سابق کرکٹرزنوکری نہیں ملک کا سوچیں

ورلڈ ٹی20میں شکست کے ’’آفٹر شاکس‘‘ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، حسب توقع ذمہ داری قبول کرنے کوئی سامنے نہ آیا.


Saleem Khaliq April 17, 2016
ورلڈ ٹی20میں شکست کے ’’آفٹر شاکس‘‘ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، حسب توقع ذمہ داری قبول کرنے کوئی سامنے نہ آیا. فوٹو: فائل

ورلڈ ٹی20میں شکست کے ''آفٹر شاکس'' کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، حسب توقع ذمہ داری قبول کرنے کوئی سامنے نہ آیا، کوچ وقار یونس کو بادل نخواستہ جانا پڑا، چیف سلیکٹر ہارون رشید کو عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کیلیے برطرف کیا گیا مگر وہ گھر کا چولہا ٹھنڈا ہونے کی دہائیاں دینے لگے، پی سی بی سے برسوں لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے سابق کرکٹر کا یہ انداز کچھ عجیب سا لگا، وہ یو بی ایل میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اب تک پیسے ہی نہ کمائے ہوں، بہرحال یہی ہمارے سابق کرکٹرز کا حال ہے اس پر کیا کہہ سکتے ہیں، ہارون رشید کے جانے پر پی سی بی کو چیف سلیکٹر کی تلاش تھی، محسن خان نے انکار کیا توحکام کو اقبال قاسم کی یاد آئی۔

ان جیسے لوگ ہر بورڈ میں فٹ ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ اختلاف رائے نہیں کرتے، ایسے میں اچانک یہ خبریں سامنے آئیں کہ انضمام الحق نئے چیف سلیکٹر ہوں گے تو خاصی حیرت ہوئی، وجہ انضمام کا مزاج بنی،دور قیادت میں انھیں کنٹرول کرنا کسی بورڈ آفیشل کیلیے ممکن نہ تھا، وہ اپنی مرضی سے ٹیمیں بناتے اور دیگر فیصلے کرتے، چیئرمین، کوچ ، سلیکٹرز یا منیجر کسی کو ان کے سامنے بولنے کی ہمت نہ ہوتی، شاید یہی وجہ ہے کہ 2007میں جب پاکستان ورلڈکپ میں بری طرح ہارا تو تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں انضمام الحق کو اس کا ذمہ دار اور ڈکٹیٹر بھی قرار دیا گیا.

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مشہور زمانہ اوول ٹیسٹ جب فورفیٹ ہوا تو اس وقت انضمام کپتان اور شہریارچیئرمین بورڈ تھے۔وہ ریٹائر ہو کر متنازع آئی سی ایل میں چلے گئے جہاں کئی دیگر ہم وطن کھلاڑیوں نے بھی انھیں جوائن کیا اور ملکی کرکٹ بدترین بحران کا شکار ہوئی، انضمام نے ملک کیلیے بڑے کارنامے انجام دیے مگر مزاج ان کیلیے مسئلہ بنا رہا، اب موجودہ سیٹ اپ میں وہ کس طرح خدمات انجام دیتے ہیں یہ بڑا سوال ہے، ویسے اطلاعات یہ ہیں کہ ان کے تقرر کی ہدایت براہ راست وزیر اعظم ہاؤس سے آئی، یہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے کہ بورڈ نے چند روز قبل ہی سالانہ اجلاس میں حکومت کو مداخلت سے باز رہنے کی''دھمکی'' دی ہے، جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مداخلت نہ کریں وہ ذرا اپنے گریبان میں تو جھانکیں ان کا تقرر کس نے کیا تھا؟ جب اپنا فائدہ ہو تو سب اچھا ذرا سی آنکھیں دکھائی جائیں تو اصولوں کی باتیں ہونے لگتی ہیں، مجھے اس وقت ذکا اشرف بھی یاد آ رہے ہیں جب انھوں نے حکومتی مداخلت پر آئی سی سی کی جانب سے کارروائی کا کہا تو ملکی کرکٹ کا دشمن قرار دیا گیا اب موجودہ حکام اپنے آپ کو کیا کہیں گے؟

