مسلم ممالک کے اتحاد کی باتیں

مسلم ممالک کے باہمی تضادات اس قدر گہرے ہیں کہ انھیں قریب لانا انتہائی مشکل کام ہے


Editorial April 17, 2016
او آئی سی کی تنظیم بھی جب سے قائم ہوئی ہے ‘ اس کا ثمر آور کردار کسی بھی تنازع میں سامنے نہیں آ سکا۔ فوٹو : فائل

ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والا او آئی سی کا سربراہ اجلاس گزشتہ روز اختتام پذیر ہو گیا۔ بعدازاں ترکی کے صدر طیب اردگان نے مہمانوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردگان نے کہا کہ وہ دنیا کے پونے دو ارب مسلمانوں کو قریب لائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد بھی دنیا کو اتحاد کا پیغام دینا ہے، یہ حقیقت ہے کہ ہمیں بہت بڑے مسائل کا سامنا ہے مگر امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بلاشبہ دنیا کے پونے دو ارب مسلمانوں کو قریب لانے کا خیال قابل تحسین ہے 'یہ خیال نیا نہیں ہے بلکہ بہت پرانا ہے۔

او آئی سی کا قیام بھی دراصل اسی خیال کو حقیقی رنگ دینے کی طرف ایک قدم ہے۔ مگر مسلم دنیا کی عملی صورت حال بہت مختلف ہے' مسلم ممالک کے باہمی تضادات اس قدر گہرے ہیں کہ انھیں قریب لانا انتہائی مشکل کام ہے۔ماضی قریب میں ایران اور عراق کے درمیان جنگ ہوئی' عراق کویت پر چڑھ دوڑا اور اب سعودی عرب یمن کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔اس کے علاوہ صومالیہ ' بحرین ' شام اور عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے ' اس حوالے سے بھی مسلم ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہیں۔

استنبول میں ہونے والے او آئی سی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں بھی اس کی جھلک نظر آتی ہے' یہاں مشترکہ اعلامیے میں موجود تضاد کا ذکر کیے بغیر یہ کہنا زیادہ صائب ہے کہ او آئی سی کو مسلم ممالک کے باہمی تضادات کو دور کرانے کے لیے کوئی میکنزم دینا چاہیے۔ مسلم دنیا میں دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ ہے' اسے ختم کرنے کے لیے بھی او آئی سی کو متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ او آئی سی مسلم ممالک میں امیگریشن کے حوالے سے بھی کام کرنا چاہیے۔ عرب اور خلیجی عرب ممالک میں مسلم تارکین وطن کے لیے نیشنلٹی وغیرہ کے معاملات پر تبدیلی لائی جانی چاہیے۔

مسلم ممالک کا اتحاد مشترکہ علامیہ جاری کرنے یاعشائیوں سے خوش کن خطاب کرنے سے عمل پذیر نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ شام و عراق 'صومالیہ وغیرہ کے بحران تو بہت بڑے ہیں اور ان میں عالمی قوتیں بھی اثر پذیر ہیں لیکن اگر مسلم ممالک ایک دوسرے کے باشندوں کے حوالے سے ہی عزت و احترام کے معاملات حل کر لیں تو یہی بڑی بات ہو گی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ شام کے مہاجرین یورپ کی طرف ہجرت کر رہے ہیں اور کسی خوش حال عرب ملک میں یہ حوصلہ نہیں کہ شامی باشندوں کو اپنے ہاں آباد ہونے کی کھلی پیش کش کر دے۔او آئی سی کی تنظیم بھی جب سے قائم ہوئی ہے ' اس کا ثمر آور کردار کسی بھی تنازع میں سامنے نہیں آ سکا ۔