متبادل ایجنڈا
ہماری سیاست کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ حزب اختلاف کسی نہ کسی بہانے حکومت کو گرانے کی کوشش کرتی ہے
ہماری سیاست کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ حزب اختلاف کسی نہ کسی بہانے حکومت کو گرانے کی کوشش کرتی ہے اور برسر اقتدار طبقہ ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹا رہنا چاہتا ہے۔ اقتدار کی مسند پر براجمان رہنے کے لیے حکمران طبقہ ''مینڈیٹ'' کو ایک مستند سرٹیفکیٹ کے طور پر پیش کرتا ہے اور یہ بات بھول جاتا ہے کہ اس نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیا کیا وعدے کیے تھے۔
ترقیاتی کاموں کی پروپیگنڈا مہم اس زور و شور سے چلائی جاتی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے سارے وعدے اس ترقیاتی پروپیگنڈے کی دھند میں غائب ہوجاتے ہیں۔ یہ ہمارے میڈیا کی ذمے داری ہے کہ وہ حکمرانوں کو ان کے وعدے یاد دلانے کے لیے انتخابی مہم کی ریکارڈنگ بار بار پیش کرے تاکہ اس کی روشنی میں حکمرانوں کو اپنا چہرہ دیکھنے کا موقع ملے۔ ہم ان حوالوں سے موجودہ حکومتوں کے تمام انتخابی وعدوں کا ذکر تو نہیں کریں گے، البتہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کے حوالے سے حکمرانوں کے وعدوں کی یاد دہانی ضرور کریں گے۔
انتخابی مہم کے دوران حکمران جماعت کے رہنماؤں نے چند ماہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے بار بار وعدے کیے تھے لیکن یہ چند ماہ تین سال سے گزر کر اب 2018 تک پہنچ گئے ہیں اور اگر عوام کی بدقسمتی سے حکمران اگلی انتخابی مہم چلانے کی سعادت حاصل کریں تو بجلی کی لوڈشیڈنگ یوں ہی برقرار رہے گی اور وعدوں کی تکرار حسب سابق جاری رہے گی۔
مغربی ملکوں میں انتخابات لڑنے والی جماعتیں عوام کے سامنے جو منشور پیش کرتی ہیں اور عوام سے جو وعدے کرتی ہیں، اسے عوام اپنے ذہنوں ہی میں نہیں رکھتے بلکہ کاغذوں پر بھی لکھ کر رکھتے ہیں اور حکمران طبقات اگر اپنے وعدے پورے نہ کریں تو ان سے حق حکمرانی چھین لیتے ہیں۔ ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ ہر علاقے کے نمایندوں کو ہمہ وقت عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے اور وعدوں کی عدم تکمیل پھر عوام کے ہاتھ اپنے نمایندوںکے گریبانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ عوامی احتساب کا یہی خوف حکمرانوں کو وعدے پورے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس قسم کی وعدہ خلافی پاکستان کی جمہوری تاریخ میں نئی نہیں ہے بلکہ یہ وعدہ فراموشی حکمرانوں کی روایت بن گئی ہے، ان وعدہ خلافیوں کے باوجود ڈٹ کر حکومتیں چلانا اور مزید جھوٹے وعدے کرنے کا کلچر ہمارے ملک میں اس لیے مستحکم ہوگیا ہے کہ عوام اپنے منتخب نمایندوں کا احتساب کرتے ہیں نہ منتخب نمایندے ان کی پہنچ میں رہتے ہیں۔ اس حوالے سے دھاندلی اور بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ ہر علاقے کے منتخب نمایندے اگلے انتخابات تک عوام کی آنکھوں سے اسی طرح غائب رہتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب رہتے ہیں۔
