کرکٹ زیادہ اہم ہے کرکٹرز نہیں

پاکستان کرکٹ کے انداز نرالے ہیں، چند روز سکون کے گزرتے ہیں پھر کوئی ’’بریکنگ نیوز‘‘ سامنے آ جاتی ہے۔


Saleem Khaliq April 24, 2016
پاکستان کرکٹ کے انداز نرالے ہیں، چند روز سکون کے گزرتے ہیں پھر کوئی ’’بریکنگ نیوز‘‘ سامنے آ جاتی ہے۔ فوٹو: فائل

SYDNEY: پاکستان کرکٹ کے انداز نرالے ہیں، چند روز سکون کے گزرتے ہیں پھر کوئی ''بریکنگ نیوز'' سامنے آ جاتی ہے، اب بھی ایسا ہی ہوا، ڈومیسٹک ون ڈے ایونٹ ''پاکستان کپ'' میں ایک تنازع سامنے آیا بدقسمتی سے اس کے مرکزی کردار موجودہ دور کے سب سے بہترین پاکستانی ٹیسٹ بیٹسمین یونس خان بنے،صورتحال ابھی زیادہ واضح نہیں البتہ ایک بات یقینی ہو چکی کہ یونس ایونٹ کے بقیہ میچز میں حصہ نہیں لیں گے۔

بظاہر معاملہ سادہ نظر آ رہا ہے انھیں نہیں کھیلنا تو نہ کھیلیں مگر ایسا ہے نہیں، سب سے پہلے اس ایونٹ کے بارے میں کچھ بات کر لیتے ہیں، پی سی بی نے پی ایس ایل کی طرز پر ڈومیسٹک ایونٹ کرانے کا فیصلہ کیا اور پانچوں ٹیموں کے کپتان مقرر کر دیے، دلچسپ بات یہ ہے کہ کوچز کو منتخب کرنے کا اختیار کپتانوں کو سونپا گیا، انھوں نے اپنی منظور نظر شخصیات کو ترجیح دی، کسی نے اپنے ڈپارٹمنٹ کے کوچ کو ذمہ داری سونپی تو کسی نے دیگر قریبی کوچ کو نوازا، پھر کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا، پی ایس ایل کی طرز پر ڈرافٹنگ ہوئی، یہ نہ سوچا کہ وہاں بڑے نام اور پیسہ تھا اس لیے دلچسپی لی گئی یہاں ایسا کیا تھا؟

اس میں بعض ٹیمیں چوں چوں کا مربہ بن گئیں، نام صوبوں پر تھے لیکن کھلاڑی دیگر مقامات سے لیے گئے، بلوچستان کی ٹیم میں تو مقامی کھلاڑی ڈھونڈے نہیں ملتے،کروڑوں روپے کما کر ڈکار نہ لینے والے کھلاڑیوں کو چند ہزار روپے زیادہ دینے کا لالچ دے کر ایونٹ میں شرکت کاکہا گیا،میزبانی فیصل آباد کو ملی جہاں فلڈ لائٹس اکثر جواب دے رہی ہیں،گراؤنڈ کا حال بھی اچھا نہیں،2 ٹیموں کو ایک بڑے ہوٹل میں ٹھہر ایا گیا، دیگر 2ایک اور ہوٹل جبکہ پانچویں مقامی کلب میں قیام پذیر ہے،نجانے کس عقلمند نے مشورہ دیا کہ میچز کے ٹکٹ بھی رکھ دیے جائیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شائقین کے آنے کا جو تھوڑا سا امکان تھا وہ بھی ختم ہوگیا،گوکہ ایونٹ کی لائیو کوریج ہو رہی ہے مگر اس کا معیار سب کے سامنے ہے، سونے پر سہاگہ امپائرنگ نے کیا، کسی نے یہ نہ سوچا کہ میچز ٹی وی پر آ رہے ہیں کچھ تو احتیاط کریں،کئی بار بالکل واضح غلط فیصلے دکھائی دیے، ان میں سے ایک پر خیبر پختونخوا کے کپتان یونس خان ناراض ہوگئے کیوں کہ مصباح الحق کو واضح آؤٹ نہ دینے سے ان کی ٹیم میچ نہ جیت سکی، سینئر بیٹسمین کا غصہ بجا تھا لیکن اس کے بعد معاملہ جس طرح آگے بڑھا وہ درست نہیں ہے۔

