مغرب کیوں بالادست ہے پہلا حصہ

اٹھارہویں اور انیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک آتے آتے دنیا کی سیاست یکسر بدل گئی ہے


Zahida Hina May 04, 2016
[email protected]

اٹھارہویں اور انیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک آتے آتے دنیا کی سیاست یکسر بدل گئی ہے۔ اب سے تین صدیاں پہلے مغرب میں ابھرنے والی عسکری طاقتیں افریقہ، امریکا اور براعظم ایشیا پر اپنی فوجوں اور اپنے بحری بیڑوں کی طاقت کے ذریعے قبضہ کررہی تھیں، کہیں تجارت کے نام پر سلطنت چھینی جارہی تھی اور کہیں آزاد افریقی قبائل کے نوجوانوں کو جدید اسلحے کے زور پر غلام بنایا جارہا تھا اور انھیں بحری جہازوں میں بھر کر امریکا کے ساحلوں پر اتارا جارہا تھا۔

یہی وہ غلام تھے جنہوں نے گھنے جنگلات کاٹ کر سڑکیں بنائیں، دشوار گزار علاقوں میں ریل کی پٹریاں بچھائیں، تمباکو اور کپاس کی کاشت کی، کوئلے اور ہیرے کی کانوں میں غیر انسانی حالات میں کام کیا۔ ان کی ہڈیوں کی کھاد پر برطانیہ، بلجیم اور فرانس کی عظمت کے محل تعمیر ہوئے۔ ان استعماری قوتوں کے چنگل سے نجات سب سے پہلے امریکا نے حاصل کی جو ایک برطانوی نوآبادی تھا۔

مئی2016کا مہینہ آغاز ہوچکا ہے۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر یہ ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ آج سے 159 برس پہلے اسی مہینے کی دسویں تاریخ کو میرٹھ سے اس عظیم واقعے کا آغاز ہوا تھا جس کی دھمک برصغیر کے طول و عرض میں محسوس کی گئی اور جسے آج بھی ہم 1857 کی جنگ آزادی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

1857کی جنگ آزادی کے بارے میں لکھنا ہماری مجبوری ہے۔ ہم میں سے بہت سے وہ ہیں کہ جن کے خاندانوں نے حسب استطاعت اور حسب توفیق خون کے نذرانے دیے جس پر ہم ایسے ہزاروں، لاکھوں افراد اپنا سر فخر سے بلند کرتے ہیں۔ اپنے اپنے شہیدوں کا نام غرور سے لینے کے ساتھ ہی اگر ہم تاریخ کے طالب علم ہیں تو یہ بھی ہماری مجبوری ہے کہ اس عظیم واقعہ کو ماضی، حال اور مستقبل کے تناظر میں دیکھیں اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہندوستان کا چند صدیوں پر پھیلا ہوا ماضی ہمیں دل گرفتہ کرتا ہے۔ حال تشویش میں مبتلا کرتا ہے اور مستقبل کے بارے میں بے شمار وسوسے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

ہندوستان پر برطانوی تسلط کے بارے میں ہمارے یہاں عموماً ایک جذباتی رویہ پایا جاتا ہے۔ ہم انگریزوں کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے جو تاجر کے روپ میں ہمارے ساحلوں پر اترے، جنہوں نے ہمارے بادشاہوںسے تجارتی مراعات حاصل کیں اور پھر دیکھتے دیکھتے ہمارے آقا بن بیٹھے۔ یہ تمام باتیں حرف بہ حرف درست ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اور بھی بہت سے حقائق ہیں اور جب تک تمام باتوں کا معروضی انداز میں جائزہ نہ لیا جائے اس وقت تک ہم اپنے حال اور مستقبل کو مستحکم بنیادوں پر غیروں کے تسلط سے آزاد دیکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

