کرپشن کے خلاف غیر معمولی اقدامات
کرپشن کے الزامات میں آرمی چیف نے فوج کے 6افسروں کو نہ صرف ریٹائرڈ کر دیا بلکہ وہ تمام اثاثے بھی ضبط کر لیے
SWABI:
کرپشن کے الزامات میں آرمی چیف نے فوج کے 6افسروں کو نہ صرف ریٹائرڈ کر دیا بلکہ وہ تمام اثاثے بھی ضبط کر لیے جو کرپشن کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔ ان نکالے جانے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل اور بریگیڈیئرز بھی شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ فوج میں اعلیٰ سطح تک بے رحمانہ احتساب کیا گیا جس کی وجہ سے یہ تاثر ختم کرنے میں مدد ملی کہ فوج مقدس گائے ہے جس کا احتساب نہیں کیا جا سکتا۔
اس موقعے پر جب کہ ملک میں پانامہ لیکس کی کرپشن کے حوالے سے ملک کے وزیر اعظم کا خاندان بھی احتساب کی زد میں ہے، فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف احتساب ایک با موقعہ اور بلاامتیاز ایسی کارروائی ہے جس کا عوام میں ایک مثبت تاثر جائے گا۔ بعض تبصرہ کار حضرات اس مثبت کارروائی میں مین میخ نکالتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ جمہوری قوانین میں ان برطرفیوں کا پروسیجر کیا ہونا چاہیے تھا اور برطرفیوں کا اختیار کس کے پاس ہے بلاشبہ اس قسم کے سوالات کی اپنی ایک اہمیت ہے لیکن ملک سر سے پیر تک اربوں کھربوں کی جس کرپشن میں مبتلا ہے اور ملک کے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعظم کا خاندان بھی پانامہ لیکس جیسے اسکینڈل میں ملوث ہو رہا ہے اور ہمارا احتسابی نظام جس قدر جانبدارانہ اور سست ہے اس کے پس منظر میں اگر رائج الوقت طریقہ کار سے ہٹ کر بھی احتساب کیا جاتا ہے تو اسے نہ غلط کہا جا سکتا ہے نہ اس پر اعتراض بامعنی کہلا سکتا ہے۔ البتہ اس احتساب کو جاری رہنا چاہیے کیونکہ کرپشن کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔
کرپشن کی وبا سے ہمارا کوئی قومی ادارہ محفوظ نہیں۔ ہر ادارے میں اربوں کی کرپشن کی خبریں آئے دن میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ کرپشن کے سو طریقے ہیں' اربوں کے ترقیاتی فنڈز اور اربوں ڈالر کی غیر ملکی امداد اور قرضے راستے ہی میں کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں جن کا نہ کوئی مانیٹرنگ سسٹم موجود ہے نہ اینٹی کرپشن کے ادارے اس اربوں کی کرپشن کے خلاف کوئی منظم کارروائی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتیں ترقیاتی کاموں کے نام پر ایم این ایز اور ایم پی ایز کو کروڑوں کے فنڈز دیتی ہیں جو براہ راست کرپشن ہے جس کا مقصد ان منتخب نمایندوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنا اور ان کے اختیارات اور طاقت کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے۔ بلدیاتی اداروں کے اختیارات کو یرغمال بنانے کا ایک بڑا مقصد یہی بتایا جاتا ہے کہ اگر بلدیاتی اداروں کو قانون اور آئین کے مطابق مالی اور انتظامی اختیارات دے دیے جاتے ہیں تو مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر مالی اور اختیارات کی کرپشن کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور حکومتوں کے لیے ان منتخب نمایندوں کو کنٹرول میں رکھنا ممکن نہیں رہتا۔
بینکوں سے اربوں کے قرض لے کر معاف کرا لینا ہماری ایلیٹ کا ایک ایسا حربہ ہے جس کی روک تھام کا کوئی نظام موجود نہیں، میڈیا میں ایک اعلیٰ ترین عہدے پر فائز خاتون کے حوالے سے یہ خبریں آتی رہیں کہ انھوں نے اپنے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد بھی نوے کروڑ کے قرضے معاف کرا لیے ایسے ملزمان کے خاندان ملکی سیاست میں پھنے خان بنے نظر آتے ہیں اور ہمارا الیکٹرانک میڈیا ان کے آگے پیچھے منڈلاتا رہتا ہے۔ کرپشن کے حوالے سے بینکوں سے لے کر معاف کرائے گئے دو کھرب کے قرضوں کا مسئلہ میڈیا کی زینت بنا رہا اور یہ کیس اعلیٰ عدلیہ کی میزوں تک جا پہنچا۔ لیکن اشرافیہ کی چالبازیوں اور دباؤ کی وجہ دو کھرب روپے کی کرپشن کا یہ کیس ماضی کے اندھیروں میں گم ہو گیا۔
