اسٹاک مارکیٹ میں تیزی 421 پوائنٹس کا اضافہ

34000 کی حدبحال،61 فیصد شیئرزکے دام بلند،مالیت مزید97 ارب19 کروڑبڑھ گئی


Business Reporter April 28, 2016
25 کروڑ76 لاکھ حصص کے سودے،379 کمپنیوں کاکاروبار،231کا بھاؤاوپر،129 کانیچے۔ فوٹو: آئی این پی/فائل

لسٹڈ کمپنیوں کی سرمایہ کاروں کی توقعات کے مطابق مالیاتی نتائج کے اعلانات پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی کاروباری سرگرمیوں پر اثرانداز رہے اور بدھ کو بھی تیزی کا تسلسل قائم رہا جس سے انڈیکس 34000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی۔

تیزی کے باعث61 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید97 ارب19 کروڑ84 لاکھ55 ہزار471 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ خام تیل کی عالمی قیمت بڑھنے سے مقامی آئل اسٹاکس جبکہ اقتصادی راہداری کے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز سے ڈیمانڈ بڑھنے کے باعث سیمنٹ سیکٹر میں خریداری سرگرمیاں نمایاں رہیں جس سے مارکیٹ کا مورال تیزی کی جانب گامزن رہا اور ساتھ ہی لسٹڈ کمپنیوں کے مالیاتی نتائج بھی کاروباری سرگرمیوں پر چھائے رہے۔

یہی وجہ ہے کہ کاروبار کے تمام دورانیے میں کسی موقع پرمندی رونما نہیں ہوئی بلکہ تیزی کے اثرات غالب رہے جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 421.54 پوائنٹس کے اضافے سے 34269.28 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 287.42 پوائنٹس کے اضافے سے 19854.51، کے ایم آئی30 انڈیکس 851.75 پوائنٹس کے اضافے سے 60360.68 اور کے ایم آئی آل شیئر انڈیکس 173.19 پوائنٹس کے اضافے سے 16251.75 ہوگیا۔

کاروباری حجم پیر کی نسبت 0.33 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر25 کروڑ76 لاکھ28 ہزار890 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار379 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں231 کے بھاؤ میں اضافہ 129 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں پاکستان ٹوبیکو کے بھاؤ56.55 روپے بڑھ کر1187.62 روپے اور یونی لیورفوڈز کے بھاؤ55 روپے بڑھ کر5555 روپے ہوگئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ100.02 روپے کم ہوکر 7100 روپے اور سفائرفائبر کے بھاؤ21.62 روپے کم ہوکر580.05 روپے ہوگئے۔