علی حیدرگیلانی کی 3 سال بعد بازیابی

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدرگیلانی کو اغوا کے 3 سال بعد بالآخر افغانستان سے بازیاب کرا لیا گیا ہے


Editorial May 12, 2016
ہر انسانی جان برابر اہمیت کی حامل ہے اس لیے ملک میں جہاں کہیں شہری لاپتہ ہیں ان کی بازیابی بھی ازحد ضروری ہے۔ فوٹو:ایے ایف پی

ISLAMABAD: سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدرگیلانی کو اغوا کے 3 سال بعد بالآخر افغانستان سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق افغان اور امریکی فورسز نے افغانستان کے صوبہ غزنی میں طالبان کے خلاف آپریشن کے دوران علی گیلانی کو القاعدہ کے ایک ذیلی گروپ کے چنگل سے آزاد کرایا ہے۔ انتہا پسند گروپوں نے اغوا برائے تاوان کو ایک انڈسٹری بنا دیا تھا، ان دہشت گردوں کے افغان کنکشن بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

تاہم افغان اور اتحادی فورسز کی کارروائی قابل تعریف ہے جس کے نتیجے میں علی گیلانی کی بازیابی ممکن ہوسکی۔بیٹے کی بازیابی کی اطلاع ملنے کے بعد ملتان میں یوسف گیلانی کی رہائش گاہ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، وزیراعظم نواز شریف سمیت ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بیٹے کی بازیابی پر مبارکباد دی۔

یقیناً سابق وزیراعظم کے گھرانے کے لیے یہ خوشی کا وقت ہے، جنھوں نے بیٹے کی جدائی میں ایک کٹھن وقت گزارا۔ عبدالقادر گیلانی نے اپنے بھائی کی بازیابی کو پاک فوج کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ علی حیدر کو 9 مئی 2013 کو انتخابی مہم کے دوران ملتان سے اغوا کیا گیا تھا۔ دوران انتخابی مہم علی کے اغوا کو سیاسی حریفوں کی کارروائی قرار دیا گیا تھا لیکن جلد واضح ہوگیا کہ اغواکار کوئی اور ہیں، اور پھر طالبان کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آگئیں۔

کچھ عرصہ پہلے ہی مغوی شہباز تاثیر کو بھی طالبان کی قید سے بازیاب کرایا گیا تھا۔ طالبان نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے سائنسدانوں، ڈاکٹرز، وکلا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو اغوا کرکے تاوان وصول کیا اور بعض کو ہلاک کردیا۔ بڑے پیمانے پر ان اغوا کاروں کے خلاف کارروائی کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایسے عناصر کی بیخ کنی کی جاسکے۔ ہر انسانی جان برابر اہمیت کی حامل ہے اس لیے ملک میں جہاں کہیں شہری لاپتہ ہیں ان کی بازیابی بھی ازحد ضروری ہے۔