جماعت اسلامی اور خواتین

دائیں بازو کی قدامت پرست جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ میں 10 خواتین شامل کرلی گئیں۔


Dr Tauseef Ahmed Khan May 04, 2016
[email protected]

ISLAMABAD: دائیں بازو کی قدامت پرست جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ میں 10 خواتین شامل کرلی گئیں۔ ان خواتین کا انتخاب خواتین ارکان نے کیا تھا۔ ان خواتین کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا۔ جماعت اسلامی پر تحقیق کرنے والے پروفیسر سعید عثمانی کا کہنا ہے کہ جماعت میں 1957میں بلدیہ کراچی کے انتخابات میں خواتین کونسلروں پر امیدوار اس بنا پر کھڑا کرنے سے انکار کیا تھا کہ یہ غیر اسلامی عمل ہوگا ۔ یوں شوریٰ کا یہ فیصلہ جماعت اسلامی کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کہی جا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی 1941ء میں قائم ہوئی۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جماعت کے بانی تھے۔ اگرچہ جماعت اسلامی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی بالادستی رہی مگر گزشتہ 73 برسوں میں جماعت کی فیصلہ سازی کے ادارے میں خواتین کی نمایندگی نہیں تھی، لہٰذا جماعت اسلامی کی شوریٰ میں خواتین کی شمولیت خواتین کی بہبود کے لیے سوچنے والوں کے لیے ایک خوشگوار خبر ہے۔ جماعت اسلامی کی اس کے قیام کے بعد پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو بہت سی تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔

جماعت اسلامی نے تحریک پاکستان میں حصہ نہیں لیا تھا۔ جماعت اسلامی پر پاکستان مخالفت کا الزام لگتا ہے اور اس الزام کی حمایت میں مولانا مودودی کی کچھ تحریریں پیش کی جاتی رہی ہیں مگر جماعت کے رہنماؤں کا یہ مؤقف رہا کہ وہ پاکستان کے قیام کے حامی تھے مگر مسلم لیگ کی قیادت کی پالیسیوں سے اختلاف تھا مگر پاکستان کے قیام کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت میں جماعت اسلامی زیرِ عتاب آگئی اور جواب میں مولانا مودودی نے لیاقت علی خان حکومت کی پالیسیوں کو اخبارات میں شایع ہونے والے آرٹیکلز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کے حامی مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے آرٹیکلز میں جماعت پر شدید تنقید کی ۔

اخبارات میں شایع ہونے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے کمیونسٹ پارٹی، جماعت اسلامی اور دیگر مخالف جماعتوں نے ایک یادداشت پر اتفاق کیا تھا۔ جب فیض احمد فیض کو راولپنڈی سازش کیس میں ملوث کر کے پابندِ سلاسل کیا گیا تو فیض صاحب کی گرفتاری کی مذمت کرنے والوں میں مولانا مودودی بھی شامل تھے۔ بعض محققین نے یہ بھی لکھا ہے کہ مولانا شبیر عثمانی نے قراردادِ مقاصد کی تیاری میں مولانا مودودی سے مشاورت کی تھی۔ جماعت اسلامی نے ایوب خان کے مارشل لاء کے خلاف متحدہ جماعتوں کے اتحاد میں شمولیت اختیار کی اور جب اپوزیشن جماعتوں نے قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی امیدوار نامزد کیا تو مفتی محمود سمیت کئی علماء نے اس کو غیر اسلامی قرار دیا مگر مولانا مودودی نے فاطمہ جناح کی بھرپور حمایت کی تھی۔

جماعت اسلامی نے ابتدائی طور پر صوبائی خودمختاری کی مخالفت کی، یوں وہ بنگالی و سندھی زبانوں کو قومی یا صوبوں کی زبانیں قرار دینے کی مخالفت میں رہی اور ہمیشہ ایک ملت کا نعرہ لگاتی رہی۔ جو قوم پرست رہنما صوبائی خودمختاری کے لیے آواز بلند کرتے تھے جماعت نے انھیں غدار تک قرار دیا اور ان پر بھارتی اور روسی ایجنٹ ہونے کے الزامات لگائے۔

اسی طرح جماعت اسلامی 90ء کی دہائی تک امریکا اور سعودی عرب کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی رہی۔ بعض مخالفین نے جماعت پر سعودی عرب کے توسط سے امریکا سے مالیاتی امداد لینے کے الزامات بھی لگائے۔ جماعت اسلامی نے ایشیائی ممالک میں امریکی جارحیت کی کبھی مذمت نہیں کی تھی۔

جماعت اسلامی کے سابق رکن اور معروف صحافی ارشاد احمد حقانی نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ 60ء کی دہائی میں شوریٰ میں امریکا کی مذمت کے بارے میں ایک قرارداد پیش ہوئی تھی مگر یہ قرارداد اراکین کی توجہ حاصل نہ کرسکی۔پروفیسر سعید عثمانی کا کہنا ہے کہ جماعت نے سینٹو سیٹو میں شمولیت کی مخالفت کی تھی۔ جماعت اسلامی نے 70ء کے انتخابات میں سوشلزم کے مقابلے میں ذاتی ملکیت کے تحفظ کا نعرہ لگایا تھا اور ریاست کے صنعتوں، تعلیمی اداروں کو قومیانے کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ اسی طرح جماعت اسلامی نے کبھی بھی زرعی اصلاحات کو اپنے ایجنڈا میں شامل نہیں کیا تھا؟ مگر وقت کے ساتھ جماعت اسلامی کی پالیسیوں میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے صوبائی خودمختاری کا جو تصور پیش کیا وہ قوم پرست جماعتوں کے تصور کے برابر تھا۔ انھوں نے بلوچستان میں ہونے والے مظالم کی مذمت کی اور بلوچستان کے حالات کا ذمے دار وفاق کو قرار دیا۔ نواب اکبر بگٹی کے خلاف فوجی آپریشن کی مذمت کی ۔اندرونِ سندھ سندھی زبان کو رابطے کی زبان بنایا۔ جماعت کی اس پالیسی کے تحت سینیٹ میں جماعت اسلامی کے اراکین پروفیسر خورشید احمد اور پروفیسر غفور 18ویں ترمیم کی حمایت پر تیار ہوئے۔ جماعت اسلامی پر تحقیق کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی افغان جنگ میں شامل ہوئی۔ جماعت کے افغان مجاہدین خاص طور پر حکمت یار سے قریبی تعلقات تھے۔

