کسی مسیحا کو آواز نہ دیں
کس نے کہا تھا کہ وقت ضایع کرو اور کس نے روکا تھا درست فیصلے کرنے سے؟
DAVOS:
کس نے کہا تھا کہ وقت ضایع کرو اور کس نے روکا تھا درست فیصلے کرنے سے؟ یہ ایسے جملے ہیں جو ان لوگوں کو تقریباً ہر روز سننے پڑتے ہیں جو زندگی میں وقت ضایع کردیتے ہیں اور صحیح وقت پر درست فیصلوں سے گریز کرتے ہیں۔ وقت کی گلہری انھیں کُترتی رہتی ہے اور وہ اس گلہری کی طرف نہیں دیکھتے۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ زندگی کے سفر میں ساتھ چلنے والے ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کے مقدر میں طرح طرح کے کڑوے، کسیلے اور طنزیہ جملے لکھ دیے جاتے ہیں۔
ان جملوں کا سامنا صرف انفرادی طور پر ہی نہیں کرنا پڑتا، قومیں اور ملک بھی اس نوعیت کی المناک صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں۔ برا نہ مانیں تو کہنے کی اجازت دیں کہ بطور قوم ہمیں بھی وقت ضایع کرنے کے مسئلے درپیش ہیں۔ ہم سب نے ایک دو نہیں چھ دہائیاں تجربوں کی نذر کردیں۔ جو کام 14 اگست 1947 سے شروع ہونا چاہیے تھا، وہ درحقیقت اب تک شروع نہیں ہوسکا ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک نے یہ غلطی نہیں کی اور آج پوری دنیا ہمارے اس ہمسائے کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے ، اس سے تعلقات بہتر بنانے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے جس میں دنیا کا ہر ملک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکا بہادر بھی اس کے رطب اللسان ہیں اور سعودی شاہ بھی اس کے وزیراعظم کی غیر معمولی پذیرائی کرتے ہیں۔ یہاں میری مراد ہندوستان سے ہے جسے ہمارے بیشتر کالم نگار اور دانشور 'ازلی دشمن' کہتے نہیں تھکتے۔ ہندوستانی رہنماؤں، دانشوروں اور سیاست دانوں نے 1947 سے بہت پہلے یہ طے کرلیا تھا کہ آزادی کے بعد جمہوری نظام اختیار کیا جائے گا۔
آزادی کے بعد، ایک دن کے لیے بھی اس ملک میں جمہوریت کا تسلسل نہیں ٹوٹا، رفتہ رفتہ دنیا کے اس غریب ترین ملک میں سیاسی استحکام کی بدولت معاشی ترقی تیز تر ہوتی گئی اور آج یہ عالم ہے کہ اس کا صرف دفاعی بجٹ ہمارے کُل بجٹ سے زیادہ ہے۔ شرح نمو میں اضافہ چین سے بڑھ چکا ہے، کون سا شہر ہے جہاں میٹرو ٹرینیں نہ ہوں، حد تو یہ ہے کہ اب وہاں بُلٹ ٹرین بھی چلنے والی ہے۔ اعدادو شمار کے گورکھ دھندے میں پڑنے سے ہمارے ہاتھ صرف دکھ آئے گا، کون سا ایسا شعبہ ہے جس میں اسے ہم پر فیصلہ کن سبقت حاصل نہیں ہے۔ اس گفتگو کا مقصد ہندوستان پر تعریف اور توصیف کے ڈونگرے برسانا نہیں بلکہ صرف یہ حقیقت بیان کرنا ہے کہ ملکوں اور قوموں کی زندگیوں میں بر وقت اور درست فیصلوں کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے۔
1947 کے بعد حقیقی جمہوریت کے راستے کا انتخاب نہ کرکے ہم کہیں کے نہ رہے۔ آج کون سا ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا ہمیں نہیں ہے۔ دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ ہم ہیں، دہشت گردی کے نتیجے میں ہمارے ہزارہا شہری اور فوجی شہید ہوئے۔