اس دوران منتخب نمایندوں کی سب سے بڑی مصروفیت انتخابی فنڈ کا حصول ہوتی ہے کیونکہ ہمارے عوام احتساب کے نام ہی سے واقف نہیں۔ لہٰذا حکمران بڑی بے فکری سے ترقیاتی فنڈ، جو کروڑوں روپوں پر مشتمل ہوتا ہے، کا کونڈہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ بدترین اور مایوس کن صورتحال کا مستقل اعادہ اس لیے بھی ہوتا ہے کہ ملک میں کوئی بھی ایسا ادارہ موجودہ نہیں جو حکمرانوں کی وعدہ خلافیوں کا نوٹس لے۔ اس بدترین صورتحال کا فوری ازالہ اس لیے ممکن نہیں کہ عوام سیاسی شعور سے محروم ہیں۔
اس قسم کی صورتحال کو کنٹرول کرنے اور سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں پر اپنے وعدے وفا کرانے کا ایک ہی طریقہ نظر آتا ہے کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کے منشور اور وعدوں کی مانیٹرنگ کے لیے ایک ایسا آزاد اور خودمختار ادارہ تشکیل دیا جائے جو حکمران جماعتوں کے منشور اور وعدوں کی مانیٹرنگ کرے اور ایک معینہ مدت کے اندر حکمران جماعت کی اپنے منشور میں ناکامی کی صورت میں اسے برطرف کرکے نئے انتخابات کرانے کا اہتمام کرے۔ اگر اس لائحہ عمل پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے تو یہ امید پیدا ہوسکتی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما اقتدار میں آکر اپنے منشور اور انتخابی وعدوں پر عملدرآمد کے لیے مجبور ہوں۔
اس حوالے سے دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ متحرک حزب اختلاف، حکومتوں کی کمزوریوں کے خلاف بڑی بڑی تحریکیں تو چلاتی ہے اور بعض وقت حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتی ہے لیکن اس کا نتیجہ اقتدار کا ایک ہاتھ سے نکل کر دوسرے ہاتھوں میں جانے کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔ 1977 میں بھٹو کے خلاف پاکستانی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی تحریک چلی، لیکن اس کا انجام کیا ہوا؟ ایک سویلین حکومت کی جگہ ایک فوجی حکومت نے لے لی اور قوم 11 سال تک ایک فوجی آمر کو بھگتنے پر مجبور ہوگئی۔ اگر اس وقت کی حزب اختلاف حکومت کے خاتمے کی صورت میں اپنا ایجنڈا اپنا منشور پیش کرتی تو عوام کی اس تحریک میں شرکت بھی بامعنی ہوجاتی اور عوام کسی آمر کو اپنے سر پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔
2014 میں اتنی موثر تحریک چلائی گئی کہ اگر تحریک چلانے والے پلاننگ کے ساتھ یہ تحریک چلاتے اور حکومت کے خاتمے کے بعد عوامی مسائل کے حوالے سے ایک ایجنڈا پیش کرتے تو ملک کی خاموش اکثریت بھی اس تحریک کا حصہ بنتی اور حکمرانوں کے لیے حکومت چھوڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا۔ پانامہ لیکس کے انکشاف کے بعد اگرچہ سیاسی ہلہ گلہ اور نعرے بازی ہو رہی ہے لیکن عوام اس سے اس لیے لاتعلق ہوگئے ہیں کہ وہ بجا طور پر یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر بفرض محال تحریک کامیاب ہو بھی گئی تو سوائے اقتدار کی تبدیلی کے عوام کو کچھ نہیں ملے گا۔
اس مایوس کن صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے آیندہ کے لیے عوام کے سامنے اپنا عوامی ایجنڈا پیش کریں اور عوام کو یہ تحریری یقین دہانی کرائیں کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو مہنگائی کی روک تھام، بے روزگاری کے خاتمے، بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ، کرپشن کے طوفان کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کریں گے۔ اگر تحریک کا مقصد ایک ڈاکو کی جگہ دوسرے ڈاکو کو اقتدار میں لانا ہی ہو تو عوام اس قسم کی بے مقصد سیاسی مفادات کی تحریک کا ہرگز حصہ نہیں بنیں گے۔