ہم یہ سوچنے کی زحمت ذرا کم ہی کرتے ہیں کہ 1857 میں مغلیہ سلطنت کا سقوط آخر کیوں کر ممکن ہوسکا؟ ہم اس پر بھی توجہ نہیں دیتے کہ وہ کیا اسباب تھے جنہوں نے ہزاروں میل دور بسنے والی ایک غیر قوم کے مٹھی بھر افراد کو وہ طاقت بخش دی کہ انھوں نے ہمیں ہماری ہی سرزمین پر شکست دے دی۔ ہم اس ضمن میں اپنے حکمرانوں کی سیاسی غلطیوں، فوجی کمزوریوں اور انتظامی ناکامیوں پر غور کرنے کے بجائے ان کے شاندار دربار، ان کے شاہانہ جلوس اور جنون کی حد تک پہنچی ہوئی ان کی شاہ خرچیوں کا ذکر نہایت فخر سے کرتے ہیں۔

معروضی حقیقت یہ ہے کہ 1857 میں دلی کے سقوط کا آغاز، اس سانحے کے رونما ہونے سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ مغلوں کے زوال کی تمام ذمے داری عموماً مرہٹوں اور انگریزوں پر ڈال دی جاتی ہے لیکن ایسا کرنے والے اس حقیقت سے آنکھ بند کرلیتے ہیں کہ اورنگ زیب نے جنوب کی مسلمان ریاستوں پر مسلسل لشکر کشی کے شوق میں مغل خزانہ خالی کردیا تھا۔ اس کے بعد زوال آمادہ مغل سلطنت کو اپنی بنیادوں سے ہلا دینے میں نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔ یاد رہے کہ دونوں مسلمان تھے۔

1757 میں پلاسی کے مقام پر سراج الدولہ کو جو شکست ہوئی اور برطانوی سامراج جس طور مستحکم ہوا، اس کی تمام ذمے داری میر جعفر کی غداری کے سر ڈال کر ہم اپنے دل کو تسکین دیتے ہیں لیکن اس تاریخی حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ اس شکست کے صرف سات برس بعد 1764میں بکسر کے مقام پر نواب بنگال میر قاسم، نواب شجاع الدولہ اور شہنشاہ ہند شاہ عالم ثانی کے لشکر جرار اور ان کی متحدہ قوتوں کو انگریزوں نے مٹھی بھر برطانوی افسروں اور چند ہزار کرائے کے سپاہیوں کی مدد سے شکست فاش دے کر یہ ثابت کردیا تھا کہ ہندوستانی سلطنت کے دن گنے جاچکے اور ہمارے پاس انگریزوں کے مقابلے کا کوئی بھی جرنیل نہیں۔

1857 کی جنگ آزادی کی مکمل ناکامی کی وجوہ جاننے کے لیے ہمیں ان عمومی رویوں کا جائزہ لینا ہوگا جو صدیوں سے ہمارے مشرقی سماج کا روزمرہ ہیں۔ اس بارے میں آہ و زاری کرتے ہوئے ہمیں اس معاملے کو اس کے آغاز سے دیکھنا چاہیے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنی آزادی اور خودمختاری کو کن عیش کوشیوں کے عوض غیروں کے ہاتھوں گروی رکھتے آئے ہیں۔

تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ ہندوستان جس کے مسلمانوں اور ہندوؤں، دونوں ہی نے اپنی عورتوں کو پس دیوار رکھا، اسی ہندوستان کی قسمت کے بنیادی فیصلے دو عورتوں نے کیے۔ برصغیر سے تجارت کا فرمان ملکہ الزبتھ اول کے نوک قلم سے نکلا اور اس کی غلامی پر مہر تصدیق ملکہ وکٹوریہ نے ثبت کی۔ ملکہ الزبتھ اول نے 31 دسمبر 1599 کو لندن کے چند تاجروں کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے یہ اجازت دی کہ وہ دی آٹریبل ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے ایک تجارتی ادارہ قائم کرسکتے ہیں اور ہندوستان سے تجارت کا آغاز کرسکتے ہیں۔