یونس نے جب ایک امپائر سے ایونٹ میں امپائرنگ کے معیار پر بات کی تو اس نے ریفری سے شکایت کر دی، جب انھیں سماعت کیلیے بلایا گیا تو وہ نہیں گئے یہاں ان سے پہلی غلطی ہوئی،آپ جتنے بڑے اسٹار ہوں اور ایونٹ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہوں ڈسپلن کی پابندی کرنا لازمی ہوتا ہے، اگر ایسا نہ ہوا تومیچ آفیشلز ڈر کر اسٹارز کیخلاف ایکشن لینا چھوڑ دیںگے،یونس ریفری کے پاس جا کر اپنا نقطہ نظر بیان کرتے پھر جرمانہ بھی ہوتا تو ان کے پاس معاملہ چیئرمین بورڈ کے پاس لے جانے کا آپشن تھا جو مسئلہ حل کر سکتے تھے، مگر انھوں نے سماعت سے پہلے ہی ایک بورڈ آفیشل سے کہہ دیا کہ ''کیا آپ چاہتے ہیں میں واپس چلا جاؤں'' اور پھر حقیقت میں چلے بھی گئے، اس سے کئی چیزیں واضح ہوگئیں۔

ایک ہمارے اسٹارز کیلیے ڈومیسٹک ایونٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے، دوسرا بورڈ کا کھلاڑیوں پر کوئی کنٹرول باقی نہیں رہا، اب یہ حکام کیلیے ٹیسٹ کیس ہے، اگر یونس خان کے خلاف ایکشن لیا گیا تو نیا پینڈورا باکس کھل جائے گا، وہ غصے میں پریس کانفرنس کر دیں تو بورڈ کی پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی، ٹیم کی مسلسل شکستوں اور وقار یونس کے الزامات کی وجہ سے حکام ویسے ہی شدید دباؤ میں ہیں، وہ دوسرا محاذ نہیں کھولنا چاہیں گے، یونس خان 50 فیصد میچ فیس کے جرمانے پر ناراض ہو گئے اگر بڑی رقم کا جرمانہ عائد ہوا تو وہ کیسے اسے قبول کر لیں گے؟

اگر پابندی لگائی تو وہ ویسے ہی اس ایونٹ سے باہر ہو چکے ہیں، دوسری بات یہ کہ دورئہ انگلینڈ سے قبل کیا بورڈ اپنے سب سے بہترین بیٹسمین کو ناراض کرنا چاہے گا؟ اب بات آ جاتی ہے ایکشن نہ لینے کی، اگر ایسا ہوا تو آپ دیگر کھلاڑیوں کو کیا پیغام دیں گے، کوئی جونیئر ایسا کرے تو سنگین غلطی سینئر کو کچھ نہیں کہا جاتا، یونس خان کے واپس جانے کی خبر دنیا بھر میں پھیل چکی، ہر جگہ ہماری کرکٹ کا مذاق اڑ رہا ہے، اتفاق سے ہفتے کے روز ہی آئی پی ایل میں بھارتی اسٹار ویرات کوہلی پر 12 لاکھ روپے جرمانہ ہوا،وجہ چاہے سلو اوور ریٹ ہی کیوں ہو انھوں نے عوامی سطح پر کوئی بیان نہ دیا نہ ہی دیں گے، ہمارے کھلاڑیوں میں کیوں برداشت نہیں ہے۔

یونس ماضی میں بھی اس قسم کے تنازعات میں الجھ چکے مگر ہمیشہ بڑے مسئلے سے بچنے کیلیے بورڈ معاف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، اب بھی شاید ایسا ہی ہو، سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کیریئر میں کئی تنازعات میں الجھنے والے نئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے حال ہی میں یہ بیان دیا کہ ''ڈسپلن کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا'' دیکھتے ہیں وہ اب کیا کرتے ہیں، البتہ انھیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ماضی میں انگلینڈ سے اوول ٹیسٹ کے دوران امپائر ڈیرل ہیئر نے جب بال ٹیمپرنگ کا الزام لگایا تو وہ بطور کپتان پاکستانی ٹیم کو باہر لے گئے تھے، یوں تاریخ کا پہلا ٹیسٹ فورفیٹ ہوا تھا، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بعض معاملات میں یونس کے ساتھ واقعی غلط ہوا۔

میانداد کا ریکارڈ توڑنے پر ان کی عزت افزائی نہیں کی گئی، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی واحد پاکستانی فتح میں وہ کپتان تھے مگر پی ایس ایل میں نظر انداز کیا گیا، اسی کے ساتھ ان سے بعض غلطیاں بھی ہوئیں، جیسے وہ انا کو تسکین دینے ون ڈے کرکٹ میں واپس آئے اور پھر ریٹائر ہو گئے، اب ٹورنامنٹ کو درمیان سے چھوڑ کر بھی انھوں نے اچھی مثال قائم نہیں کی،کرکٹ زیادہ اہم ہے کرکٹرز نہیں ہمارے اسٹارز کو یہ بات تسلیم کرنا ہوگی، بورڈ حکام کیلیے بھی یہ ٹیسٹ کیس ہے، ان کے لیے ''آگے کنواں پیچھے کھائی''والی صورتحال بن چکی، کارروائی کی تو مسئلہ نہ کی تو مسئلہ، دیکھتے ہیں سابق سفارتکار شہریارخان اس معاملے کو کیسے حل کرتے ہیں۔