حصص مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ سے مزید30پوائنٹس کی کمی

اتار چڑھائو کے بعد مندی رہی جس سے سرمایہ کاروں کے مزید13 ارب 50 کروڑ46 لاکھ73 ہزار44 روپے ڈوب گئے


Business Reporter April 20, 2016
اتار چڑھائو کے بعد مندی رہی جس سے سرمایہ کاروں کے مزید13 ارب 50 کروڑ46 لاکھ73 ہزار44 روپے ڈوب گئے فوٹو : فائل

LANDI KOTAL: پانامہ لیکس پر اپوزیشن کی حکومت مخالف مہم میں شدت آنے سے سیاسی افق پرغیریقینی صورتحال اورغیرملکیوں کے سرمایہ نکالنے کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں منگل کوبھی اتار چڑھائو کے بعد مندی رہی۔

جس سے سرمایہ کاروں کے مزید13 ارب 50 کروڑ46 لاکھ73 ہزار44 روپے ڈوب گئے، ٹریڈنگ کے دوران مخصوص شعبوں میں خریداری کے سبب ایک موقع پر128 پوائنٹس کی تیزی اور بعدازاں 83.45 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران نئے چھوٹے ودرمیانے درجے کے سرمایہ کاروں کی جانب سے کم قیمت اسٹاکس میں ہونے والی سرمایہ کاری نے مندی کی شدت میں کمی کی تاہم بعض اسٹاک ممبران کا کہنا ہے کہ بحیثیت مجموعی کیپٹل مارکیٹ کے کاروباری حالات سرمایہ کاری کے لیے مناسب نہیں ہیں کیونکہ سیاسی افق پر عدم اطمینان کی صورتحال کے باعث کیپٹل مارکیٹ میں کاروباری سمت بھی غیر واضح ہوگئی ہے جبکہ منگل کو اعلان کردہ ایم سی بی بینک کے مالیاتی نتائج بھی سرمایہ کاروں کی توقعات کے برعکس تھے ۔

مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس30.35 پوائنٹس کمی سے 33729.62 اور کے ایم آئی30 انڈیکس37.40 پوائنٹس گھٹ کر 59421.88 جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس12.62 پوائنٹس اضافے سے 19545.31 اور کے ایم آئی آل شیئر انڈیکس0.61 پوائنٹ بڑھ کر15887.28 ہوگیا، کاروباری حجم 54 فیصد زائد رہا،24 کروڑ14 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروبار 357 کمپنیوں تک محدود رہا،188 کے بھائو میں اضافہ، 138 کے دام میں کمی اور31 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