پانامہ لیکس تین ہدف 3

پاکستان کو چین اور روس کی جانب سے اس وقت ایک اہم معاشی اور اسٹرٹیجک پارٹنر تصور کیا جارہا ہے


Zahida Hina April 20, 2016
[email protected]

اس اختتامی حصے میں ہم پانامہ لیکس کے ذریعے چین کے بعد روس اور پاکستان کو ہدف بنانے کے اسباب و عوامل کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ امریکا اب روس کے صدر کو اب مزید مہلت دینے پر آمادہ نظر نہیں آتا کیونکہ صدر پیوٹن نے صرف فوجی نہیں بلکہ معاشی محاذ پر بھی امریکا کی بالادستی کا مقابلہ کرنے کا تہیہ کرلیا ہے اور اس کام کے لیے انھوں نے چین سے بھرپور تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ سال صدر پیوٹن نے چین کا دورہ کیا جس میں باہمی تعاون کے تاریخی فیصلے کیے گئے۔ ایشین انفرااسٹرکچر انویسمنٹ بینک (AIIB)، برکس بینک اور شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن جیسے اداروں سے نہ صرف ان دونوں ملکوں میں معاشی تعاون بڑھے گا بلکہ دیگر ایشیائی اور ترقی پذیر ملکوں کو بھی امریکا اور ورلڈ بینک جیسے مالیاتی اداروں پر انحصار کرنے سے نجات ملے گی۔ اس تناظر میں دیکھیے تو ایک ایسا منظرنامہ ابھر کر سامنے آرہا ہے جو امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے لیے کسی دہشت ناک خواب سے کم نہیں ہے۔

دنیا کی دوسری سب سے بڑی معاشی طاقت چین ہے، جس کا اتحاد دنیا کی دوسری سب سے بڑی فوجی طاقت روس سے ہورہا ہے۔ چین اور روس کے درمیان معاشی تعلقات جس تیزی سے فروغ پارہے ہیں اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ چین اس وقت یورپی یونین کے بعد روس کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب چین یورپی یونین کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوگا۔ چین کو مستقبل میں توانائی کی اشد ضرورت ہے۔ معاہدہ طے پایا ہے کہ روس، چین کی قدرتی گیس کی 25 فیصد ضرورت کو پورا کرے گا۔ اس کے علاوہ چین اور روس نے سائبر پاور پائپ لائن منصوبے پر 400 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایک عالمی معاشی طاقت کا اتحاد اگر ایک دوسری عالمی فوجی طاقت کے ساتھ ہوجائے تو کیا امریکا اس منظرنامے کو باآسانی قبول کرلے گا؟

اس کا جواب یقیناً نفی میں ملے گا۔

روس کو کمزور کرنے اور اس کی جانب سے عالمی سطح پر امریکا کے یک طرفہ فوجی اقدامات کو چیلنج کیے جانے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ روس کے صدر پیوٹن کی ساکھ کو ان کے اپنے ملک کے اندر اس قدر زیادہ کمزور کردیا جائے کہ آنے والے صدارتی انتخابات میں ان کے مخالفین روس میں برسراقتدار آجائیں اور وہ امریکا سے تعاون ان کی مجبوری بن جائے۔ صدر پیوٹن پر پانامہ لیکس کے حوالے سے جو وار کیا گیا ہے اس پر انھوں نے مدافعتی نہیں بلکہ جارحانہ انداز اختیار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ان کا نام کسی بھی دستاویز میں شامل نہیں ہے تو امریکا اور مغرب کی طرف سے ان کی ذات اور حکومت کے خلاف مسلسل مہم چلا کر انھیں بے توقیر کرنا ایک سازش نہیں تو اور کیا ہے۔ صدر پیوٹن کو ان کے ایک دوست کے حوالے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے یہ سوال کیا ہے کہ کیا آف شور کمپنی بنانا غیر قانونی فعل ہے؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس کے ذریعے کوئی غیر قانونی کاروبار کیا گیا ہے یا نہیں۔ چین اور روس کے صدور کو پانامہ لیکس کے ذریعے جس طرح ہدف بنایا گیا ہے، اس کا مقصد کرپشن اور مبدعنوانی کا پردہ چاک کرنا نہیں بلکہ امریکا اور مغرب کے مقابلے میں تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی اور فوجی قوتوں کو ہر قیمت پر کمزور کرنا ہے۔

صدر ژی جن پنگ اور صدر پیوٹن کے بعد پانامہ لیکس کا تیسرا ہدف پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف ہیں۔ انھیں نشانہ بنانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امریکا یا مغرب کی بالادستی کے لیے کوئی خطرہ ہے ۔ حکمت عملی یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ چین اور روس کے ساتھ معاشی تعاون کا جو زبردست عمل انھوں نے شروع کیا ہے اس کو رکوا دیا جائے یا اگر ایسا نہ ہوسکے تو اس کی راہ میں ہر ممکن سیاسی رکاوٹیں پیدا کی جائیں۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع، چین اور روس سمیت ایشیا کے درجنوں ملکوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتا ہے۔

