راشد کی یاد میں

راشد رحمن دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ ان کے قتل کو 7 مئی کو 2 سال ہو جائیں گے


Dr Tauseef Ahmed Khan May 07, 2016
[email protected]

راشد رحمن دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ ان کے قتل کو 7 مئی کو 2 سال ہو جائیں گے مگر پولیس ان کے قاتلوں اور سہولت کاروں کا پتہ نہیں لگا سکی۔ راشد رحمن کی ہمشیرہ نے سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی توجہ راشد کیس پر مبذول کرائی تھی مگر ملتان پولیس کے افسروں نے ایک طے شدہ بیان پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا اور باقی دو لاپتہ ہیں، یوں سینیٹ کمیٹی کے سامنے معاملے کو داخلِ دفتر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

راشد رحمن جنوبی پنجاب میں مظلوم طبقات کی آواز بنے۔ راشد ویسے توغیر سرکاری تنظیم انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی ٹاسک فورس کے کوآرڈینیٹر تھے اور ان کا بنیادی کام عدالتوں میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنا تھا مگر راشد نے اپنے والد بائیں بازوکے رہنما اشفاق احمد خان اور دادا عبدالرحمن ایڈووکیٹ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے آپ کو محض عدالتی معاملات تک محدود نہیں رکھا تھا بلکہ جنوبی پنجاب میں جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں اطلاع ملتی وہ وہاں پہنچ جاتے تھے۔

گزشتہ 25 برسوں کے دوران ملتان کے علاوہ بہاولپور، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان اور ملحقہ علاقوں میں کبھی بھٹہ مزدور پر تشدد ، کبھی لڑکی کوکاری قرار دے کر قتل کرنے کا معاملہ ہو یا کسی شہر،گاؤں میں کوئی فرد پولیس تشدد کا شکار ہو تو راشد کو محض اطلاع ہونی چاہیے وہ اس مظلوم کی مدد کے لیے پہنچ جاتے، پولیس اور متعلقہ ادارے راشد سے ناراض رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ مختاراں مائی سمیت بہت سے افراد راشد کے شکرگزار تھے۔ کچھ افراد نے راشد کو شہیدکر کے کئی افراد کے مقاصد کی تکمیل کر دی۔ راشد نے اپنی زندگی کا آغاز ایک وکیل کی حیثیت سے کیا تھا۔

وہ ابتدائی دنوں میں سول نوعیت کے مقدمات کی پیروی کرتے تھے۔ ان کے والد اشفاق احمد خان اگرچہ پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے تھے مگر راشد نے عملی سیاست میں دلچسپی نہیں لی۔ اس دوران معروف صحافی و دانشور آئی اے رحمن ملتان آئے۔ انھوں نے ملتان میں H.R.C.P کی شاخ قائم کی تو راشد کو انسانی حقوق کے موضوع سے دلچسپی پیدا ہوئی۔

راشد نہ صرف عدالتوں میں مظلوم افراد کے مقدمات کی پیروی کر کے تھانوں میں پولیس کے مظالم کا شکار ہونے والوں کی داد رسی کرنے لگے بلکہ انھوں نے ملتان ڈویژن کے تھانوں کے چکر بھی لگانے شروع کیے، لوگ انھیں ملتان ڈویژن کے باہر بھی بلانے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ راشد مظفر گڑھ، لیہ، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور اطراف کے علاقوں کے مظلوموں کی آواز بن گئے۔ راشد نے مظلوم خواتین کے علاوہ بھٹہ مزدوروں اورکسانوں کے مقدمات کی بھی پیروی کی۔ راشد نے جنوبی پنجاب میں جاگیردارانہ نظام کے بد ترین اثرات کا بخوبی مطالعہ کیا اور بے زمین کسانوں کے بارے میں ایک کتاب بھی تحریر کی۔

راشد وکلاء کی تحریک میں شامل ہوئے، جب 2007ء میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی بحالی کے لیے تحریک شروع کی تو انھوں نے جسٹس افتخار چوہدری کی ملتان آمد کے موقعے پر جلوس اور انتظامیہ کو منظم کیا اور احتجاجی تحریک کو پھیلانے کے لیے خود کوگرفتاری کے لیے پیش کیا۔ پنجاب حکومت نے راشد رحمن کو امتناعی قوانین کے تحت گرفتارکر کے جیل میں بندکر دیا، یہ سخت سردیوں کا زمانہ تھا۔ اٹک جیل میں شدید سردی پڑ رہی تھی۔ راشد کے گھر سے کوئی فرد اٹک جیل نہیں آ سکتا تھا مگر راشد نے جرات اور بہادری سے جیل کا مقابلہ کیا۔

