عزت یا اقتدار

خودداری ایک بہت بڑا انسانی وصف ہے خوددار انسان اپنی عزت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے


Zaheer Akhter Bedari May 07, 2016
[email protected]

انسانی تاریخ اقتدار کی جنگوں سے بھری ہوئی ہے، اقتدار حاصل کرنے، اقتدار میں رہنے کی خواہش انسان کو اس قدر اندھا کر دیتی ہے کہ خونی رشتے بھی اس اندھی خواہش کی نظر ہو جاتے ہیں، بادشاہ شہنشاہ راجے مہاراجے اقتدار کی خواہش میں اس قدر اندھے بنتے رہے کہ بیٹا باپ کو باپ بیٹے کو، بھائی بھائی کو اقتدار کی بھینٹ چڑھاتا رہا، دور سلاطین کے خاتمے کے بعد وراثتی اقتدار کا خاتمہ ہو گیا اور اقتدار کے لیے قتل و غارت کا سلسلہ تھم گیا لیکن اسے ہم مسلم ملکوں کی بد قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ آج بھی کہیں بادشاہتیں موجود ہیں تو کہیں جمہوریت کے نام پر بادشاہوں کا سلسلہ جاری ہے۔

خودداری ایک بہت بڑا انسانی وصف ہے خوددار انسان اپنی عزت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے لیکن اقتدار کے اندھوں کے نزدیک اقتدار کے سامنے عزت کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، پاکستانی حکمرانوں میں ایوب خان کے اقتدار کو آہنی اقتدار کہا جاتا ہے لیکن 1968ء میں ایک وقت ایسا آیا کہ یہ آہنی اقتدار سڑکوں پر بچوں کا کھیل بن کر رہ گیا، خواہش اتنی شدید تھی کہ ایوب خان اپنی عزت کے جنازے سڑکوں پر اٹھتے دیکھتے رہے لیکن ٹس سے مس نہیں ہوئے، آخر امن و امان کی صورت اس قدر بگڑ گئی کہ ایوب خان کو عہدہ صدارت سے الگ ہونا پڑا۔

اقتدار کی خواہش انسان کو کس قدر احسان فراموش اور وحشی بنا دیتی ہے اس کی ایک زندہ مثال ضیا الحق کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو جب چیف آف آرمی اسٹاف کی نامزدگی کا مرحلہ پیش آیا تو انھوں نے سینئر جنرلز کو نظر انداز کر کے جونیئر ضیا الحق کو چیف آف آرمی اسٹاف یعنی فوج کا سربراہ نامزد کر دیا اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بھٹو نے ضیا الحق میں تابعداری اور اطاعت کے جوہر دیکھے۔

کہا جاتا ہے کہ ضیاء الحق بھٹو کے اس قدر وفادار اور قابل اعتبار جنرل تھے کہ اپنے عہدے کا خیال کیے بغیر بھٹو کے گھریلو معاملات کی بھی دیکھ بھال کرتے تھے لیکن 1977ء میں جب 9 ستاروں نے بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور یہ تحریک شدت پکڑتی چلی گئی تو بھٹو کے اس یار وفادار کے دل میں حصول اقتدار کی خواہش انگڑائیاں لینے لگی اور عین اس وقت جب بھٹو اور اپوزیشن کے درمیان سمجھوتہ ہونے جا رہا تھا ، ضیا الحق نے اپنے محسن کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

ضیا الحق نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ ایک قتل کے کیس میں بھٹو کو ملوث کر کے انھیں پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا۔ اقتدار کی ہوس کی یہ ایک ایسی شرمناک داستان ہے جس سے حکمرانوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے اور عبرت پکڑنا چاہیے لیکن واہ رے اقتدار آج بھی حکمران اپنی عزت و احترام کو اپنے ہی پاؤں میں روند کر اقتدار سے چمٹے رہنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

2014ء میں جب عمران خان اور طاہر القادری نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو 'گو نواز گو' کا نعرہ بلند کیا اور یہ نعرہ اس قدر عام ہوا کہ ملک کے گلی کوچے سے گو نواز گو کی آوازیں سنائی رہنے لگیں۔ لیکن میاں صاحب نے ان نعروں کو کوئی اہمیت نہ دی اور اقتدار پر جمے رہے، اس بھونچال میں میاں صاحب کی حکومت لڑکھڑانے لگی لیکن یہ بھونچال عمران خان اور طاہر القادری کی بچگانہ سیاست کی وجہ سے پر امن طریقے سے گزر گیا اور میاں صاحب نے سکھ کا سانس لیا۔

پانامہ لیکس اسکینڈل نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا رکھا ہے بے شمار شرفا اس کی زد میں ہیں، آف شور کمپنیوں کی داستانیں ساری دنیا میں پھیل رہی ہیں۔ دنیا کے ہزاروں سرمایہ دار ٹیکس بچانے اور منی لانڈرنگ کے لیے ان کمپنیوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ مہذب دنیا میں ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کو بد ترین جرم مانا جاتا ہے۔ اب تک تین سربراہ حکومت جو اپنی عزت کو اپنی حکومت پر ترجیح دیتے ہیں اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں، بھارت، سری لنکا سمیت کئی ملکوں میں پانامہ لیکس کے حوالے سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو پارلیمنٹ کے سامنے اپنا ٹیکس حساب پیش کرنا پڑا اور آف شور کمپنی کی وضاحت کرنی پڑی۔ اس حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ آف شور کمپنیاں بنی ہی ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے لیے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں کے مالکان کے خلاف تحقیق کی کیا ضرورت ہے۔

تحقیق کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں مسئلہ مشتبہ ہو یہاں تو کوئی ابہام ہی نہیں ہے سب یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کمپنیوں کی تشکیل کا مقصد ہی منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری ہے جب بات اس قدر واضح ہے تو پھر تحقیقات کی کیا ضرورت ہوتی ہے، آف شور کمپنیوں کے مالک منطقی طور پر گلٹی بن جاتے ہیں اور ان کا احتساب ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ اگر تحقیق ہونا ضروری ہے تو اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے کہ آف شور کمپنیاں کیوں بنائی گئیں اور اس پلان کے موجد کون ہیں۔

پاکستان میں وزیراعظم کے دو بیٹوں نے قبول کر لیا ہے کہ ان کی آف شور کمپنیاں بھی ہیں اور بیرون ملک ان کی اربوں ڈالر کی جائیداد بھی۔ اس انکشاف کے بعد پاکستان کی اپوزیشن وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے اور گو نواز گو کے نعرے بلند ہو رہے ہیں، نواز شریف اس اسکینڈل میں براہ راست نہ سہی بالواسطہ ملوث ہو گئے ہیں۔ دنیا کہہ رہی ہے کہ نواز شریف کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں اب مسئلہ عزت یا اقتدار کا بن گیا ہے فیصلہ میاں صاحب کو کرنا ہے۔

مقبول خبریں