خیر بات چیف سلیکٹر کی ہو رہی تھی، بورڈ حکام نے اس عہدے کیلیے راشد لطیف سے بھی رابطہ کیا یہ بھی بڑی حیرت کی بات تھی، وہ میڈیا میں حکام پر خاصی تنقید کرتے رہتے ہیں کیسے ساتھ چلیں گے، پہلے بھی عہدہ قبول کیا پھر چھوڑ دیا، راشد لطیف وہ انسان نہیں جنھیں آپ چند لاکھ روپے تنخواہ پر رکھ لیں تو وہ آنکھ بند کرکے سب قبول کر لیں گے، وہ کبھی غلط بات برداشت نہیں کرتے، اس لیے بورڈ حکام سے نہیں بنتی، اب بھی مشکل نظر آتا ہے کہ وہ کوئی ذمہ داری سنبھالیں۔ بعض لوگ معین خان کو واپس لانے کی بات کر رہے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان کی وجہ سے گذشتہ برس ورلڈکپ کے دوران آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کو کتنی بدنامی سہنا پڑی تھی، کیسینو جانے والی بات اتنی جلدی کوئی کیسے بھول سکتا ہے، آپ کسی بڑی پوسٹ پر ہوتے ہوئے ایسی حرکات نہیں کر سکتے، جب اس وقت انھیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو اب اچانک کیسے ان کی ساری غلطیاں معاف ہو گئیں؟معین کو واپس لا کر بورڈ اپنے خلاف ایک اور محاذ کھول لے گا۔

چیئرمین پی سی بی کی خواہش ہے کہ جدید کرکٹ سے واقفیت رکھنے والے 90 کی دہائی کے سابق کرکٹرز کو ذمہ داریاں سونپی جائیں، یہ درست ہے کہ اس دور میں پاکستانی ٹیم بہترین تھی مگر یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ اسی وقت میچ فکسنگ جیسے ناسور نے سر اٹھایا، اب بھی فیصلے کرتے ہوئے خاصی سوچ بچار سے کام لینا ہوگا، بہت سے لوگ بظاہر اب بدل چکے9سو،،،،، خیرچھوڑیں یہ میں کیا لکھ رہا تھا مگر آپ سمجھ تو گئے ہوں گے، بہرحال بڑے نام ہی مسائل کا حل نہیں ہیں یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی۔

بورڈ حکام ان دنوں وسیم اکرم اور رمیز راجہ پر بھی بڑے مہربان ہیں، کوچ کی تلاش کا کام بھی انہی کو سونپ دیا، ایسا ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان سے زیادہ ملک میں کسی کو کرکٹ کی سمجھ ہی نہیں ہے، ان کے چاہنے والے کہتے پھر رہے ہیں کہ کمنٹری سے کروڑوں روپے کما لیتے ہیں پھر بھی ملکی کرکٹ کی ''خدمت'' کیلیے تیار ہو گئے، میں ان سے متفق نہیں، وسیم اور رمیز نے ریٹائر ہو کر ملک کیلیے کچھ نہیں کیا بس میڈیا میں آکر تنقید کرتے رہے، یہ نہ سوچا کہ آج بھارت اور دیگر ممالک میں کمنٹری و کوچنگ اسائنمنٹ مل رہے ہیں وہ پاکستان کی وجہ سے ہی ہیں، اگر ملک کیلیے اتنی کرکٹ نہ کھیلی ہوتی تو کون پوچھتا، اگر یہ دونوں قومی کرکٹ کے ساتھ مخلص ہیں تو آئیں وسیم کوچنگ سنبھال لیں اور رمیز سلیکشن کمیٹی کا عہدہ لے لیں، مگر وہ ایسا نہیں کریں گے،ویسے صرف فون پر مشوروں کیلیے اگر پانچ لاکھ ماہانہ مل جائیں تو کیا برا ہے۔

وقار یونس بھی اب کمنٹری کرنے لگے ہیں، ان کے ایک ''مداح '' نے کہا کہ دیکھو اس بیچارے کی قدر نہ کی اب ایک ایونٹ کے کروڑ روپے کما لے گا، بھائی یہ تو ہونا ہی تھا انھوں نے ٹیم کا بیڑا غرق کیا اب کمنٹری کرنے چلے گئے،ان کے پاس آپشنز موجود تھے لیکن بطور کوچ جو ٹھاٹ باٹ تھے وہ جب یاد آئیں گے تو پتا چلے گا کہ صرف پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا،ہماری کرکٹ کی تباہی میں سابق کرکٹرز کا بھی بہت بڑا کردار ہے، جاوید میانداد جیسے عظیم بیٹسمین بھی جب تک ڈائریکٹر جنرل تھے تو ان کے نزدیک سب ٹھیک تھا ۔

بغیر کچھ کیے برسوں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے بطور تنخواہ وصول کیے جب ہٹایا گیا تو برائیاں یاد آ گئیں، بعض سابق پلیئرز کی جانب سے بڑھ چڑھ کر بورڈ پر اس لیے تنقید کی جاتی ہے تاکہ ملازمت مل جائے پھر وہ ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں، جب تک وہ اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے بہتری نہیں آئے گی، انھیں اپنے ذاتی مفادات چھوڑ کر سچے دل سے کوششیں کرنی چاہئیں یقیناً اس سے حالات ٹھیک ہوںگے، ورنہ زمبابوے کے قریب آنے میں اب چند سال ہی باقی ہیں۔