اولاد آدم

امریکی کیوں ہے، برطانوی کیوں ہے، ہندوستانی کیوں ہے، پاکستانی کیوں ہے، جرمن کیوں ہے،


Zaheer Akhter Bedari April 14, 2016
[email protected]

دنیا کے 7 ارب انسانوں میں سے 90 فیصد کو تو اس قابل ہی نہیں چھوڑا گیا کہ وہ اپنے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ سکیں لیکن جو سوچنے، سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں ان میں ایسے لوگوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔

یہ بات غلط نہیں کہ سوچنے سمجھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن آفاقی ویژن رکھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں۔ آج میں جب قلم ہاتھ میں لے کر کالم کے موضوع پر سوچنے لگا تو آج ہی کے اخبار کی بعض خبریں ایک تیز شور کے ساتھ ذہن میں گھسنے لگیں ان میں ایک خبر کی 3 کالمی سرخی کچھ اسی طرح ہے۔ ''سعودی عرب کا دہشت گردی کے خلاف عرب فورس بنانے کا اعلان''۔ یہاں ذہن میں ایک سوال کانٹے کی طرح کھڑا ہو گیا ''انسان ہندو کیوں ہے، مسلمان کیوں ہے، سکھ کیوں ہے، عیسائی کیوں ہے، بدھ کیوں ہے، پارسی کیوں ہے؟ عرب کیوں ہے، یہودی کیوں ہے۔

امریکی کیوں ہے، برطانوی کیوں ہے، ہندوستانی کیوں ہے، پاکستانی کیوں ہے، جرمن کیوں ہے، جاپانی کیوں ہے، شمالی کوریائی کیوں ہے، جنوبی کوریائی کیوں ہے؟ اس کیوں کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ انسان ہندو اس لیے ہو گیا کہ وہ ہندو کے گھر میں پیدا ہو گیا، مسلمان اس لیے انسان سے مسلمان ہو گیا کہ وہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہو گیا، سکھ اور عیسائی کیوں بن گیا، اس لیے کہ وہ سکھ اور عیسائی گھرانے میں پیدا ہو گیا، بدھ اور پارسی اس لیے بن گیا کہ وہ بدھ اور پارسی گھرانوں میں پیدا ہو گیا عرب اور یہودی اس لیے ہو گیا کہ وہ عرب اور یہودی گھرانے میں پیدا ہو گیا، امریکی اس لیے بن گیا کہ وہ امریکا میں پیدا ہوا یا امریکا کی شہریت حاصل کر لی۔

برطانوی اس لیے بن گیا کہ وہ برطانیہ میں پیدا ہوا ہے یا برطانوی شہریت حاصل کر لی، اس کی شناخت اس ملک کے حوالے سے ہو گی۔ ایک اور سوال ذہن میں پیدا ہوا کہ 1947ء میں ہندوستان کیوں تقسیم ہوا، اس تقسیم کے نتیجے میں 22 لاکھ انسان کیوں مارے گئے؟ اس کا جواب یہی آیا کہ ہندوستان میں دو بڑی قومیں آباد تھیں ہندو اور مسلمان چوں کہ ان کا مذہب الگ الگ تھا ان کی ثقافت الگ الگ تھی اس لیے دونوں ساتھ نہیں رہ سکتے تھے اس لیے ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ چلو اچھا ہوا لیکن تقسیم کے نتیجے میں 22 لاکھ انسان کیوں مارے گئے، حاملہ خواتین کے پیٹ چیر کر پیٹ کے بچوں کو کیوں مارا گیا؟ جنگوں کی تاریخ میں صلیبی جنگیں بہت مشہور ہیں، ان جنگوں میں لاکھوں انسان کیوں مارے گئے؟

