سیاسی منظرنامہ اور سلگتے حقائق

ملکی سیاست کا سفینہ غالباً وکی لیکس کے نمودار ہونے کے بعد سے بھنور میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے


Editorial April 19, 2016
اسی خلفشار میں ایک نیا پنڈورا بکس کھلا کہ پاکستان کے سرکاری اداروں کے بھی آف شور اکاؤنٹس ہیں فوٹو: فائل

YANGON: ملکی سیاست کا سفینہ غالباً وکی لیکس کے نمودار ہونے کے بعد سے بھنور میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ سیاسی گرداب کچھ تو غیروں کی کارستانی ہے جب کہ ایک ہیجانی داخلی صورتحال ایسی بھی ہے جس میں حکمرانوں اور اپوزیشن رہنماؤں سے تدبر، افہام وتفہیم اور ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اصلاح کی مثبت کوششوں کی عوامی امید بڑی فرمائش نہیں ہے، تاہم کشمکش، بیان بازی اور محاذ آرائی ملکی سیاست کو بیرون ملک لے گئی ہے۔

جہاں لندن پاکستانی سیاسی رہنماؤں کا مرکزنگاہ بنا ہواہے۔ وزیراعظم نواز شریف اپنے سینئر وزرا کی ٹیم کے ساتھ وہاں موجود ہیں، وزیراعظم نے وزیر داخلہ چوہدری نثار سے دو گھنٹے طویل ملاقات میں ملکی صورتحال ، پانامہ لیکس سمیت پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں جلسہ پر تبادلہ خیال کیا اور آف شور کمپنیوں کے اسکینڈل سے متعلق حکومتی تحقیقات کے لیے تیاری کا عندیہ دیا۔ ادھر لندن میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے جمائما کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا ، وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کپتان متاثرین سیلاب کے لیے جمع فنڈز کا فارنسک آڈٹ کرائیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے مطابق وزیراعظم کی کرپشن چھپانے کے لیے لیگیوں نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا، پانامہ کے نائب وزیر اقتصادیات آئیون زرک کے حوالے سے یہ خبر منظر عام پر آئی کہ ان کی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی تھی لیکن بعد میں انھوں نے وضاحت کی امریکا میں آئی ایم ایف کے اجلاس میں اسحاق ڈار سے نہیں سیکریٹری خزانہ سے ملاقات ہوئی تھی۔

یہ وہ کشمکش ہے جس کا اصل تناظر پانامہ لیکس کے جاری شدہ پیپرز ہیں جن میں یہ طوفان اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان کی 1200 شخصیات کے پانامہ کی آف شور کمپنیوں میں خفیہ اکاؤنٹس ہیں ، اس پس منظر میں ملکی میڈیا میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے اور پوری قوم اس مخمصے میں گرفتار ہے کہ آگے کیا ہوگا، اور ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے میں مزید کتنے بحرانوں سے لڑنے کے لیے ملکی سیاست داخلی و خارجی دباؤ کے آگے بے بس و لاچار دکھائی دے گی۔ جہاں تک زمینی حقائق اور سیاسی ڈیڈ لاک جیسی صورتحال کا تعلق ہے ۔

بعض مبصرین کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست دانوں کی یہ عجیب سائیکی ہے کہ وہ باہر کی لڑائی کو کمال ہنر کے ساتھ اپنے ملک تک کھینچ لاتے ہیں اور اپنی سیاسی جنگ بیرون ملک جا کر لڑنے کا بھی اہتمام کرتے ہیں، جب کہ انھیںاس حقیقت کا احساس نہیں ہوتا کہ اس سے جگ ہنسائی ہوتی ہے، لندن پلان تو یوں بھی ہماری قومی سیاست کا سیاہ باب شمار ہوتا ہے، سیاست دانوں کو کم از کم اس حوالے سے تو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے، اور اپنی چپقلش اور سیاسی اختلافات کو انٹرنیشنل تماشا بنانے سے گریز کرنا چاہیے ،آخر دنیا ہمیں اس نازک موڑ پر کیا کہے گی کہ ایک مالیاتی اسکینڈل سے پیدا شدہ صورتحال کا داخلی حل تلاش کرنے کے بجائے مقتدر سیاسی رہنماؤں نے لندن کو میدان جنگ بنا لیا ۔

اسی خلفشار میں ایک نیا پنڈورا بکس کھلا کہ پاکستان کے سرکاری اداروں کے بھی آف شور اکاؤنٹس ہیں ۔ اس وقت داخلی و خارجی سطح پر مختلف محاذوں پر وطن عزیز کو چومکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے ، ملک کو دہشتگردی کے عفریت کا سامنا ہے، طالبان سمیت داعش اور مختلف کالعدم تنظیموں سے ملکی سلامتی اور ملک کے اہم شہروں کو ٹارگٹ کرنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے، فوج فاٹا میں آپریشن کے مثبت نتائج کے بعد اب علاقے میں تعمیر نو اور بے گھر ہونے والوں کی بحالی کے اقدامات میں حکومت کی مدد کر رہی ہے، دوسری طرف چھوٹو گینگ درد سر بنا ہوا ہے جس سے نمٹنے کے لیے فوج سے مدد لی گئی ہے۔ایشوزبے شمار ہیں، مگر مچھ کی طرح منہ کھولے ہوئے۔

ہر مسئلے کی نوعیت بنیادی ، اعصاب شکن اور تہلکہ خیز ہے ، دیکھا جائے تو کرپشن کلچر ہی وہ ناسور ہے جس نے قومی سیاست کی جمہوری روح کو یرغمال بنا رکھا ہے جب کہ کئی نان ایشوز ایسے ہیں جو نان پولیٹیکل ایکٹرز نے اپنے کمال فن سے اٹھا رکھے ہیں ۔ ضرورت ان سارے ایشوز کے حل کے لیے ایک موثر اور قابل عمل اسٹرٹیجی اور عملیت پسندانہ پالیسی اور جارحانہ میکنزم کی ہے۔ ملکی ناخداؤں کو چاہیے کہ وہ لانڈری کے کپڑے بیرون ملک نہ جاکر دھوئیں، حوصلے ، دانشمندی، کشادہ نظری اور معاملہ فہمی سے بحران اور چیلنجوں کا سامنا کریں، مسائل کا حل ملک کے اندر ڈھونڈیں۔ اپنے قدم مضبوطی سے اپنی دھرتی سے جڑا رکھیں،چاہے لاکھ طوفان آئیں، اپنے سیاسی مسائل ملک کے اندر حل کریں۔ قانون کی حکمرانی کے لیے اصولی موقف اپنائیں۔

صدر بارک اوباما نے 2009 ء کو یورپ کے دورہ میں ایک بار کہا تھا کہ امریکا کا یورپ کے بارے میں رویہ ہمیشہ حقارت آمیز اور رعونت پر مبنی رہا ہے ، امریکی پریس نے اس کا برا منایا تھا کہ صدر اوباما کو یہ بات بیرون ملک نہیں کہنی چاہیے۔

وقت آگیا ہے کہ حکمراں اور اپوزیشن ملک کو درپیش گمبھیر صورتحال کا سنجیدگی سے ادراک کریں، اپنے باہمی اختلافات کودشمنی میں نہ بدلیں، عوام روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آچکے ہیں، کچھ ان کروڑوں ووٹرز کا بھی سوچئے جو جمہوری ثمرات کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں۔ اور اس بات پر غور فرمائیے کہ صدر اوباما کی دیار غیر میں شکایت کے خلاف امریکی میڈیا کی برہمی کیا ہمارے ارباب سیاست و اقتدار کے لیے لمحہ فکریہ نہیں؟