سیاست نہیں ادب کی باتیں
کولکتہ اور ڈھاکا میں کتابوں کے عشاق کی بے تابی اور بے قراری کا یہی عالم دیکھا ہے
میلے ٹھیلے ہماری صدیوں پرانی روایات ہیں، لیکن یہ تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور حیدرآباد میں کتابوں کے میلے لگیں گے اور میلے بھی ایسے کہ جن کی روشنیاں اور رونقیں آنکھوں میں کھب کر رہ جائیں۔
کتاب کا جشن منانے کی یہ روایت ہمارے یہاں مغرب سے آئی۔ فرینکفرٹ، میونخ اور برلن میں کتابوں کی براتیں دیکھیں تو یقین نہیں آیا کہ بڑوں، بوڑھوں اور بچوں کا ہجوم اپنی پسندیدہ کتابوں پر ٹوٹا پڑتا ہے۔ چند دنوں کے اندر سیکڑوں اور ہزاروں نہیں، لاکھوں کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر آتے ہیں اور ان کی کتابوں پر دستخط کروانے کے خواہش مند صبح سے شام تک قطار اندر قطار کھڑے رہتے ہیں۔
میں نے جودھ پور لٹریچر فیسٹول، ولی، کولکتہ اور ڈھاکا میں کتابوں کے عشاق کی بے تابی اور بے قراری کا یہی عالم دیکھا ہے۔ دلی اور جودھ پور میں میری ہندی کتابوں اور انگریزی ناول کی تقریب رونمائی ہوئی تو کتابوں کے رسیا لوگوں کو دیکھ کر میری آنکھیں نم تھیں۔ کراچی کے ایکسپو سینٹر میں قومی سطح پر کتابوں کی نمائش کا شہر والوں کو سال بھر انتظار رہتا ہے۔
اسلام آباد میں نیشنل بک فاؤنڈیشن وہ ادارہ ہے جو ہر سال کتابوں کا جشن مناتا ہے۔ ہر سال بلائی جاتی ہوں اور کتابوں کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ کئی برس سے چند دوسرے ادیبوں کی طرح میں بھی 'سفیرِ کتاب' ہوئی۔ میرے خیال میں یہ عزت و اعزاز میرے حق سے سوا ہے۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی کئی برس سے ذمے داری ہے کہ وہ کتاب میلے کا اہتمام کریں۔ اس مرتبہ ساتواں کتاب میلہ منعقد ہوا اور گزشتہ برسوں کی طرح اس مرتبہ بھی کیا گہماگہمی اور ہماہمی تھی۔ پہلے نیشنل بک فاؤنڈیشن وزارت تعلیم کے تحت تھا اس لیے سینیٹر پرویز رشید نمائش میں نظر آتے تھے۔
اب وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی قومی تاریخ اور ادبی ورثہ کے نگراں ہیں۔ ذاتی طور پر پڑھنا لکھنا، ان کا اوڑھنا بچھونا رہا ہے اسی لیے کتاب میلے میں ان کی دلچسپی بھی گہری تھی۔ محسن حقانی جو اس وزارت کے سیکریٹری ہیں، انھوں نے بجا طور پر یہ کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں جتنا علمی سرمایہ تخلیق ہوا ہے، وہ گزشتہ ساری انسانی تاریخ پر بھاری ہے۔
اس میلے کا افتتاح وزیراعظم کو کرنا تھا اور اختتامی تقریب سے صدر مملکت کو خطاب کرنا تھا لیکن وزیراعظم کی صحت نے انھیں افتتاحی تقریب میں آنے کی اجازت نہ دی اور ان کی جگہ صدر مملکت میلے کا افتتاح کرنے آئے۔ حفاظتی انتظامات کا یہ عالم تھا کہ ہمیں صرف سانس لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کی تلافی صدر مملکت نے تمام مندوبین کو ایوانِ صدر میں ایک پرتکلف عشائیے سے کی۔