نواز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری CPEC کا تاریخی منصوبہ شروع کیا ہے، وسط ایشیائی ملکوں سے اربوں ڈالر کے توانائی کے معاہدے کیے گئے ہیں اور روس کے ساتھ فوجی اور معاشی تعاون میں، بہت تیزی پیدا کی ہے۔ پاکستان کو چین اور روس کی جانب سے اس وقت ایک اہم معاشی اور اسٹرٹیجک پارٹنر تصور کیا جارہا ہے اور مختلف ایشیائی اداروں میں اسے شامل بھی کیا جارہا ہے۔ وہ پاکستان جو 50 ارب ڈالر کا مقروض ہے، جہاں ماضی میں کوئی ایک ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر بھی آمادہ نہیں تھا، آج وہاں صرف چین کی جانب سے 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ اسے کھیل تماشا نہ سمجھا جائے۔ یہ بڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔ چین ایک دانش مند قوم ہے۔ اس کو اندازہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے میں پاکستان کے ساتھ ہی اس کا اپنا فائدہ ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے امریکا پر انحصار کرنے کے بجائے چین کا انتخاب کیا تھا کیونکہ وہ سمجھ چکے تھے کہ 21ویں صدی ایشیا کی صدی ہوگی جس میں چین ایک کلیدی کردار ادا کرے گا اور اس عمل میں اس کو روس کا بھرپور تعاون حاصل ہوگا۔ ایشیا کی ابھرتی ہوئی دو بڑی معاشی اور فوجی طاقتوں سے تعاون کی اس پالیسی کو امریکا اور مغرب، اپنے وسیع تر عالمی مفاد کے خلاف تصور کرتا ہے۔ پہلے مرحلے پر کوشش یہ کی جارہی ہے کہ وزیراعظم پر سیاسی دباؤ ڈال کر انھیں اس پالیسی پر عمل کرنے سے روکا جائے۔

ایسا ممکن نہ ہوتو ان کے سیاسی مخالفین کو اقتدار میں لاکر اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔ یہ صرف اتفاق نہیں ہے کہ اس وقت نواز شریف کے خلاف مہم چلانے میں وہ جماعتیں بالخصوص پیش پیش ہیں جو کسی نہ کسی عنوان سے سی پیک کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ پانامہ کے صدر نے امریکا سے تعلیم حاصل کی ہے، یہ ملک امریکا کے زیر اثر ہے۔ کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ چین روس اور پاکستان کی حکومتوں کے سربراہوں کے نام دستاویزات میں شامل نہ ہوں لیکن ان کے خلاف زبردست مہم چلائی جارہی ہو۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کی جانب صدر پیوٹن نے براہ راست اور صدر ژی نے بالواسطہ طور پر اشارہ کردیا ہے اور پاکستان میں بھی باشعور لوگ اس سے باخبر ہیں۔

سیاسی محاذ آرائی، دھرنے اور گھیراؤ کی باتیں کرنے والے شاید اپنے بیان کے سوا، دوسرے اہم ترین لوگوں کی تقریروں یا بیانات پر سرسری نگاہ بھی نہیں ڈالتے۔ وہ اس پر غور نہیں کرتے کہ چند دنوں پہلے گوادر میں ایک تقریب کے دوران جنرل راحیل شریف نے دو ٹوک الفاظ میں یہ کہا کہ کسی کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دی جائے گی۔ سی پیک کی سیکیورٹی قومی ذمے داری ہے۔

فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن، سی پیک روٹ کی 675 کلو میٹر سڑک مکمل کرچکی ہے اور سال کے آخر تک 870 کلومیٹر سڑک مکمل ہوجائے گی اور اسی سال چین سے گوادر کے ذریعے کارگو کی آمدورفت شروع ہوجائے گی۔ انھوں نے انتشار پھیلانے والوں سے کہا کہ وہ محاذ آرائی ختم کرکے تعاون پر توجہ دیں۔ کراچی کا ان کا دورہ بھی ایک ایسے وقت میں نہایت اہمیت کا حامل تھا جب ہمارے کچھ سیاستدان دھرنے، گھیراؤ اور ایک منتخب وزیراعظم اور اس کی حکومت کو تحلیل کرنے پر اصرار کررہے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جنھیں انگلی پھر اٹھتی نظر آرہی ہے۔

پاکستان کو پانامہ لیکس کے ذریعے کبھی ہدف نہ بنایا جاتا اگر پاکستان، چین، روس، وسط ایشیا، جنوبی اور مغربی ایشیا کے 3 ارب صارفین کی منڈی کو جوڑنے کی جغرافیائی اہلیت نہ رکھتا اور نواز شریف امریکا اور مغرب پر انحصار کرنے کی 65 سالہ پالیسی کو بتدریج خیرباد کہہ کر چین، روس اور ایشیائی ملکوں کو پاکستان کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں کا مرکز و محور نہ بنا لیتے۔

وزیراعظم آج اپنی یہ پالیسی ترک کردیں کل یہ سارا شور و غوغا ختم ہوجائے گا۔ ایشیا سے ناتا جوڑنے کی اس پالیسی کی مزاحمت وہ تمام عناصر، افراد اور ادارے ضرور کریں گے جو آج تک مختلف شعبوں میں مغرب پر انحصار کی پالیسی سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ لہٰذا منطق یہی بتاتی ہے کہ یہ مزاحمت مختصر نہیں طویل ہوگی اور 2018ء تک مختلف صورتوں میں جاری رہے گی۔

دکھ ان لوگوں پر ہوتا ہے جو محض اقتدار کی خواہش یا ذاتی ناپسندید گی میں اس انتہا پر چلے جاتے ہیں جس میں فائدہ اپنوں کے بجائے صرف غیروں کا ہوتا ہے۔

مقبول خبریں