معاشی بدحالی اس حد تک پہنچی کہ ہمیں عالمی سطح پر دیوالیہ قرار دیا جانے والا تھا۔ وجود میں آنے کے صرف 25 سال کے اندر ہم دو ٹکڑے ہوگئے اور وفاق کی اکائیوں میں آج بھی جو دوری اور بداعتمادی پائی جاتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود آج ہمارے دانشوروں اور سیاستدانوں نے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے؟ کیا سبق سیکھا ہے؟ اور اس صورتحال کے کیا اسباب دریافت کیے ہیں؟ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ہم انگریز سے مقابلے کی تیاریوں کے بجائے موئے فرنگی کی توپوں میں کیڑے پڑیں کا ورد کرتے رہے اور آخرکار فرنگی ہمیں سموچا نگل گیا۔
اس وقت ہر طرف ایک شور بپا ہے۔ تقریباً سب اس بات پر متفق ہیں کہ ساری بیماریوں کی جڑ کرپشن ہے، ہمارے بعض عظیم دانشوروں کا کہنا ہے کہ کرپشن نہ ہوتی تو ہمارا ملک شاید امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہوتا۔ دوسرا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارے سیاستدان نااہل اور بدعنوان ہیں۔ ان میں اتنی صلاحیت اور اہلیت نہیں کہ ملک کو مسائل سے نجات دلا سکیں۔
یہ سیاستدان ہیں جو ملک کو لوٹ کر کھا رہے ہیں، عوام کی فکر کسی کو بھی نہیں ہے۔ ایک تیسری رائے یہ سامنے آتی ہے کہ ہماری قوم ڈنڈے کی زبان سمجھتی ہے۔ کوئی متشدد مسیحا اقتدار میں آئے، ہزاروں لوگوں کو سرعام پھانسی پر لٹکا دے، دوسرے دن سے سب سدھر جائیں گے، سب ٹھیک ہوجائے گا۔
اب آئیے ان تین بنیادی اسباب پر گفتگو کرلی جائے۔ سب سے پہلے کرپشن کا ذکر کرتے ہیں۔ کرپشن سے ہمارے یہاں مراد مالی بدعنوانیاں ہوتی ہیں۔ پڑوسی ملک کی مثال لے لیں، جیسے وہ دیگر شعبوں میں ہم سے آگے ہے بالکل اسی طرح کرپشن کے معاملے میں بھی ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ یہاں تو چند ارب ڈالر کے کرپشن کی بات ہوتی ہے، وہاں یہ مسئلہ سیکڑوں ارب ڈالر سے بھی زیادہ کا ہے۔
کرپشن کے خلاف اقدامات ہوتے ہیں، قانون بنائے جاتے ہیں اور پھر سختی سے عمل درآمد بھی کیا جاتا ہے لیکن کرپشن ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ ہندوستان میں کرپشن کے خلاف مہمیں چلائی جاتی ہیں ، حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا ہے یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ کرپشن کم ہوگی تو ترقی کے ثمرات زیادہ لوگوں تک پہنچیں گے۔
لیکن وہاں آج تک کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ پورے جمہوری نظام کی بساط اس لیے لپیٹ دی جائے کہ ہندوستان میں کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ وہاں کے سیاستدان اور دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک نے آج جتنی بھی ترقی کی ہے وہ محض جمہوریت کی بدولت کی ہے۔ یہ نظام پائیدار نہ ہوتا تو ہندوستان کب کا خانہ جنگی کا شکار ہو کر ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوتا۔ جمہوری نظام کی پائیداری سے ہی ملکی یک جہتی اور معاشی ترقی ممکن ہوئی ہے لہٰذا وہ اس نظام کو کسی بھی قیمت پر نقصان نہیں پہنچانا چاہتے اور کرپشن کو اس کا بہانہ نہیں بناتے۔