انسان نے لکھنے اور پڑھنے کا ہنر سیکھنے سے بہت پہلے اساطیری قصے بیان کیے، کسی دور دیس سے آیا تو چوپال میں بیٹھ کر آنکھوں دیکھی سناتا رہا اور بستی والے اس کے گرد گھیرا ڈال کر حیرت سے اس کی باتیں سنتے رہے۔ جن، پریاں، بونے اور دیوقامت ایجاد ہوئے۔ انسان کے ذہن رسا نے شہزادوں اور بادشاہ زادوں کو اڑن کھٹولے پر اڑایا، زمین کی گہرائیوں کی سیر کرائی۔ یہ سنی سنائی باتیں اس نے مٹی کی تختیوں پر محفوظ کیں، انھیں آگ میں پکایا اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ چند ہزار برس میں انسان کیسے کیسے تخلیقی اور تحقیقی مرحلوں سے گزرا ہے اور آج یہ عالم ہے کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا ماچس کی ایک ڈبیا میں سما جاتی ہے اور یہی عالم ''گریٹ بکس'' کی 54 جلدوں کا ہے۔
ان ایجادات کے باوجود انسان کا چَھپی ہوئی کتابوں سے عشق ایک عجیب معاملہ ہے۔ کاغذ جسے چینیوں نے ایجاد کیا اور متحرک ٹائپ جو ایک جرمن گوٹن برگ کی ایجاد ہے، ان سب نے مل کر کتاب ایسی پرکشش اور حسین محبوبہ ایجاد کی، جس کے کیا بڑے اور کیا بچے سب ہی عاشق ہیں، تب ہی ہیری پوٹر کی ساتوں جلدیں کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں اور 400 برس گزر جانے کے باوجود شیکسپیئر کے ڈرامے ہم ہر زبان میں پڑھتے ہیں اور وجد کرتے ہیں۔
اس مرتبہ این بی ایف کتاب میلے کا عنوان تھا 'کتاب سے ہے زندگی'۔ سوچیے تو سہی کہ اگر کتاب ہماری زندگی سے نکل جائے تو ایک روکھی پھیکی اور قصے کہانیوں سے یکسر خالی زندگی سزا کے سوا کچھ نہیں ہو گی۔ اس عنوان کے تحت درجنوں ادیبوں نے اپنی اپنی کتابوں سے اقتباسات سنائے، کچھ شاعروں نے اپنے شعروں سے ہماری سماعتوں کو مالا مال کیا۔ دنیا کے ایک عظیم فلسفی کنفیوشس، جس نے چین کی سرزمین پر جنم لیا تھا، اس کی دانش و بینش نے سارے عالم کو متاثر کیا، اسی کنفیوشس کے اقوال سنائے گئے اور اس اہم موضوع پر بھی گفتگو کی گئی کہ ہماری جامعات کتاب کلچر کے فروغ میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اسلام آباد کی فاطمہ جناح یونیورسٹی کے ویمن اینڈ جینڈر اسٹیڈیز، ڈپارٹمنٹ کی طرف سے صنفی حوالے سے پیمان وفا کے موضوع پر ایک بھرپور مکالمہ رہا جس کی رابطہ کار ڈاکٹر فاطمہ حسن تھیں اور صدارت کشور ناہید کی تھی۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف، حارث خلیق اور راقم الحروف اس سیشن میں موجود تھے اور اس موضوع پر اچھی گفتگو رہی۔
کتاب خوانی صرف اردو میں ہی نہیں ہوئی، انگریزی کے مصنفین نے بھی اپنی تحریروں کے اقتباسات سنائے اور سامعین سے داد لی۔ غزل، اردو نظم، افسانہ حقیقت کے آئینے میں، پاکستانی زبانوں کے ادب سے نثر اور شعر خوانی، غرض اتنے بہت سے موضوعات پر ایک ہی وقت میں گفتگو ہو رہی تھی یہی وجہ تھی کہ ہر نشست میں شرکت ممکن نہ تھی۔ ایک سیشن اس موضوع پر بھی تھا کہ ''کتاب دوستی کا فروغ انتہاپسندی کا خاتمہ اور امن کی بنیاد''۔ اس موضوع پر ظہیر احمد اور محمد عثمان نے 3 گھنٹے تک بچوں سے اس اہم مسئلے پر گفتگو کی۔ اس میں کم عمر بچیوں نے اردو اور انگریزی میں تقریریں کیں، انعامات جیتے۔ 'امن کہانیاں' وہ کتاب ہے جو فینانہ فرنام کی ترجمہ شدہ کہانیوں پر مشتمل ہے جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شایع کیا ہے۔
