انسانی حقوق کے کارکنوں کی اُمید
دُنیا بھرمیں سرکاری تحویل میں تشدد ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے
دُنیا بھرمیں سرکاری تحویل میں تشدد ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، پاکستان میں اقوام متحدہ میں تشدد کے خلاف کنونشن کی 2010 میں توثیق کی مگر برسراقتدار حکومتیں ریاستی تشدد کے خاتمے کے لیے قانون سازی میں ناکام رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھانے، جیل اوردوسرے سیف ہاؤسز تشددکی فیکٹریاں بن گئیں۔ پاکستان سے زیادہ بھارت میں سرکاری تحویل میں قیدیوںپر تشدد ہوتا ہے، بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان میں صورتحال خراب ہے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کے فعال رکن وسیم نوید اورحسن اطہرگزشتہ کئی سالوں سے تشدد کے خلاف قانون بنانے کی تحریک میں متحرک ہیں۔
ان کی کوششوں سے سینیٹ کی وزارت داخلہ سے متعلق کمیٹی نے کئی سال پہلے ایک مسودے کی منظوری دی تھی۔اس مسودے کے تحت سرکاری تحویل میں ہونے والے تشدد کی مختلف شکلوں کی وضاحت کی گئی ہے۔اس قانون کے تحت تشدد کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو زیادہ سے زیادہ عمرقید اور 30 لاکھ روپے جرمانہ، کم سے کم پانچ سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے مگر وزارت داخلہ کی عدم دلچسپی کی بنا پر اب تک قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں یہ بل شامل نہ ہوسکا ۔اس طرح یہ بل قانون کی شکل اختیار نہ کرسکا ۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستارکے کوآرڈینیٹر آفتاب احمد کی ہلاکت کے بعد تشدد کا معاملہ ایک دفعہ پھر میڈیا اورغیر سرکاری تنظیموں کا ایجنڈابن گیا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے آفتاب احمد کی موت کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے فوج کے مخصوص ڈسپلن نظام کے تحت تحقیقات کا فیصلہ کیا۔ ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹرفاروق ستارنے فوج کے سربراہ کی تحقیقات کے فیصلے پر اعتمادکا اظہارکیا۔
کراچی میں گزشتہ دو برس سے پولیس اور رینجرز کا انتہا پسند تنظیموں، سیاسی، لسانی اورفرقہ ورانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کرنے والے گروہوں اغواء برائے تاوان اور سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والے گروہوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔اس آپریشن کے نتیجے میں شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ میں حیرت انگیزکمی ہوئی ہے،گزشتہ سولہ برس کے دوران پہلی دفعہ خبر رساں ایجنسیاں یہ خبر جاری کرتی ہیں کہ آج شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی کوئی واردات نہیں ہوئی۔اس آپریشن کے نتیجے میں پورے شہر میں امن ہواہے اوربالخصوص لیاری میں گینگ وار کی کارروائیاں رُک گئی ہیں اور عام لوگ ان جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں کا احتساب کرنے لگے ہیں، مگر اس آپریشن میں قانون کی بعض خلاف ورزیوں کا خاصا چرچا ہورہا ہے،۔
سرکاری اہلکار مختلف جرائم میں ملوث افراد کوگرفتارکرکے نوے دن کے لیے زیرحراست رکھتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ واقعی کرمنل ہوتے ہیں اور ان کے جرائم اتنے بھیانک ہیں کہ ان کے بارے میں جاننے والے اور ان کے جرائم سے متاثرہونے والوں کو ان افرادکی گرفتاری سے تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگرکچھ بے گناہ بھی پکڑے جاتے ہیں ۔ان بے گناہ افراد کے خلاف ذرایع ابلاغ میں بے سروپا باتیں بیان کی جاتی ہیں، یہ افراد اپنا موقف اس وقت بیان نہیں کرسکتے مگر جب وہ نوے دن بعد با عزت رہا ہوتے ہیں تو انھیں میڈیا پر ہونے والے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض افراد کو تو پولیس کے حوالے کردیا جاتا ہے اور پھر ان لوگوں کی ضمانت ہوجاتی ہے ۔
جیل ، تھانوں اور تفتیشی مراکز میں تشدد اور اموات کی تاریخ یاد رکھنے والے بزرگ بتاتے ہیں کہ ساٹھ کی دہائی میں کمیونسٹ پارٹی کے رہنما حسن ناصرکی شاہی قلعے لاہور میں ہلاکت پر پوری دنیا میں سخت احتجاج ہوا تھا۔ حسن ناصرکوکراچی سے گرفتارکیا گیا تھا اور انھیں کئی ہفتوں تک شاہی قلعے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ حسن ناصر 13نومبر 1960کو قلعے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
کسان رہنما میجر ریٹائرڈ محمد اسحاق نے اس موضوع پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ فیض احمد فیض کو ذرایع سے حسن ناصرکی شہادت کی اطلاع ملی تھی، یوں میجر اسحاق نے لاہور ہائیکورٹ میں حبس بیجا کی یاد داشت داخل کی تھی۔ پولیس نے عدالت میں حسن ناصر کی ہلاکت کو تسلیم کیا اور یہ موقف اختیارکیا تھا کہ حسن ناصر نے اپنے پاجامے کے ازار بند سے خودکشی کرلی ۔ حسن ناصر کی والدہ حیدرآباد دکن سے لاہورآئیں، تو ان کے مطالبے پر ان کے بیٹے کے نام پر جو لاش انھیں دکھائی گئی تھی، وہ کسی اورشخص کی تھی، یوں ایک بوڑھی ماں مایوس ہوکر واپس چلی گئی۔1980میں کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیوروکے رکن اور سندھ نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے صدر نذیر عباسی سرکاری تحویل میں اچانک انتقال کر گئے تھے۔
سرکاری اہل کاروں نے ان کی میت کو عبدالستار ایدھی کے حوالے کیا تھا۔ پولیس کی نگرانی میں نذیر عباسی کی میت کی تدفین سخی حسن قبرستان میں ہوئی تھی۔ انتظامیہ نے اس وقت اپنے جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا تھا کہ نذیرعباسی دل کا دورہ پڑنے کے باعث جاں بحق ہوئے ۔ اس زمانے میں سیاسی سرگرمیاں ممنوع تھیں اوراخبارات پر سنسرشپ عائد تھی ، مگر نذیر عباسی کے قتل پر جنرل ضیاء کی حکومت کو پوری دنیا میں پشیمانی کا سامناکرنا پڑا تھا۔ سیاسی تاریخ میں سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست اورترقی پسند تحریکوں سے وابستہ کئی کارکنوں کی سرکاری تحویل میں ہلاکت کا ذکر ملتا ہے۔
ایم کیوایم خود اپنے کئی درجن کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کا الزام لگاتی ہے مگر اب حالات میں بڑی تبدیلی ہوچکی ہے، فوج کے سربراہ خود اس معاملے کی تحقیقات کرارہے ہیں۔وزیراعظم کا اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ قومی اسمبلی کے اراکین کا فرض ہے کہ سرکاری تحویل میں ہونے والے تشدد کے بارے میں ہونے والے قانون کو فوری طور پر منظورکریں اور اس قانون پر عملدرآمد کے لیے عملی لائحہ عمل تیارکیا جائے تاکہ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کا دنیا بھر میں امیج بلند ہوسکے۔