorial April 14, 2016
یہ بات خوش آیند ہے گزشتہ سال کے واقعات کے بعد حکومت اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے۔

سال گزشتہ گرمی کی شدید لہر کے باعث ہزار سے زائد قیمتی جانوں کے زیاں کے بعد بالآخر اس سال پیشگی حفاظتی اقدامات کے لیے حکومتی سطح پر ہلچل محسوس ہو رہی ہے۔ حکومت سندھ اور کمشنر کراچی نے گزشتہ سال ہیٹ سٹروک سے ہلاکتوں کے متعلق درخواست پر جواب داخل کر دیا ہے، دوران سماعت محکمہ صحت اور کمشنر کراچی کی جانب سے رپورٹس جمع کرائی گئیں۔

یہ بات خوش آیند ہے گزشتہ سال کے واقعات کے بعد حکومت اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ خود اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں اس سلسلے میں اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال اموات بڑھنے کی ایک وجہ لوگوں کی حفاظتی تدابیر اور ابتدائی طبی اقدامات سے لاعلمی بھی تھی، اس سلسلے میں متوقع ہیٹ سٹروک سے بچنے کے لیے آگاہی مہم شروع کر دی گئی ہے، نیز گرمی کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی اموات کا باعث بنی تھی۔

اس سال کے الیکٹرک کو ہدایت کی گئی ہے کہ انتہائی گرمی کے دنوں میں کم سے کم لوڈشیڈنگ کی جائے اور بالخصوص اسپتالوں اور واٹر بورڈ کو بلاتعطل بجلی کی سپلائی جاری رکھی جائے، اس سلسلے میں کے الیکٹرک نے بھی ایکشن پلان مرتب کر لیا ہے۔ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہر بھر میں ایک ہزار 796 بستروں پر مشتمل 171 فرسٹ رسپانس سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں، اس کے علاوہ 688 ایمبولینس فعال کی جا رہی ہیں جس میں 126 ابتدائی طبی امداد کی سہولت سے آراستہ ہوں گی۔ واضح رہے ہیٹ سٹروک کی امکانی مدت یکم مئی سے 30 جولائی ہو سکتی ہے، اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کو 20، 20 لاکھ روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔

مختلف فلاحی تنظیموں کی جانب سے 500 سبیلیں لگانے کا ارادہ بھی قابل ستائش ہے جو دوران سفر شہریوں کو موسم کی شدت سے بچانے میں معاون ثابت ہو گا۔ مذکورہ اقدامات کا اطلاق محض کراچی میں ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی کیا جانا چاہیے تا کہ ملک بھر میں یکساں طور پر گرمی کی شدید لہر سے نمٹا جا سکے۔ بہرحال مذکورہ اقدامات کو اطمینان بخش قرار دیا جا سکتا ہے۔ مناسب ہو گا کہ گرمی کی شدید لہر سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں یکساں طور پر پیشگی حفاظتی اقدامات کی جانب توجہ مرکوز کی جائے۔