میں بھی اس سیشن میں موجود تھی اور میں نے بچوں کو ایک امن کہانی سنائی جسے بچوں اور بڑوں نے یکساں طور پر پسند کیا۔ اس نشست کا مقصد یہی تھا کہ کتابوں سے بچوں کی محبت کو مستحکم کیا جائے اور انھیں انتہا پسندی کے نقصانات بتائے جائیں تا کہ وہ اپنے ذہنوں میں امن کی بنیادیں استوار کر سکیں اور یہ جان سکیں کہ ان کی آیندہ زندگی میں امن ہو گا تو وہ ایک خوش و خرم اور خوش حال زندگی بسر کر سکیں گے۔ اس موقع پر میں نے زور دے کر کہا کہ بچوں کو تحفے میں کتابیں دینے کی روایت قائم کی جائے تا کہ انھیں اعلیٰ اقدار سے آگاہی ہو۔ ہمارے یہاں بچوں اور بہ طور خاص لڑکوں کو ہتھیار نما کھلونے بہت شوق سے دیے جاتے ہیں۔ یہ بڑوں کا غلط رویہ ہے جس کی قیمت بچے اور بڑے دونوں ہی ادا کرتے ہیں۔
انتظار حسین چھٹے قومی میلے میں چہکتے ہوئے نظر آتے تھے لیکن اب وہ زندگی کے پیڑ سے اڑ چکے ہیں۔ ان کے لیے ایک گھنٹے کی تعزیتی نشست میں عطاالحق قاسمی، اصغر ندیم سید، محمد حمید شاہد اور کئی دوسروں کے علاوہ میں نے بھی انھیں یاد کیا۔ کتابوں کے اس جشن میں ڈاکٹر توصیف تبسم، تابش الوری، قیصرہ علوی، ریما خان، امجد اسلام امجد، علی محمد فرشی، ڈاکٹر قاسم بگھیو، ذوالفقار احمد چیمہ، عطش درانی، مسعود مفتی، ثروت محی الدین، مبین مرزا، عقیل عباس جعفری، کوکب خواجہ، خورشید ندیم، شاہد اعوان، جلیل عالی، نیلوفر اقبال، ڈاکٹر نجیب جمال، فاروق عادل، محبوب ظفر اور متعدد دوسرے دوست شریک تھے۔
ان ہی تقریبات کے دوران شاہد اعوان کی مرتب کردہ ایک کتاب 'میرا مطالعہ' کی تقریب رونمائی بھی ہوئی جس پر بہت دلچسپ گفتگو ہوئی۔ اسے محض اتفاق جانیے کہ یہ جن لوگوں کے انٹرویو پر مشتمل ہے، میں بھی ان میں سے ایک ہوں اور اسے بھی اتفاق ہی سمجھیے کہ ان 20 لوگوں میں سے صرف میں ہی ایک خاتون ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس سلسلے میں ساری تگ و دو عرفان احمد نے کی تھی اور اس کے لیے لاہور سے کراچی بھی آئے تھے۔
ایک نشست سفیرانِ کتاب کی ہوئی جس میں کتاب کے فروغ اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کی طرف سے کتابوں کی فروخت میں اضافے کے معاملات کا جائزہ لیا گیا اور متعدد سفارشات ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو پیش کی گئیں۔ ان تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں اگلے برس کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
اختتامی تقریب کی صدارت عرفان صدیقی صاحب نے کی۔ مسعود مفتی، مسعود اشعر، ڈاکٹر نذیر تبسم، منیر احمد بادینی اور میں اس اختتامی تقریب میں موجود تھے۔ میں نے اپنی بات کہنے سے پہلے لوگوں کو یہ بری خبر سنائی کہ اردو کے منفرد اور معتبر افسانہ نگار اور ناول نگار جناب جوگندر پال اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ یہ خبر کچھ دیر پہلے جرمنی سے حیدر قریشی نے مجھے دی تھی۔ ان کے بارے میں ایک مختصر تعزیتی قرار داد میں نے پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کی گئی اور اس کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اب جلوسوں اور دھرنوں کو کم کر کے ادبی میلوں کا سلسلہ شروع کریں۔