اس لیے کہ یہ مسلمان اور عیسائی تھے۔ انسانوں کی تقسیم اور اس کے خونیں نتائج کے حوالے سے کشمیر کے تناظر میں میرا ایک افسانہ ہے جس کا ایک کردار عبدالحکیم ہے، عبدالحکیم ایک ہندو خاندان کے تین افراد کو قتل کر دیتا ہے، اس کا مقدمہ ایک نوجوان ہندو وکیل لڑتا ہے کہتا ہے۔ ''می لارڈ! میں یہ مقدمہ صرف ایک ملزم کے مقدمے کے طور پر نہیں لڑ رہا ہوں، میں یہ مقدمہ برصغیر کی تقسیم، اس کے اس خطے کی آبادی پر اثرات دونوں ملکوں میں مذہبی انتہاپسندی کے فروغ اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے جذباتی اور نفسیاتی پس منظر میں ایک ایسے مقدمے کے طور پر لڑنا چاہتا ہوں، جس میں میرا موکل عبدالحکیم قانون کی نظر میں تو مجرم نظر آتا ہے لیکن وہ اصل میں مجرم نہیں ہے بلکہ بے گناہ ہے۔

مجرم کوئی اور لوگ ہیں جرم کے کچھ اور عوامل ہیں جو پس منظر میں ہیں، میں ان لوگوں، ان عوامل کو عدالت کے سامنے لا کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ ملزم عبدالحکیم جیسے بے شمار لوگ جو کشمیر میں قتل اور جوابی قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہیں سب بے گناہ ہیں۔ خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان، خواہ وہ مجاہد ہوں یا انڈین آرمی کے جوان یہ سب بے گناہ اور نردوش ہیں۔ اصل دوشی کچھ اور طاقتیں، کچھ اور عوامل ہیں جنھیں میں اس کیس کے دوران معزز عدالت کے سامنے بالکل برہنہ کھڑا کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے میں پانچ نومولود بچوں کو پیش کرنا چاہتا ہوں جن میں ہندو بھی ہیں مسلمان بھی، سکھ بھی ہیں عیسائی بھی، دلت بھی۔ میں وکیل استغاثہ معزز جج صاحب ایک مولانا ایک پنڈت اور ایک دایہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان پانچ بچوں کو اچھی طرح دیکھ کر یہ بتائیں کہ ان میں ہندو بچہ کون سا ہے، مسلمان، عیسائی اور دلت بچہ کون سا ہے؟''

پانچوں گواہوں نے بچوں کو قریب سے اور الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد انھیں پہچاننے سے معذوری ظاہر کی، یہ بچے ایک جیسے کپڑوں میں لپٹے ہوئے تھے۔ ''می لارڈ! دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ صرف انسان کا بچہ ہوتا ہے یہ گھر والوں اور ماں باپ ہوتے ہیں جو انسان کے بچے کو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی بنا دیتے ہیں۔

افسانہ بڑا طویل ہے، اسے کالم میں پیش نہیں کیا جا سکتا، اس لیے یہاں اس کا ایک اقتباس پیش کیا گیا ہے، میں نے ابتدا میں اخبار کی کچھ خون آلود سرخیاں پیش کی تھیں۔ یہ ساری خبریں یہ ساری سرخیاں ایک ہی مسئلے سے جڑی ہوئی ہیں اور وہ مسئلہ ہے انسان کی مختلف حوالوں سے تقسیم کا۔ کشمیر میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔ فلسطین میں یہودی اور عرب برسر پیکار ہیں، ہندوستان میں مذہبی انتہا پسند مسلمانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور ان مسائل سے جنم لینے والے دہشت گرد دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک قتل و غارت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ اب مسلم انتہا پسندی اپنی مذہبی حدود سے باہر نکل کر خود مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے صرف پاکستان میں 50 ہزار سے زیادہ مسلمان قتل ہو چکے ہیں۔

یہ مسئلہ نہ فوجوں سے حل ہو سکتا ہے نہ جدید ہتھیاروں سے۔ اس مسئلے کو دنیا کے وہ ترقی پسند ادیب، شاعر، دانشور ہی حل کر سکتے ہیں جو کرۂ ارض کے انسانوں کو آدم کی اولاد اور دنیا کے رب کو رب العالمین سمجھتے ہیں اور انسان کی ہر تقسیم کو انسانوں کو شناخت تک محدود کرنے کے حق میں ہوں۔

مقبول خبریں