بونیر میں تحریک انصاف کے اقلیتی لیڈر کا قتل

پاکستان کے ارباب اختیار کو اقلیتی برادریوں کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہیے


Editorial April 24, 2016
سردار سورن سنگھ کو جمعہ کی شام ان کے آبائی گاؤں باچہ کلی پیر بابا میں گھر کے دروازے سے چند گز کے فاصلے پر قتل کیا گیا فوٹو: فائل

تحریک انصاف کے صوبائی رہنما اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر ڈاکٹر سردار سورن سنگھ کو بونیر میں نامعلوم حملہ آوروں نے ان کے گھر کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ بونیر پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا جو رات گئے تک جاری رہا۔

عمران خان نے حکومتی حکام کو قاتلوں کا فوری سراغ لگانے کی ہدایت کی ہے۔ سردار سورن سنگھ کو جمعہ کی شام ان کے آبائی گاؤں باچہ کلی پیر بابا میں گھر کے دروازے سے چند گز کے فاصلے پر قتل کیا گیا جب وہ اپنی سرکاری گاڑی پارک کر کے پیدل گھر کی طرف جا رہے تھے۔ سردار سورن سنگھ کی اگلے روز بونیر میں آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔

دریں اثنا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے سردار سورن سنگھ کے قتل کی ذمے داری قبول کی ہے۔ ایک اقلیتی برادری کے ممتاز رکن کا قتل ایک قابل مذمت فعل ہے جس سے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں مجروح ہو گا۔ پاکستان کے ارباب اختیار کو اقلیتی برادریوں کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کا سوال ہے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو اس حوالے سے اپنی پالیسی پر غور کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہو سکے۔

مقبول خبریں