پانامہ لیکس کا مسئلہ حکومت کے حلق میں ہڈی بن کر رہ گیا ہے نہ حکومت یا حکمران اسے ہضم کر پا رہے ہیں نہ اس مسئلے سے اپنی جان چھڑانے کی پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں۔ اس مسئلے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے محترم وزیر اعظم کو اس حوالے سے چند دنوں کے اندر دو بار قوم سے خطاب کرنا پڑا۔ پانامہ لیکس کا مسئلہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسا عالمی مسئلہ بن گیا ہے جس نے اب تک تین سربراہان مملکت کی بَلی لی ہے اور کئی کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جن جمہوری ملکوں میں حکمرانوں کو اس قسم کے الزامات کا سامنا ہوتا ہے وہ اپنا جمہوری اور اخلاقی فرض سمجھتے ہوئے بلاتاخیر اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے بھی تین سربراہان مملکت نے استعفے دیدیے لیکن ہماری اشرافیائی جمہوریت ابھی تک 'اگر، مگر' کر رہی ہے۔
کرپشن براہ راست عوام کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے عوام 69 برسوں سے جس اعلیٰ سطح کرپشن سے دوچار ہیں اسی کرپشن نے انھیں غربت کی دلدلوں میں پہنچا دیا ہے۔ عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جن ترقیاتی کاموں کے نام پر اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں اگر وہ عوام کی بہبود پر خرچ نہ کیے جائیں تو غربت عوام کا مقدر بنی رہے گی۔ مسئلہ صرف ایک خاندان کی بدعنوانی کا نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ملک کے دو سابق وزرائے اعظم پر بھی کرپشن کے الزامات پر مقدمے چل رہے ہیں۔
ملک کا ایک سابق صدر بھی اس قسم کے الزامات میں ملوث ہے اور یہ کیسز برسوں سے زیر سماعت ہیں۔ ملزم مجرم نہیں ہوتا جبتک کہ اس پر جرم ثابت نہ ہو جائے ہمارے وزرائے اعظم پر الزامات ہیں ہو سکتا ہے یہ الزامات غلط ہوں لیکن ان الزامات کی وجہ سے ان کی ''نیک نامی'' متاثر ہو رہی ہے۔ اس لٹکی ہوئی صورتحال سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ احتسابی ادارے مکمل طور پر آزاد، غیر جانبدار اور سیاسی دباؤ سے مبرا ہوں اور ہائی پروفائل کیسز کا بلا تاخیر فیصلہ کریں۔ اگر انصاف کا نظام سست رفتار ہو تو ملزمان کی شہرت کو نقصان اس لیے پہنچتا ہے کہ ملزم مجرم نہیں ہوتا، اگر انصاف کا نظام تیز رفتار ہو اس میں سیاسی مفادات ملوث نہ ہوں تو بے گناہ ملزم الزامات کی زد سے نکل کر بے گناہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ابھی ابھی الیکشن کمیشن نے قانون ساز اداروں کے اراکین کے اثاثوں کا اعلان کیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ بلاتفریق ان اثاثوں کی غیر جانبدارانہ تحقیق کا اہتمام کیا جائے اگر یہ اثاثے جائز اور قانونی ہیں تو ان کے جائز ہونے کا اعلان کیا جائے اگر کسی کے اثاثے غیر قانونی ثابت ہوتے ہیں تو ان کا احتساب کیا جائے۔
ہم نے بارہا ان ہی کالموں میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کرپشن سرمایہ دارانہ نظام کے جسم میں سانس کی حیثیت رکھتی ہے اگر سانس کو روک دیا جائے تو جسم مردہ ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام ہر روز لاکھوں غریب انسانوں کی جان لے رہا ہے، اس لیے اس کا خاتمہ ضروری ہے۔