بعض ناقدین جنرل ضیاء الحق حکومت اور جماعت اسلامی سے تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے جنرل ضیاء الحق حکومت سے ادارہ جاتی فائدے حاصل کیے۔ مگر افغان جنگ ختم ہونے کے بعد جماعت کا کردار محدود ہوگیا۔ جماعت اسلامی کے اندرون معاملات سے واقفیت رکھنے والے یہ کہنے لگے ہیں کہ جماعت اسلامی کو افغان جہاد میں شمولیت کے عوض جنرل ضیاء الحق کی حمایت مہنگی پڑی اور اس کا جمہوری تشخص متاثر ہوا۔ 90ء کی دہائی میں امریکا اور سعودی عرب کے عراق پر حملے کے بعد جماعت اسلامی کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی ہوئی۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے عراق پر حملے کی مخالفت کی، یوں جماعت پہلی بارسعودی عرب سے فکری طور پر دور ہوئی ۔

جماعت اسلامی نے 90ء کی دہائی سے مزدور کسان تنظیموں اور مظلوم طبقات کے لیے بھرپور آواز اٹھانا شروع کی اور ایک موقعے پر اپنے نظریاتی مخالفین کے ساتھ ملک گیر اتحاد بھی بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت قومی اداروں کو فروخت کرنے اور انھیں نجی تحویل میں دینے کی شدید مخالف ہے۔ جماعت اسلامی کا ترجمان اخبار واحد اخبار ہے جو اب بھی مزدوروں کا صفحہ شایع کرتا ہے اور یوم مئی پر مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے پرجوش مضامین شایع ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے یوم مئی کے موقعے پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر قلیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور سرخ عمامہ باندھا تھا۔ جماعت اسلامی کی ذیلی مزدور انجمنیں کے ای ایس سی، پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں۔

پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف جب پی آئی اے کے ملازمین نے کراچی ایئرپورٹ پر احتجاجی جلوس نکالا تو فائرنگ سے شہید ہونے والے ایک کارکن جماعت اسلامی کے رکن تھے۔ جماعت اسلامی کے انتخابی نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ جماعت کے گزشتہ انتخابات اگرچہ ''کلوز ڈور ''تھے مگر پہلی دفعہ امیدواروں کے ناموں کے ساتھ ان کو حاصل ہونے والے ووٹوں کے بارے میں پریس ریلیز میڈیا میں شایع ہوئی۔

یہی وجہ ہے کہ ایک غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ نے جماعت اسلامی کو جمہوری جماعت کے پہلے درجے پر فائز کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ خواتین کی بہبود کے لیے بنائے جانے والے قوانین کی مخالفت کی ہے۔ جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کے دور کے متنازعہ آرڈیننس میں کسی بھی تبدیلی کی مخالف ہے۔ اسی طرح جماعت نے پنجاب میں نافذ ہونے والے قوانین کو اسلام کے خلاف قرار دیا ہے۔ اس قانون کے خلاف مہم چلانے والوں میں جماعت کی خاتون رہنما بھی شامل ہیں۔ جماعت اسلامی آئین کی بالادستی پر خصوصی طور پر زور دیتی ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے غیر قانونی راستوں، خاص طور پر مسلح جدوجہد کی حامی نہیں ہے۔ اسی بناء پر انتہاپسند نوجوانوں کے لیے اب جماعت اسلامی میں کشش کم ہوگئی ہے۔

دوسری طرف جمہوری نظام پر یقین رکھنے والے جوانوں کو عمران خان میں کشش نظر آتی ہے۔ وہ عمران خان کے حامیوں میں خواتین کی شرکت اور موسیقی کے استعمال کو سیاسی ابلاغ کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت کراچی اور لاہور کے شہری علاقوں میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھی ہے مگر جماعت اسلامی جمہوری نظام پر یقین رکھنے والے دائیں بازو سے متاثر متوسط طبقے کی جماعت ہے۔

جماعت کی پالیسیوں میں گزشتہ 73 برسوں کے دوران آنے والی تبدیلیوں کے بعد یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شوریٰ میں خواتین کی شمولیت نے اراکین کی خواتین کے حالات کار کی تبدیلی کے بارے میں خیالات تبدیل ہوں گے۔ اس سلسلہ میں جب جماعت کے مرکزی رہنما سے پوچھا گیا کہ جماعت اسلامی اب ایک لبرل جماعت ہونے جارہی ہے تو انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے اسلامی جمہوری پروگریسو جماعت رہی ہے۔ اب جماعت اسلامی نے پاکستان کی تاریخ میں سیاسی عمل سے سیکھا ہے کہ ترقی پسندی کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ اُمید رکھنی چاہیے کہ خواہ تاخیر سے سہی جماعت اسلامی جمہوری پروگریسو ازم کی جانب بڑھ رہی ہے۔