سوئی سدرن کی پاکستان اسٹیل کیخلاف قانونی چارہ جوئی شروع

ہائیکورٹ سے واجبات وصولی تک اثاثے تیسرے فریق کو منتقل کرنے پرپابندی کی استدعا


Business Reporter April 16, 2016
ہائیکورٹ سے واجبات وصولی تک اثاثے تیسرے فریق کو منتقل کرنے پرپابندی کی استدعا فوٹو: فائل

سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے پاکستان اسٹیل پر اربوں روپے کے واجبات کی وصولی کے لیے قانونی چارہ جوئی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گیس کمپنی نے سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ واجبات کی وصولی تک پاکستان اسٹیل کے اثاثے کسی تیسرے فریق کو منتقل کیے جانے پر پابندی عائد کی جائے اور اثاثوں کی منتقلی سے قبل کمپنی کے واجبات کی وصولی یقینی بنائی جائے۔ پاکستان اسٹیل کے ذرائع نے تصدیق کی کہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے 41ارب روپے سے زائد کے واجبات کیلیے مقدمہ کیا اورپاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کو فریق بنایا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گیس کمپنی کی جانب سے جون 2015سے گیس کا پریشر کم کردیا گیا ہے ۔

جس کی وجہ سے پیداواری عمل معطل ہے اور ماہانہ 2ارب 10کروڑ روپے کے پیداواری خسارے کا سامنا ہے اور اب تک 21ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے گیس کی بحالی کیلیے وفاقی وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل اور وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں واجبات کی ادائیگی کے طریقہ کار پر اتفاق رائے ہوچکا تھا تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ کی جانب سے موقف میں لچک پیدا نہ کیے جانے کی وجہ سے گیس بحال نہ ہو سکی۔ موقف جاننے کیلیے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت مصروف ہیں اور اس بارے میں تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