ہم مغل ہندوستان کے جاہ و جلال اور شان و شکوہ پر نظر ڈالتے ہوئے جب دوسری اقوام کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو وقایع نگار ہمیں بتاتے ہیں کہ 1599سے ایک سو سات برس پہلے 1492 میں نو آبادیاتی نظام کا آغاز ہوچکا تھا اور تمام مغربی اقوام شاندار مہمات میں مصروف تھیں۔ ان مہمات کا مقصد نئی سرزمینوں پر اپنا فوجی تسلط قائم کرنا اور سمندری راستوں کے ذریعے ساری دنیا سے تجارت کرنا تھا۔

ایک طرف ان کے تجارتی بحری بیڑے دنیا کے سات سمندروں کی سیاحی کررہے تھے تو دوسری طرف ان کے بڑے بڑے شہروں میں بینک اور چیمبر آف کامر س قائم ہورہے تھے۔ مارسیلز میں پہلے چیمبر آف کامرس کی داغ بیل پڑتی ہے۔ 1600میں ایمسٹرڈم بینک قائم ہوتا ہے۔ 1600 میں ہی ستر ہزار پونڈ کے خطیر سرمائے سے ایسٹ انڈیا کمپنی وجود میں آتی ہے۔ یورپ میں بینکاری نظام اس تیزی سے ترقی کرتا ہے کہ 1608 میں ''چیک'' سے لین دین رائج ہوتا ہے اور 1610 میں ایسٹ انڈیا کمپنی پہلی مرتبہ ''شیئر'' (حصص) کا اجراء کرتی ہے۔

افراد مہم جوئی پر نکلتے ہیں اور لندن سے جاپان جا پہنچتے ہیں۔ 1600 میں ایک انگریز انجینئر اور جہاز راں ولیم ایڈمز ٹوکیو (پرانا نام یدو) پہنچتا ہے۔ اس وقت کے شہنشاہ جاپان کے دربار میں صنعت جہاز سازی کا مشیر و نگراں مقرر ہوتا ہے اور جاپانیوں کے لیے ترقی کی راہیں کھولتا ہے۔ ایجادات کی رفتار تیز ہوجاتی ہے اور 1600 میں ہی ایک طرف پرتگیزی ٹیلسکوپ ایجاد کرتے ہیں اور دوسری طرف جرمن میجک لینٹرن۔ غرض زندگی کے ہر شعبے میں سارا یورپ ایک ہماہمی، ایک سرشاری اور مہم جوئی میں مبتلا ہے۔

اب اگر ہم اسی زمانے میں اپنی تاریخ کی ورق گردانی کریں تو شہنشاہ اکبر ہندوستان سے باہر اپنے تجارتی جہاز بھیجنے کے بجائے اپنے نافرمان ولی عہد شہزادہ سلیم سے لڑائیاں لڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ ادھر جرمنی میں اور مغرب کے دوسرے ملکوں میں روزنامے اشاعت پذیر ہورہے ہیں، عوامی شعور کو بیدار کررہے ہیں۔

سائنس اور کلیسا کے درمیان ہونے والی لڑائی میں اخبار سائنس اور خرد افروزی کا ساتھ دے رہے ہیں، یورپ میں دانشوروں اور سائنسدانوں کی سرپرستی ہورہی ہے اور ہمارے یہاں 1601 میں شہنشاہ اکبر کا اکلوتا بیٹا اور چہیتا ولی عہد، اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم اور دانشور، شیخ ابوالفضل کو قتل کراتا ہے، باپ کی ناراضگی مول لیتا ہے اور پھر اپنی توزک میں اس قتل پر فخر کا اظہار کرتا ہے۔

1610 میں برصغیر کا شہنشاہ جہانگیر نیل گائے اور شیر کے شکار میں مصروف تھا اور عین اسی وقت ہندوستان کی سرزمین پر قدم جمانے کے لیے اور تجارتی کوٹھیاں قائم کرنے کے لیے انگریزوں اور پرتگیزی فوجوں اور بحریہ میں لڑائیاں ہورہی تھیں اور مغل شہنشاہ کو اس کی پروا نہ تھی کہ اس کی مملکت میں دوسری قوموں کے فوجی کیا کررہے ہیں اور ایک دوسرے سے دست و گریباں کیوں ہیں؟

(جاری ہے)

مقبول خبریں