اس کے برعکس ہم جمہوریت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ طنزیہ لہجے میں کہتے ہیں کہ اس نظام میں لوگوں کو تولا نہیں، گنا جاتا ہے۔ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جمہوریت میں پیسہ چلتا ہے، امیر لوگ پیسہ لگا کر انتخاب جیت جاتے ہیں اور اقتدار میں آکر کئی گنا زیادہ دولت کمالیتے ہیں۔ یہ باتیں سننے میں تو بہت بھلی لگتی ہیں لیکن لوگ دو حقائق کو بالکل نظر انداز کردیتے ہیں۔
ایک یہ کہ آج مغرب اور امریکا جمہوریت کے باعث ترقی یافتہ ہیں اور جن ترقی پذیر ملکوں میں جمہوریت ہے وہ زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہیں۔ جمہوریت میں عام آدمی ووٹ ڈالتا ہے۔ عام آدمی ہماری طرح بی۔ اے یا ایم۔اے کی ڈگری نہ رکھتا ہو لیکن اس کی تاریخی اور اجتماعی دانش بڑے بڑے عالموں پر بھاری ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کی تحقیر نہ کی جائے تو مناسب ہوگا کیونکہ پاکستان ہم نے نہیں بلکہ ناخواندہ عوام نے اپنے ووٹوں سے بنایا تھا۔
ایک اور مقبول نظریہ ڈنڈے کی حکومت کا ہے۔ اس سے مراد غالباً ایک سخت اور جابر ڈکٹیٹر ہوتا ہے جو اقتدار میں آئے اور ہر طرف پھیلی ہوئی ''برائی اوربدی'' کو بدترین طاقت کے ذریعے ختم کر ڈالے۔ گویا ایک سفاک مسیحا کی آرزو کی جاتی ہے جو جادوکی چھڑی گھمائے اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے ۔
یہ تجربہ بھی دنیا کر کے دیکھ چکی ہے۔ دنیا کے جن بہت سے ملکوں میں سفاک ترین ڈکٹیٹر اور مسیحا آئے وہ ملک تباہی، بربادی اور خانہ جنگی کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اپنے ملک کی مثال سامنے ہے۔4 فوجی آمر آئے اور پاکستان کو کس حال میں چھوڑ گئے؟ کیا اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت ہے؟ اس موقعے پر مجھے خان عبدالولی خان کا یہ بیان یاد آتا ہے کہ ''پاکستان کا جغرافیہ ہر مرتبہ ''غداروں'' کی وجہ سے نہیں بلکہ ''محب وطنوں'' کے طرزِ حکومت سے کم ہوا ۔ آمروں ، ڈکٹیٹروں اور جابر بادشاہوں نے اپنے ملکوں کو تباہ کیا۔ آج یہ ملک جمہوریت کی طرف جانے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم ہیں کہ آمروں اور ڈکٹیٹروں کو آوازیں دے رہے ہیں۔
پاکستان میں 68 سال سے جمہوریت ہوتی تو آج ہم کتنے مختلف ہوتے۔ بنگلہ دیش ہمارا حصہ ہوتا، شاید کو ئی بنگلہ بولنے والا ملک کا صدر، وزیراعظم ، آرمی چیف یا چیف جسٹس ہوتا۔ ہماری سمندری سرحدیں بحر ہند سے بحیرئہ عرب تک وسیع ہوتیں۔ عوام انتخابات کے ذریعے اپنے نمایندوں کا احتساب کرتے اور رفتہ رفتہ سیاست سے بدعنوانی ختم نہیں تو کم ضرور ہوجاتی ۔ دیگر جمہوری ملکوں کی طرح، سیاسی استحکام سے معاشی ترقی ہوتی اور ہم بلاشبہ دنیا کی ایک معاشی طاقت میں تبدیل ہوچکے ہوتے۔
ایک طویل وقت ضایع کرنے کی جو غلطی کی گئی ہے اس کی تلافی یہ نہیں ہے کہ غصے اور جھنجھلاہٹ میں مزید غلطیاں کی جائیں، کسی مسیحا کو پکارا جائے کہ آؤ اپنی چھڑی گھماؤ اور سب کچھ ٹھیک کردو۔ دنیا اس طرح کے تجربوں سے توبہ کرچکی ہے اور ہم آج بھی کچھ سمجھنے کو تیار نہیں۔
حوصلہ کریں، صبر کریں، جمہوریت چلے گی تو ادارے مضبوط ہوں گے اور قانون کی حکمرانی قائم ہوگی، جب یہ ہوگا تو کرپشن سمیت دیگر مسائل حل ہوں گے۔ بہتر طرزِ حکمرانی کا شارٹ کٹ کوئی نہیں قوم پر رحم کریں اور مسیحاؤں کو آواز دینا چھوڑ دیں۔