اس جیل میں وکلاء کے رہنما منیرملک بھی نظر بند تھے۔ راشد، منیر ملک اور دیگر لوگ اس جیل سے رہا ہوئے تو سخت بیمار پڑ گئے۔ اس بات کا خدشہ تھا کہ انھیں اٹک جیل میں کوئی زہر ملی چیزکھانے میں دی گئی تھی مگر راشد نے ان باتوں کو اہمیت نہ دی اور پھر افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے ہونے والے لانگ مارچ میںشریک ہو کر اسلام آباد چلے گئے۔

افتخار چوہدری بحال ہوئے، وکلاء رہنماؤں کو سپریم کورٹ میں مقدمات ملنے لگے مگر راشد کی لغت میں اس طرح کے فائدے شامل نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر نے افتخار چوہدری کی ڈاکٹرائن کو چیلنج کیا اور سپریم کورٹ کی صدارت کے لیے امیدوار بن گئیں تو راشد عاصمہ کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ ملتان کے سینئر وکلاء میں اکثریت عاصمہ جہانگیر کی حامی نہیں تھی مگر راشد اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ عاصمہ کی حمایت میں ڈٹ گئے۔ یہ وہ وقت تھا کہ انھیں رجعت پسند وکلاء کے حملوں اور دباؤ کو برداشت کرنا پڑا۔

راشد رحمن یہ سمجھتے تھے کہ جب تک پاکستان کے آئین میں ان شقوں کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا جن کی بناء پر شہریوں کے درمیان امتیاز ہوتا ہے حقیقی جمہوری ریاست کا تصور حقیقت اختیار نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح ان کا خیال تھا کہ خواتین کوکاروکاری اور دیگر مظالم سے بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر قوانین میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔ اسی طرح عام آدمی کو انصاف دلانے کے لیے پولیس اور عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہونگی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ ایک ریاست کا سیکیولر کردار ہی ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔

راشد رحمن نے پاکستان میں پہلی دفعہ ایجوکیشن بجٹ مانیٹرنگ پروجیکٹ پرکام شروع کیا اور ان کے اس کام کو پاکستان بھر میں 100 سے زائد غیر سرکاری ادارے انجام دے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ پنجاب بھرکے سرکاری اسکولوں کی صورتحال کے بار ے میں ایک جامع سروے حکمرانوں کے لیے تشویش کا باعث بنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک سرکاری شعبے میں میرٹ اور شفافیت پر عمل نہیں ہو گا یہ شعبہ عوام کی خدمت نہیں کر سکے گا۔ راشد ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے جنوبی پنجاب میں انتہاپسندوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کی نشاندہی کی تھی مگر اس وقت پنجاب حکومت ان خطروں کو محسوس کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

راشد اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ عام افرادکے سوچنے کے انداز کو تبدیل کرنے میں معاشرے میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ وہ آئینی اور قانونی طریقوں پر یقین رکھتے تھے۔ انھیں ہتھیاروں سے نفرت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انھیں مختلف گروہوں کی دھمکیوں کا سامنا تھا مگر راشد نے کوئی ہتھیار رکھنے اورکسی قسم کے مسلح محافظ اپنے ساتھ رکھنے سے گریز کیا۔ وہ 7 مئی 2014ء کی رات نو بجے کے قریب اپنے دفتر میں نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

ان کے قتل کی صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ، سیاسی رہنماؤں اور حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور امریکا تک نے مذمت کی مگر پھر سب لوگ راشد کے مقدمے اوران کی بوڑھی ماں کو بھول گئے مگر راشد کی بوڑھی والدہ آج بھی پرعزم ہیں۔ راشدہ کی بوڑھی والدہ کو اس سے غرض نہیں کہ ان کے بیٹے کے قاتل گرفتار ہوں مگر ان کی خواہش ہے کہ آیندہ کوئی اور راشد اس طرح جنونی صورتحال کا شکار نہ ہو اور ہر شخص کو انصاف ملے۔