مڈل کلاس کا کردار
انقلابی مفکرین اور انقلابی رہنماؤں نے انقلابی جدوجہد میں مڈل کلاس کے کردارکو بہت اہم قرار دیا ہے
انقلابی مفکرین اور انقلابی رہنماؤں نے انقلابی جدوجہد میں مڈل کلاس کے کردارکو بہت اہم قرار دیا ہے۔ کیونکہ عوام کی بھاری اکثریت سیاسی، معاشرتی اور معاشی شعبوں سے نابلد ہی رہتی ہے۔ کسی بھی انقلابی جدوجہد میں عوام کی شرکت سیاسی شعور سے مشروط ہوتی ہے اور عوام میں سیاسی شعورکی آبیاری کا کام عموماً مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔
ویسے تو جمہوری نظاموں میں عوامی شعورکی بیداری کی ذمے داری سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں پر ہوتی ہے لیکن پسماندہ ملکوں کی جمہوریتوں پر اشرافیہ کے وہ لوگ قابض ہیں جن کا مفاد ہی اس میں ہے کہ عوام جاہل سیاسی شعور سے نابلد اور تابعدار رہیں۔
اس سازش کے ساتھ ساتھ عوام کی اجتماعی طاقت کو منتشر کرنے کے لیے عوام کو اتنے حصوں میں بانٹ دیا جاتا ہے کہ ان کی اجتماعی طاقت نہ صرف پارہ پارہ ہوکر رہ جاتی ہے بلکہ وہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوجاتے ہیں۔ عوام کی تقسیم کی یہ سازش اگرچہ پسماندہ ملکوں میں کامیابی سے جاری ہے لیکن ہمارے ملک کا حال اس حوالے سے اس قدر مایوس کن بلکہ المناک ہے کہ عوامی اتحاد صرف خوابوں کی بات بن کر رہ گیا ہے جن معاشروں میں عوامی تقسیم گہری ہوتی ہے ان معاشروں اور ملکوں میں حکمرانوں کے لیے حکومت کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھٹو وہ پہلا سیاسی رہنما تھا جس نے پہلی بار نہ صرف عوام میں سیاسی بیداری پیدا کی بلکہ ان میں سیاسی شعور کی بھی آبیاری کی، ایوب خان کی فوجی حکومت کے خلاف بغاوت میں بھٹوکی بالواسطہ اور بلا واسطہ کوششوں کا بڑا دخل ہے، اگر بھٹو عوام میں سیاسی شعور نہ پیدا کرتا تو شاید ایوب خان کے خلاف تحریک چلنا اور کامیاب ہونا مشکل ہوتا۔ لیکن اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اہم کام مڈل کلاس نے انجام نہیں دیا بلکہ ملک کے بڑے جاگیردارگھرانے سے تعلق رکھنے والے بھٹو نے انجام دیا۔
پاکستان میں حکمران طبقہ جس کامیابی کے ساتھ حکومت کرتا آرہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ مڈل کلاس کے مصاحبین کا شرمناک کردار ہے۔ بھٹوکے خلاف عوامی تحریک چلانے والی سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کا تعلق مڈل کلاس سے ہی تھا۔ بھٹو نے جن نعروں جن پروگراموں کے حوالے سے عوام میں مقبولیت حاصل کی تھی بھٹو کی یہ بے وفائی بھٹو کے خلاف تحریک کا ایک موثر جواز ضرور تھی لیکن بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد مڈل کلاس کی جماعتوں اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں نے ضیا الحق کی حکومت میں شامل ہوکر مڈل کلاس کو جس طرح رسوا کیا اس کی مثال ہماری سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔
اس سے ملتی جلتی صورت حال مشرف حکومت کے دور میں دیکھی گئی مشرف ایک فوجی جنرل تھا اور اس تناظر میں جمہوریت کے علمبرداروں کا یہ فرض بنتا تھا کہ وہ فوجی حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں لیکن ہماری جمہوریت پسند جماعتوں اور ان جماعتوں میں شامل مڈل کلاس کے رہنماؤں نے نہ صرف اپنی جماعتوں کی خدمات مشرف کو پیش کیں بلکہ ان کی حکومت میں وزرا کے عہدے بھی انجوائے کرتے رہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مڈل کلاس نہ صرف معززومحترم بنے ہوئے ہیں بلکہ موجودہ جمہوری نظام میں ایک متحرک اور محترم کردار بھی ادا کررہے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ ابھی تک ذہنی پسماندگی کے پاتال میں کھڑا ہوا ہے، جس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا جو قیامت خیز سلسلہ جاری ہے ۔ اس میں نہ صنعت کار شامل ہیں نہ جاگیردار نہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مرا بلکہ اس میں انتہائی غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے وہ سادہ لوح نوجوان شامل ہیں جو خودکش حملوں میں اپنے جسم کے چیتھڑے اڑانے کو جنت میں جانے کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ایسی بد ترین زمینی پسماندگی میں مڈل کلاس کی یہ طبقاتی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ ناخواندہ سیاسی اور سماجی شعور سے نابلد عوام میں بیداری پیدا کرنے کی ایک منظم تحریک چلائے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ ہماری مڈل کلاس حکمرانوں کے جرائم پر پردہ ڈالنے، ان کے گناہوں کے جواز پیش کرنے میں اپنی ساری ذہنی توانائیاں صرف کررہی ہے۔
آپ کسی ٹی وی کے ٹاک شو پر نظر ڈالیں حکمران طبقے کے وکیل مڈل کلاسز پر نظر ڈالیں، مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے یہ مصاحبین اس فصاحت و بلاغت کے ساتھ مدلل انداز میں بدنام زمانہ حکمرانوں کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اسی مڈل کلاس مصاحبین عیارانہ کردار کی وجہ سے ہمارا حکمران طبقہ مضبوط بھی ہورہاہے۔ایک زمانہ تھا عوام میں سیاسی اور سماجی بیداری پیدا کرنے کے لیے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشورکارکنوں کی سیاسی تربیت کے لیے اسٹڈی سرکل چلاتے تھے جس میں سیاسی اور سماجی قومی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو ہوتی یوں عوامی شعور کو جلا ملتی لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ بایاں بازو مکمل طور پر جمود کا شکار ہے اور عوام ٹکڑوں میں بٹے ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔
عوامی شعور میں بلندی کا ایک موثر اور ٹھوس ذریعہ میڈیا ہے لیکن ہمارے اشرافیہ کی بلا واسطہ اور بالواسطہ وکالت کرتے دیکھتے ہیں اور یہ وکالت اس فنکارانہ انداز میں کی جاتی ہے کہ ناظرین اور قارئین مڈل کلاس کے ''اسی کردار'' پر سر دھنتے نظر آتے ہیں مڈل کلاس کے یہ وہ کارنامے ہیں جن کے آگے سلاطین کے مصاحبین کے کارنامے ماند پڑ جاتے ہیں۔